دمہ اور سی او پی ڈیم میں نظام تنفس کی سب سے عام بیماریاں ہیں، پروفیسر خالد

دمہ اور سی او پی ڈیم میں نظام تنفس کی سب سے عام بیماریاں ہیں، پروفیسر خالد

لاہور( جنرل رپورٹر )موسم کی تبدیلی کے ساتھ دمہ اور نظام تنفس کی بیماری سی او پی ڈی کے مریضوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جس کا بہترین حل ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل اور خوراک کی پابندی ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے زیر انتظام پریس بریفنگ میں صدر پاکستان چیسٹ سوسائٹی پنجاب، پروفیسر خالد وحید، ہیڈ آف پلمونولوجی جناح ہسپتال پروفیسر اشرف جمال اور دیگر نے کیا۔

، بریفنگ کے لیے تعاون جی ایس کے پاکستان نے کیا تھا۔ اس موقع پر دیگر پلمونولوجسٹ نے بھی دمہ اور سی او پی ڈی کے مریضوں کو موسمی تبدیلی میں علاج و بیماری کے بارے میں آگہی فراہم کی۔

۔ماہرین نے کہا کہ دمہ اور سی او پی ڈی پاکستان میں نظام تنفس اور سانس کی سب سے عام بیماریاں ہیں جو مریضوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 23 کروڑ 50 لاکھ افراد دمہ کا شکار ہیں جبکہ سی او پی ڈی سے 21 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہیں۔ صرف پاکستان میں 69 لاکھ سے زائد افراد سانس کی نالیوں کی تنگی کی دائمی بیماری سی او پی ڈی(Chronic Obstructive Pulmonary Disease) کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں اس بیماری سے متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں یہ اموات کی بڑی وجہ ہے اور 2030ء تک یہ چوتھی اموات کی سب سے بڑی وجہ بن جائے گی۔اسی طرح گزشتہ سال 30 لاکھ افراد سی او پی ڈی وجہ سے موت کا شکار ہوئے تھے۔ڈاکٹرز نے کہا کہ دمہ ایک عام مرض ہے جس میں سانس لینے میں مسلسل دشواری پیدا ہوتی ہے جس سے پھیپھڑوں کی سوزش اور سانس کی نالیوں میں تنگی پیدا ہوجاتی ہے اور کھانسی کے ساتھ وقفہ وقفہ سے سانس لینے میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ڈاکٹرز نے کہا کہ سی او پی ڈی اور دمے میں فرق ہے، دمے کی بڑی وجہ موروثی ہے اور ساتھ ہی سانس کے ساتھ ماحول میں الرجی کے ذرات بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن سی او پی ڈی میں تمباکو نوشی سب سے بڑی وجہ ہے۔دمے کا باعث بننے والے الرجی کے عوامل میں گھروں میں مٹی کے ذرات، بستر کی گندگی، فرنیچر اور کارپٹ پر پائی جانے والی مٹی جبکہ گھر سے باہر الرجی کے عوامل میں پولن ذرات، نمی، تمباکو نوشی، کیمیائی ذرات، کام کی جگہ الرجی کے ذرات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مناسب اقدامات کے ذریعے اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے جس سے مریض کا معیار زندگی بہتر ہوسکتا ہے اور ضروری ہے کہ مریض ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔ اس حوالے سے دمے اور سی او پی ڈی کے بارے میں بہتر معلومات کی فراہمی بہت ضروری ہے اور اس ضمن میں معاشرے کے تمام افراد خصوصی طور پر معالج بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ایک مکمل تحریری ایکشن پلان جس میں خوراک اور ڈاکٹر سے ملاقات کی تفصیل درج ہو معاون ثابت ہوتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4