60 دن کے ریمانڈ کے بعد بھی شہباز شریف پر کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا،حکومت خود اقتدار میں نہیں رہنا چاہتی:شاہد خاقان عباسی

 60 دن کے ریمانڈ کے بعد بھی شہباز شریف پر کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا،حکومت خود ...
 60 دن کے ریمانڈ کے بعد بھی شہباز شریف پر کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا،حکومت خود اقتدار میں نہیں رہنا چاہتی:شاہد خاقان عباسی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 60 دن کے ریمانڈ کے بعد بھی شہباز شریف پر کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا، حکومت سازشوں کو ایک جانب ڈال کرعوام کے لیےکام کرے کیونکہ ان سے عوامی امیدیں وابستہ ہیں،حکومت سو دن میں کوئی کارکردگی نہ دیکھا سکی،یہ حقیقت ہے کہ حکومت چل ہی نہیں رہی،حکومت صرف منہ بند رکھتی تو حالات آج بہت بہتر ہوتے،حکومت سازشوں کو ایک طرف رکھ کر صرف کام کرے ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اتنی تیزی اور جلدی میں آج تک کوئی حکومت غیر مقبول نہیں ہوئی اور اس کی پاپولرٹی نیچے کی طرف نہیں آئی جتنی تحریک انصاف کی حکومت غیر مقبول ہوئی ہے ،تحریک انصاف کا دفاع کرنے والا کوئی شخص نظر نہیں آئے گا ،اب بلیم گیم سے کام نہیں چلتا ،کام کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فافن کی جانب سے جاری رپورٹ میں انتخابات میں فارم 45 پر دستخط نہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے،انتخابات ہی متنازع تھے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹرن تو ہر کوئی لے سکتا ہے لیکن نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ کا ایک ہی موقف ہے کہ ملک میں آئین کی حکمرانی ہو، ہم تو چاہتے ہیں کہ ملک میں حکومت اپنی آیئنی مدت پوری کرے لیکن یہاں تو اقتدار میں موجود جماعت خود اقتدار میں نہیں رہنا چاہتی۔انہوں نے کہا کہ  60 دن کے ریمانڈ کے بعد بھی شہباز شریف پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا، کیا بابرعوان کا کیس چلایا گیا؟ سب کے لیے ایک معیار ہونا چاہیئے لیکن ایسا نہیں ہے ، نواز شریف اور دوسروں میں فرق کیا جارہا ہے،آرڈننیس کی کیا ضرورت قانون موجود ہے الزامات عائد کرکے ثابت کریں۔انہوں نے کہا کہ  جب وزیراعظم خود کہہ دے کہ قبل از وقت الیکشن کی ضرورت ہے تو اس کا کیا تاثر پڑے گا؟۔ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ  اب بات صرف جنوبی پنجاب میں ہی صوبہ کی نہیں بلکہ ملک میں دیگرصوبوں کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اگر جنوبی پنجاب کی بات ہوگی تو دیگر علاقے بھی آواز اٹھائیں گے، اسی لیے اس معاملے پر بحث ہونی چاہیئے تاکہ کوئی دوسرا علاقہ اعتراض نہ کرے۔

مزید : قومی