ڈی سی لاہور سے ملاقات

ڈی سی لاہور سے ملاقات
ڈی سی لاہور سے ملاقات

  

پاکستان میں میڈیا کا ’’ ٹہور ٹپا ‘‘ دیکھ کر سوچا کہ کیوں نہ ہم بھی اسی شعبے یعنی ’’ صحافت ‘‘ میں طبع آزمائی کریں اور اِسی کے ہو کر رہ جائیں ، ہماری تعلیم مناسب سی ہے جو کسی بھی اخبار یا ٹی وی چینل میں نوکری کرنے کے لئے بہت ہی کم ہے ، جس وجہ سے ہم نے ابھی تک اپنا ’’ سی وی ‘‘ بھی نہیں بنایا کیوں کہ اُس میں تعلیم کا ہونا ضروری امر ہے ۔دوست احباب سے مشورہ کیا اور دائیں بائیں ہاتھ مارنا شروع کر دیئے کہ کہیں ہمارا ذکر بھی صحافیوں میں ہونا شروع ہو جائے ۔اس پریکٹس میں سب سے پہلے ہم نے صحافیوں کودوست بنانے کا عزم کیا اور لاہور پریس کلب کے چکر لگانے شروع کر دیئے ، وہاں دُعا سلام بڑھایا اور چائے پینے اور پلانے کی روائت میں ’’ جت ‘‘ گئے ، روزانہ کی بنیادوں پر چائے کے ساتھ ساتھ روٹی کو ’’ لنگر ‘‘ کہتے ہوئے دوستوں کے ساتھ کھانے میں بے تکلف ہونا بھی عادت بنا لی ۔

صحافیوں سے دوستی بڑھتی گئی اور کم تعلیم ہونے کے باوجود پریس کلب سے نکلتے اور داخل ہوتے وقت دیکھنے والے لوگ ہمیں ’’ سچی مچی ‘‘ کا صحافی سمجھنا شروع ہو گئے ،اسی اثناء میں ہم نے ایک چھوٹے سے اخبار میں رپورٹنگ بھی شروع کر دی اور کارڈ بھی بنوا لیا ، وہ اخبار بھی ایسا تھا کہ کبھی کبھار شائع ہوتا اور شائع کرنے والا خود ہی اُسے پڑھتا تھا ، کچھ محکموں میں کام کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں اُس محکمے کی ’’بیٹ‘‘ کرنے والے صحافی کی واقفیت اور رعب و دبدبہ دیکھ کر ’’ پکا اور بڑاصحافی ‘‘ بننے کی اُمنگ نے دل میں کروٹیں لینے کی رفتار بڑھا دی اور میں نے بھی مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ مجھے اب کسی کی تعلیمی اسناد لینی پڑیں یا کسی کو اپنی جگہ بٹھا کر امتحان دلوانا ہو میں یہ سب کر گزروں گا ۔وقت آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھاا ور میرے ذہن میں ’’صحافی ‘‘کہلانے کا شوق کسی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا میرا صحافتی میدان میں جانے کا فاصلہ کم کرتا جا رہا تھا جس وجہ سے مجھے صحافتی منزل قریب نظر آ رہی تھی ۔

حالات نے مجھے بتا دیا کہ اگر میری جگہ کوئی امتحان دے کر مجھے پاس کروا دے یا میں کسی کی تعلیمی اسناد جعلساری سے کہیں استعمال بھی کرلوں تو بھی مجھے صحافت کی سوجھ بوجھ ہونا لازمی ہے کیونکہ صحافتی میدان میں کام تو مجھے ہی کرنا پڑے گا ۔کسی بھی بڑے اخبار یا ٹی وی چینل میں نوکری کا خواب کسی اتھلیٹ کی طرح میرے ذہن سے اُس وقت رفو چکر ہو گیا جب مجھے پتا چلا کہ نوکری لیتے وقت انٹرویو اور تجربہ کا ثبوت دینا پڑتا ہے ، میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں سرمایا لگا کر اپنا اخبار یا میگزین خود شائع کرونگا ،اس حوالے سے میں اپنے کچھ ایسے احباب کو جانتا تھا جو انڈر میٹرک یا میٹرک پاس ہیں اور انہوں نے اخبار یا میگزین شائع کرنے کا اجازت نامہ یعنی ’’ ڈیکلریشن ‘‘ لے رکھا ہے اور وہ اپنے شہروں کے مقامی پولیس اسٹیشنوں ، کچہری ، عدالت ، پٹوار خانہ اور دوسرے سرکاری اداروں سے اشتہارات کی مد میں کافی سرمایہ جمع کر چکے ہیں اور اُن کا شمار اُن کے آبائی شہروں میں اچھے خاصے اور سینئر صحافی کے طور پر ہوتا ہے ۔

جیل کا عملہ ، پولیس آفیسرز اور دوسرے انتظامی امور کے ملازمین میرے اُن میٹرک پاس دوستوں کے قریبی اور دیرینہ دوست بن چکے ہیں ۔ان حالات کو دیکھ کر کچھ تسلی ہوئی اورمیں نے میگزین شائع کرنے کا فائنل ارادہ کر لیا ۔میگزین کے لئے ایک ایسا نام تلاش کیا جومجھے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے آسانی سے الاٹ ہو گیا اور میں میگزین کے ڈیکلریشن کے لئے ڈی سی آفس لاہور پہنچا تاکہ وہاں سے وہ فارم حاصل کیا جائے جس پر ڈیکلریشن کو مکمل کرنے کے کاغذات کی تفصیل لکھی ہوئی ہے ، فارم لینے میں پریس کلرک مسٹر طور کے کمرے میں گیا تو معلوم ہوا کہ وہ صاحب آج آفس نہیں آئے وہ کل آئیں گے ، لہذا مجھے کل دوبارہ ڈی سی آفس آنے کا کہا گیا ،ان حالات کو دیکھتے ہوئے میں ڈی سی کے پی آر او کے کمرے میں چلا گیا تاکہ وہ مجھے متعلقہ فارم اشو کر دیں ، انہوں نے کہا کہ وہ فارم پریس کلرک ہی دے گا ، میں نے استفسار کیا کہ اگر وہ کلرک کافی دن دفتر نہ آئے تو مجھے ڈیکلریشن نہیں ملے گا ؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ،

مجھے تھوڑا غصہ آیا کہ میں اب کئی صحافیوں کا دوست ہوں ، ایک چھوٹے سے اخبار میں بطور رپورٹر بھی کام کر رہا ہوں اور اب تو اپنا میگزین بھی شائع کرنے والا ہوں پھر بھی میری یہاں کوئی عزت افزائی نہیں کی جا رہی ، میں نے ڈی سی لاہور ’’ صالح سعید ‘‘ سے مل کر انہیں کلرک کی شکائت لگانے کا پروگرام بنایا تاکہ انہیں بتایا جا سکے کہ پاکستان میں تو تبدیلی آ چکی ہے مگر اُن کے دفتر میں ابھی تک کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آ ئی ،میں نے کوٹ پینٹ پہنا ہوا تھا اور میں اُس وقت ڈی سی کو ملنے والے تمام مہمانوں میں سب سے جاذب نظر آ رہا تھا ، میں نے جھٹ سے اپنا وزٹنگ کارڈ نکالا اور ڈی سی کے کمرے میں جانے والے ملازم کو وہ کارڈ تھما دیا اور دائیں بائیں کھڑے افراد کو بڑے مغرور انداز میں دیکھا جس کا مطلب تھا کہ ڈی سی صاحبہ مجھے سب سے پہلے کمرے میں بلائیں گی ،

مہمان آہستہ آہستہ ڈی سی صاحبہ کو ملنے کے لئے کمرے میں جانا شروع ہو گئے اور میں اپنا سا منہ لے کر وہیں کھڑا رہا اس اُمید پر کہ اب میرا نمبر آئے گا ، اندر جا چکے کچھ مہمان پھولوں کے گلدستے اور مٹھائیوں کے ڈبے بھی لے کر آئے تھے ، جس کا مقصد ڈی سی صاحبہ کو تعیناتی کی مبارک باد دینا تھا ، یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ چند دن پہلے ڈی سی صاحبہ نے حضوری باغ میں ملاقات ہونے پر مجھے دفتر آکر چائے پینے کا کہا ہوا تھا ، سب مہمان باری باری ملنے چلے گئے لیکن میری ملاقات کا بلاوا نہ آیا ، میں سمجھ گیا کہ میں پھولوں کا گلدستہ ساتھ نہیں لایا اور نہ ہی میرے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ ہے ، غصہ مزید بڑھ گیا تو میں نے کن اکھیوں سے وہاں کھڑے لوگوں کو دیکھا جو میری طرف تمسخرانہ انداز میں دیکھ رہے تھے اور اشاروں میں کہہ رہے تھے کہ وہ دیکھو بڑا صحافی بنا پھرتا تھا اور ابھی تک ڈی سی صاحبہ نے ملاقات کے لئے نہیں بلایا ،

میں نے ڈی سی آفس سے رفو چکر ہونے میں ہی غنیمت جانی اور پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر تیز تیز قدموں سے باہر نکل گیا یہ سوچتا ہوا کہ جس ڈی سی نے میرے ساتھ ملاقات نہیں کی وہ اپنے کلرک کے خلاف شکائت کیسے سنیں گی ۔ویسے ڈی سی صاحبہ کو چاہیئے کہ اگر پریس کلرک یا کوئی بھی ملازم چھٹی پر ہو تو اُس کی جگہ متبادل ملازم ضرور ہونا چاہیئے تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی کام رک نہ سکے ۔ڈی سی صاحبہ کو یہ بھی چاہیئے کہ وہ پھول اور مٹھائیوں کے ڈبے دفتری اوقات کے بعد وصول کریں اور دفتر میں بیٹھ کر وہ عوام کے کام نمٹانے کو ترجیح دیں ، لاہور پہلے ہی مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے، ڈی سی صاحبہ اُن مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں کیونکہ مسائل حل ہو گئے تو زندہ دلانِ لاہور خود ہی پھول اور مٹھائیاں لے کر ڈی سی آفس یا ڈی سی ہاؤس پہنچ جائیں گے ۔

مزید : رائے /کالم