نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق

مولانا قا ری محمد سلمان عثمانی

برائے ماہ ربیع الا ول خصوصی ایڈیشن ،ملی ایڈیشن ،مذہبی ایڈیشن جمعہ

حقوق حاصل کرنے کی جنگ

آج دنیا میں ہر آدمی اپنا حق وصول کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بھی بن گئی ہیں تو کہیں حقوق نسواں کی بات ہوتی ہے۔ باپ کہتا ہے میرا حق، اولاد کہتی ہے میرا حق، خاوند بیوی، بہن بھائی، ہر کوئی اپنا حق وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ میں اپنا حق وصول کرنے کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دوں گا۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان یہ محسوس کر لیتا ہے کہ میں اپنا حق وصول نہیں کر پاؤں گا تو کہتا ہے کہ اچھا قیامت کے دن میں ضرور وصول کر کے رہوں گا۔ معاف نہیں کروں گا۔

ایک مثال: غور کرنے کی بات ہے کہ جب انسان نکاح کرتا ہے تو یوں کہتا ہے کہ میں نے قبول کیا۔ صرف یہ لفظ کہہ دینے سے بیوی کی ساری زندگی کی ذمہ داری اس پر آجاتی ہے۔ جیسے بیوی کا نان نفقہ وغیرہ اور اگر کبھی یہ مر جائے تو اس کے مال میں سے بھی بیوی کو حصہ ملے گا۔ یہ سب صرف اس بات سے ہوا کہ اس نے کہا میں نے قبول کیا۔ اب اگر کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہے لاالہ اِلاّاللہ محمدالرسول للہ، تو اس کلمے کے پڑھنے سے اللہ رب العزت اور نبی علیہ السلام کے کتنے حق ہم پر آتے ہیں!حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ہم کہتے ہیں کہ حقوق العباد کی معافی تو بندے سے ہی لینی پڑتی ہے۔عباد یعنی بندوں کے بھی ہم پر حق ہیں، لیکن جو اشرف العباد ہیں، افضل العباد ہیں، انسانوں میں سب سے عظیم ہیں، ان کے حقوق کے بارے میں تو ہم ناواقف ہی ہیں۔ آج اگر مسلمانوں سے پوچھ لیا جائے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کے حقوق بتائیے تو بہت سارے لوگ ان سے ناواقف ہوں گے۔

حضور پاک ﷺ سے محبت کرنا

نبیﷺ کے حقوق میں ایک حق ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا۔ محبت کسے کہتے ہیں؟محبت کہتے ہیں دل میں کسی چیز کی طلب پیدا ہوجانا۔ اس کا دل میں جگہ بنالینا۔ اس کو حاصل کرنے کو دل کرنا۔ اس کے بغیر چین نہ آنا۔ اس کیفیت کو محبت کہتے ہیں۔ جب یہ محبت نبیﷺ سے ہوجاتی ہے تو اس کی تعریف کچھ یوں ہے کہ علماء نے فرمایا کہ محبوب کو بھول نہ سکنے کو محبت کہتے ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ جس کام کو رسول اللہﷺ نے جس طرح فرمایا اسی طرح سے کرنا محبت ہے۔ بعض نے فرمایا کہ حضوراکرمﷺ سے ملاقات کا شوق اور اشتیاق پیدا ہوجانا یہ محبت ہے۔ بہرحال حضوراکرمﷺ سے محبت کرنا خود اللہ کا بھی حکم ہے اور نبی علیہ السلام کا بھی حکم ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اللہ سے محبت کرو کہ اس نے تہیں بہت سی نعمتیں دی ہیں اور مجھ سے محبت کرو کہ میں اللہ کا محبوب ہوں۔ ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ تم اس وقت تک ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک کہ میں محمدﷺ تم کو تمھارے والدین،اولاد، تمام لوگوں سے محبوب نہ ہوجاؤں۔

محبت کا معیار کیا ہے؟

ایک واقعہ دل کے کانوں سے سنیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے آپ سے اتنی زیادہ محبت ہے جو مجھے میرے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں اور تمام مال اسباب سے زیادہ ہے، مگر میری اپنی جان کہ وہ مجھے الگ سے عزیز ہے۔ نبی علیہ الصلوۃ و السلام نے جب یہ بات سنی تو فرمایا کہ نہیں عمر! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، جب تک کہ میں محمد ﷺ تمھیں اپنی جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں تمھارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ تب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہو چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب تمھارا ایمان مکمل ہوا ہے۔ غور کیجیے، سیدنا عمر فاروق نے محبت کا جو لیول پہلی مرتبہ پیش کیا تھا، جو قبول بھی نہیں ہوا، ہم میں سے تو شاید ہی کوئی ہو جو اتنا معیار بھی پیش کرسکے جو ماں باپ، اولاد دنیا کے ہر انسان، مال ودولت ہر چیز سے ثابت کر سکے کہ میں نے نبی علیہ السلام سے ہر چیز سے زیادہ محبت کی ہے۔ بقول مولانا ظفر علی خانؒ :

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثربؐ کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

ہمارا دعویٰ محبت رسول اکرمﷺ کا اور اس کی حقیقت

کتنی مرتبہ اولاد کی وجہ سے ہم سنت کو چھوڑ دیتے ہیں، کتنی مرتبہ کسی دوسرے رشتے کی وجہ سے ہم سنت کو ترک کر دیتے ہیں۔ ہم دین کا نقصان برداشت کر لیتے ہیں اور نبی علیہ السلام کی بات کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم تو ابھی تک وہ درجہ بھی پیش نہیں کرسکے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیش کیا اور وہ قبول بھی نہیں ہوا۔ قبولیت ملی تو اس درجہ کو ملی جس میں نبی علیہ السلام کی محبت زیادہ تھی)۔

ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے اور اللہ سے مانگنا چاہیے کیوں کہ یہ نبیﷺکا ہم پہ حق ہے۔

نبی علیہ الصلوۃ و السلام سے محبت کا اجر

جب ہم حضرت محمدﷺ سے محبت کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا؟ایک مرتبہ ایک صحابی آئے اور پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو نبی علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ نے کیا تیاری کی ہوئی ہے؟ مطلب یہ تھا کہ کتنے نیک اعمال جمع کر رکھے ہیں؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ زیادہ عبادات تو نہیں ہیں لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ سے سچی محبت ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو انسان جس سے محبت کرے گا؟ قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا۔ تو جو اللہ اور اس کے نبی سے محبت کرے گا، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اللہ اسے نبی علیہ السلام کا ساتھ عطا فرمائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عطا فرمائیں گے۔اللہ رب العزت ہمیں نبیﷺ کی ناموس کی خاطر تن من دھن قربان کرنے والا بنائے ۔آمین

مزید : ایڈیشن 1