میجر شبیر شہید نے دشمنوں کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا : پروفیسر سرفراز علی

میجر شبیر شہید نے دشمنوں کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا : پروفیسر سرفراز علی

لاہور(جنرل رپورٹر) پاک فوج کے عظیم سپوت میجر شبیر شریف نے1971ء کی جنگ میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواں مردی سے اس کامقابلہ کیا اور شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے۔ قوم کے اس بہادر بیٹے کی جرات و بہادری کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ان خیالات کااظہار پروفیسرسرفراز علی نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ، لاہور میں نشان حیدر کا اعزاز پانے والے پاک فوج کے مایہ نازآفیسر میجر شبیر شریف کے 47 ویں یوم شہادت کے موقع پر نئی نسل کو ان کی حیات وخدمات سے آگاہ کرنے کیلئے منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔ اس لیکچر کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔پروفیسر سرفراز علی نے کہا کہ نشان حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے، یہ اعزاز پاک فوج کے ان 10 شہداء کو مل چکا ہے جنہوں نے دفاع وطن کی خاطر بے مثال جرات وبہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان میں ایک نام میجر شبیر شریف کا بھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ میجر شبیر شریف شہید 28 اپریل 1943 ء کو ضلع گجرات کے قصبہ کنجاہ میں پیدا ہوئے، انہوں نے لاہور کے سینٹ انتھونی اسکول سے او لیول کا امتحان پاس کیا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم انہیں پاکستان کی سب سے بڑی فوجی درسگاہ کاکول سے آرمی میں شمولیت کا اجازت نامہ ملا۔ میجر شبیر شریف شہید تین دسمبر 1971 ء کو سلیمانکی سیکٹر میں فرنٹئیر رجمنٹ کی ایک کمپنی کی کمانڈ کر رہے تھے اور انہیں ایک اونچے بند پر قبضہ کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا۔ میجر شبیر شریف کو اس پو زیشن تک پہنچنے کے لئے پہلے دشمن کی بارودی سرنگوں کے علاقے سے گزرنا اور پھر 100 فٹ چوڑی اور 18فٹ گہری ایک دفاعی نہر کو تیر کر عبور کرنا تھا۔ دشمن کے توپ خانے کی شدید گولہ باری کے باوجود میجر شبیر شریف نے یہ مشکل مرحلہ طے کیا اور دشمن پر ٹوٹ پڑے ۔ تین دسمبر کی شام تک دشمن کو اس کی قلعہ بندیوں سے باہر نکال دیا۔ چھ دسمبر کی دوپہر کو دشمن کے ایک اور حملے کا بہادری سے دفاع کرتے ہوئے میجر شبیر شریف اپنے توپچی کی اینٹی ائیر کرافٹ گن سے دشمن ٹینکوں پر گولہ باری کر رہے تھے کہ ٹینک کا ایک گولہ انہیں لگا اور وہ شہید ہوگئے۔ ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں اعلی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔

پروفیسر سرفراز

مزید : میٹروپولیٹن 1