حاجی عبدالوہابؒ .........دعوت و تبلیغ کے عظیم داعی

حاجی عبدالوہابؒ .........دعوت و تبلیغ کے عظیم داعی

تحریر: مولانا مجیب الرحمن انقلابی

hmujeeb786@hotmail.com

آہ...گذشتہ دنوں اسلام اور ملک و ملت کے عظیم محافظ حضرت مولانا سمیع الحق ؒ کی مظلومانہ شہادت کے بعد عالم اسلام کو تبلیغی جماعت کے عالمی امیر حاجی عبدالوہاب ؒ کی وفات کی صورت میں ایک اور صدمہ سہنا پڑا ....اور حاجی عبدالوہاب 75 سال یعنی پون صدی دعوت و تبلیغ کے اس مقدس کام پر لگانے کے بعد لاکھوں لوگوں کی ہدایت ،ہزاروں لوگوں کے ایمان کا ذریعہ بننے اور انسانیت کی خدمت کے تمغے سجائے اللہ تعالیٰ کی بارہ گاہ میں سرخرو ہوگئے ۔

حاجی عبدالوہابؒ کی تمام زندگی بانی تبلیغ جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ کے مقدس کام کو عام کرنے میں گذری۔ آپ کی وفات سے دعوت و تبلیغ اور نیکی و خیر کا ایک روشن باب بند ہوگیا۔ حاجی عبدالوہابؒ کی ایمان افروز روشن زندگی اور لاکھوں لوگوں کی آپ کی نماز جنازہ میں شرکت قابل رشک ہے۔آج پوری دنیا میں رائیونڈ کی پہچان اور شناخت دعوت و تبلیغ والے اس مقدس کام اور تبلیغی جماعت کے حوالے سے ہے ، حاجی عبدالوہاب ؒ ہندوستان کے ضلع کرنال میں 1922ء میں پیدا ہوئے ،گریجویشن اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے کیا اور پھر تحصیلدار بھرتی ہوگئے، آپ راجپوت فیملی سے تعلق رکھتے تھے، بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ سے ملاقات ہوئی اور ان کی خلوص بھری باتیں ان کے دل و دماغ میں ایسے نقش ہوئیں کہ پھرتحصیلداری چھوڑ کر اپنے آپ کو دعوت و تبلیغ والے اس کام سے وابستہ کر لیااورپھرایسے’’ فنا فی التبلیغ‘‘ ہوئے کہ کھانے پینے، سونے ، پہننے اور آرام سے بے پرواہ ہوکر ہر وقت دعوت و تبلیغ کی فکر ان پر سوار ہوتی اور پوری امت اور انسانیت کے لیے فکرمند ہوکر اکثر فرماتے کہ، پوری انسانیت کی ہدایت کی دعا کرو غیر مسلم بھی اللہ ہی کے بندے ہیں....آپؒ اپنی تقریروں میں کثرت کے ساتھ یہ جملہ ارشاد فرماتے جو آپ کی پہچان بن گیا ہے : ’’اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین اور غیر اللہ سے کچھ نہ ہونے کا یقین اپنے دلوں میں بٹھالو‘‘۔

مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل صاحب کے بقول نبویؐ تڑپ ان کے دل میں تھی، بلاشبہ وہ کروڑوں میں ایک تھے، وہ قال ہی نہیں حال میں بھی تبلیغی تھے۔ ایک مرتبہ لقمہ ہاتھ میں اٹھایا اور منہ میں ڈالنے کی فکر نہ رہی اور پون گھنٹہ تک دین اور دعوت و تبلیغ کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو فرماتے رہے۔ جہاں حاجی عبدالوہابؒ حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری ؒ کے ہاتھ پر بیعت تھے، وہاں وہ شیخ التفسیر امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بھی بیعت اور خلیفہ مجاز تھے ، حاجی عبدالوہاب ؒ کی زندگی تبلیغی جماعت کے عظیم راہنماء مولانا محمد عمر پالنپوریؒ کے اس جملے کی عملی تصویر تھی کہ ’’اس دعوت و تبلیغ والے کام کو کرتے کرتے مرنا ہے اور مرتے مرتے کرنا ہے‘‘۔حاجی عبدالوہابؒ کی بھی یہی کیفیت تھی کہ بستر مرگ پر بھی جب آپؒ کو ہوش آتا تو آپ کی گفتگو اس دعوت و تبلیغ والے کام اور کارگزاری کے حوالے سے ہو تی۔ آپؒ بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی فکر کی عملی تصویر بن چکے تھے۔ جب کسی جاننے والے نے ایک خط کے ذریعے مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ سے ان کی خیریت دریافت کی تو آپ نے سوزودرد میں ڈوبے ہوئے قلم کے ساتھ جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ’’ طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے اور سب خیریت ہے‘‘۔ آپ کی بھی یہی کیفیت ہوتی۔ آپ ؒ نے بھی مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی طرح جب اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیا تو ہر طرف دین سے دوری، عقائد کی خرابی اور اعمال و عقائد کا بگاڑ دیکھا کہ لوگ شرک و بدعت، جہالت اور ضلالت و گمراہی کے ’’بحرظلمات‘‘ میں ڈوبے ہوئے ہیں تو ان کے دل پر چوٹ لگی اور وہ امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے سلسلے میں متفکر و پریشان دیکھائی دینے لگے، آپؒ نے محسوس کیا کہ عام دینداری جو پہلے موجود تھی، اب ختم ہوتی اور سمٹتی چلی جا رہی ہے، پہلے یہ دین داری خواص تک اور مسلمانوں کی ایک خاص تعداد میں رہ گئی تھی پھر اس کا دائرہ اس سے بھی تنگ ہوا اور ’’اخص الخواص‘‘ میں یہ دینداری باقی رہ گئی ہے۔ پہلے جو خاندان اور قصبات و علاقے اور شہر ’’رشد و ہدایت‘‘ کے مراکز سمجھے جاتے تھے ان میں بھی اس قدر تیزی کے ساتھ انحطاط و زوال ہوا کہ اب ان کی ’’مرکزیت‘‘ ختم ہوتی جارہی ہے۔ جہاں پہلے علم و عمل کی قندیلیں روشن رہتی تھیں، اب وہ بے نور ہیں، دوسری بات آپؒ نے بھی یہ محسوس کی کہ علم چونکہ ایک خاص طبقے تک محدود رہ گیا ہے اس لیے آپؒ یہ چاہتے تھے کہ عوام الناس میں پھر سے دینداری پیدا ہو، خواص کی طرح عوام میں بھی دین کی تڑپ اور طلب پیدا ہو، ان میں دین سیکھنے سکھانے کا شوق و جذبہ انگڑائیاں لے، اس کے لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہر ایک دین سیکھے، کھانے، پینے اور دیگر ضروریات زندگی کی طرح دین سیکھنے او اس پر عمل کرنے کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں اور یہ سب کچھ صرف مدارس و مکاتب اور خانقاہی نظام سے نہیں ہوگا کیونکہ ان سے وہی فیضیاب ہو سکتے ہیں جن میں پہلے سے دین کی طلب ہواور وہ اس کے طالب بن کر خود مدارس و مکاتب اور خانقاہوں میں آئیں، مگر ظاہر ہے کہ یہ بہت ہی محدود لوگ ہوتے ہیں، اس لیے حاجی عبدالوہابؒ ضروری سمجھتے تھے کہ اس ’’دعوت و تبلیغ‘‘ کے ذریعے ایک ایک دروازے پر جا کر اخلاص و للہیت کے ساتھ منت و سماجت اور خوشامد کر کے ان میں دین کے ’’احیاء‘ کی طلب پیدا کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور ماحول سے نکل کر تھوڑا سا وقت علمی و دینی ماحول میں گزاریں تاکہ ان کے دل میں بھی سچی لگن اور دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہو اور یہ کام اسی دعوت والے طریقے سے ہوگا جو طریقہ اور راستہ انبیائے کرام علیہم السلام کاتھا اور جس پر چلتے ہوئے صحابہ کرامؓ جیسی مقدس اور فرشتہ صفت جماعت پوری دنیا پر اسلام کو غالب کرنے میں کامیاب ہوئی ،پھر جب اس دعوت و تبلیغ سے عام فضاء دینی بنے گی، لوگوں میں دین کی رغبت اور اس کی طلب پیدا ہوگی تو مدارس و خانقاہی نظام اس سے کہیں زیادہ ہوگا بلکہ ہر شخص مجسمِ دعوت اور مدرسہ و خانقاہ بن جائے گا۔

آپؒ کی دین کے لیے تڑپ و بے چینی اور درد وبے قراری دیکھنے میں نہیں آتی تھی ، مسلمانوں کی دین سے دوری پر آپؒ انتہائی غمگین و پریشان اوراس فکر میں ڈوبے رہتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر کسی طرح دین دوبارہ زندہ ہو جائے۔۔۔ بعض اوقات اسی فکر میں آپؒ ’’ماہی بے آب‘‘ کی طرح تڑپتے، آہیں بھرتے اور فرماتے تھے، میرے اللہ مَیں کیا کروں کچھ ہوتا ہی نہیں۔۔۔ کبھی دین کے اس درد وفکر میں بستر پر کروٹیں بدلتے اور جب بے چینی بڑھتی تو راتوں کو فکر سے اٹھ کر ٹہلنے لگتے..... آپؒ کے سوز و درد کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی کے ساتھ لگا سکتا تھا جو آپؒ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور باتیں سنتا تھا، آپؒ کا بس نہیں چلتا تھا کہ سب لوگوں کے دلوں میں وہی آگ پھونک دیں جس میں وہ خود عرصے سے جل رہے تھے۔۔۔ سب اس غم میں تڑپنے لگیں جس میں وہ خود تڑپ رہے تھے، سب میں وہی سوز و گداز پیدا ہو جائے جس کی لطیف لمس سے آپؒ کی روح جھوم اٹھتی تھی۔جب بلوچستان اور سندھ میں عصبیت و لسانیت نے سر اٹھایا اور ملک کی سالمیت خطرے میں محسوس کی تو آپ نے جہاں مختلف بااثر دینی و مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں کیں، وہاں آپ نے ان علاقوں میں تبلیغی جماعتوں کو بھی کثرت سے بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا تاکہ بھٹکے ہوئے لوگ دعوت و تبلیغ کے ذریعے اسلام اور ملک کے محافظ بن جائیں ..... حاجی عبدالوہابؒ دن میں کئی کئی گھنٹے مسلسل بیان کرتے صبح فجر کے بعد بیان اور اس کے بعد مشاورت ، تبلیغی جماعتوں کو روانگی کے وقت ہدایات اور اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں دعوت و تبلیغ کے پھیلے ہوئے کام کی نگرانی اور ہدایات دیتے ہوئے نظر آتے... ایک وقت تھا جب رائے ونڈ تبلیغی مرکز کئی کئی دن کوئی نہ آتا اور رائے ونڈ ریلوے سٹیشن پر رکنے والی ہر گاڑی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتاکہ شاید دعوت و تبلیغ کے حوالے سے دین کا درد لیے کوئی مسلمان اس ٹرین سے اترے۔ جب کوئی مسافر اس مقصد کے لیے نہ ملتا، یہ واپس پلٹتے ہوئے دعائیں کرتے ، توبہ و استغفار ، ذکر و اذکار اور عبادت میں مصروف ہو جاتے اور امت کی فکر میں راتوں کواٹھ اٹھ کر ایمان اور ہدایت کے لیے روتے اور گڑگڑاتے ہوئے نظر آتے ، کئی کئی دن فاقوں میں گذر جاتے لیکن کھانے پینے کی پرواہ کے بجائے امت کی ہدایت کی فکر ہوتی اور دعوت و تبلیغ کی غرض سے آنے والے مسافروں کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ راتوں کو اٹھ کر جہاں ان کی ہدایت کی دعا کرتے وہاں ان کے باتھ رومز(لیٹرین) کی بھی صفائی خود اپنے ہاتھوں سے کرتے نظر آتے...

چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب جامعہ اشرفیہ لاہور کی مسجد حسن کی توسیع اور تعمیر نو کے ’’سنگ بنیاد‘‘ کے حوالے سے ایک پُروقار اور روح پرور تقریب منعقد ہوئی ۔ تبلیغی جماعت کے عالمی امیر حاجی عبدالوہابؒ نے علالت کی وجہ سے ہسپتال میں ہونے کے باوجود اصرار کر کے ڈاکٹروں سے اجازت لے کر کچھ وقت کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہور کی اس تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لائے تو وہ منظر قابل دیدنی تھا کہ جب جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی مدظلہٗ نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ویل چیئر پر موجود حاجی عبدالوہابؒ کا نائب مہتمم و ناظم اعلیٰ مولانا قاری ارشد عبید اور حافظ اسعد عبید سمیت دیگر اساتذہ اور علماء کے ہمراہ استقبال کیا ۔ اس موقع پر حاجی عبدالوہابؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان دنیا میں جس عظیم مقصد کے لیے آیا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے دین کی محنت کرے .... اس موقع پر حاجی عبدالوہابؒ نے رقت آمیز دعا ئیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ اشرفیہ کی اس تقریب میں شرکت کرنا میرے لیے باعث سعادت اور نجات کا ذریعہ ہے۔

حاجی عبدالوہابؒ کی پوری زندگی دین کی جدوجہد سے عبارت ہے، انہوں نے جس طرح فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لئے خود کو کھپایا اور تھکایا، ا س کی نظیر اور مثال نہیں ملتی، دین کے لیے جدوجہد کرنے والے مخلص لوگوں کے لیے ان کی قابل رشک زندگی مشعل راہ ہے.....آخر کار 75 سال دعوت و تبلیغ والے اس مقدس کام پر شب و روزصرف کرنے کے بعد 96 برس کی عمر میں18 نومبر 2018 ء بروز اتوار لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں ’’ڈینگی بخار‘‘ کے جان لیوا حملے کے بعد انتقال کر گئے ....آپ کے انتقال کی خبر پوری دنیا میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ....آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے کے لیے ملک و بیرون ملک سے لاکھوں کی تعداد میں تبلیغی جماعت اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے رائے ونڈ کا رخ کیا ۔

خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را

مزید : ایڈیشن 1