’’مارو یا مرجاؤ‘‘

’’مارو یا مرجاؤ‘‘
 ’’مارو یا مرجاؤ‘‘

  

قیام پاکستان کے بعد ملک میں جاری دنگا فساد کے باعث لوگ پریشانی و مایوسی کے باوجود نئے ملک کی خوشی میں اپنے تمام غم بھلائے بیٹھے تھے اور اس ملک کو حاصل کرنے کے بعد اس کے لئے کچھ کرنے کی جستجو ملک کے باسیوں کے جینے کی اُمید تھی۔ ہر شعبہ سے وابستہ فرد نے اس ملک کو ترقی کی منازل و کامیابی سے ہمکنار کروانے کی خاطر بیش بہا قربانیاں دیں۔ اسی اثناء میں کھیل سے وابسطہ کھلاڑی بھی ملک کی عظمت و حرمت کو قائم رکھنے کی خاطر ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ کرکٹ، ہاکی اور کبڈی ایسے کھیل تھے، جس کے شائقین بہت دلدادہ تھے اور آج بھی ہیں ہاکی کو پاکستان کے قومی کھیل کا درجہ دیا گیا، جس کی لاج رکھتے ہوئے قومی ہاکی پلیئروں نے ملک و قوم کا نام بلند کرتے ہوئے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دنیا کے کونے کونے میں بلند کیا۔

اس کے کھلاڑی دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں ہمیشہ ٹاپ پر رہے اور آج تک ان کے نام اور کھیل کی دنیا متعارف ہے۔بات ہو رہی ہے ہاکی کی تو انڈیا میں جاری ہاکی ورلڈ کپ کی بات بھی ہو جائے، جہاں پاکستان ہاکی ٹیم نے اپنے دو پول میچ کھیل کر پول میں تیسرے نمبر پر براجمان ہے، گزشتہ کھیلے گئے دو میچوں میں پاکستان نے گزشتہ روز ہونے والے مقابلے میں ملائشیا سے 1-1کے سکور پر برابر کیا، جبکہ پہلے میچ میں ہالیند کو 4-1کی شکست سے دو چار کرنے والی جرمنی کے خلاف 1-0 سے شکست کھائی۔ اب چونکہ پاکستان کا پول تقریباً واضح ہوچکا ہے اور اتوار کو وہ میچ آنے والا ہے۔ جس کے لئے شائقین کو بے چینی سے انتظار ہوگا اور قومی ٹیم کو دعاؤں کے ساتھ دماغ لڑانے کی بھی ضرورت ہوگی۔

DO and die میچ میں پاکستان کو اس کے راؤنڈ میں قدم جمانے کے لئے ہالینڈ میں مضبوط ٹیم کے خلاف بھرپور حکمت عملی اور ذہنی طور پرمضبوط ہو کر جیتنے کے لئے کھیلنا ہوگا، کیونکہ ہالینڈ جرمنی کے خلاف 4-1 کی شکست سے دو چار ہوچکی ہے اور پاکستان نے جرمنی کے خلاف میچ 1-0 سکور سے ہارا تھا۔ یوں تو دونوں ٹیمیں اپنے دونوں میچ جرمنی سے ہار چکی ہیں، مگر اتوار کے روز زیادہ دباؤ ہالینڈ پر ہوگا،لیکن پاکستان کے لئے بھی یہ ایک اہم میچ ہوگا، جس کو جیتنے کے بعد ہاکی ٹیم اگلے راؤنڈ میں قدم رکھے گی اور ہارنے کے باعث ملک کے لئے رخت سفر باندھے گی۔ گزشتہ دو میچوں کی اگر بات کی جائے تو پاکستان ہاکی ٹیم کی پرفارمنس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ضرور کہوں گا کہ پاکستان کے دونوں میچ بہت عمدہ تھے اور کھلاڑیوں نے بھرپور جان لگاتے ہوئے اپنی پرفارمنس سے شائقین کو حیران کیا،

کیونکہ قومی ہاکی ٹیم کا اس وقت ورلڈ رینکنگ میں 13واں نمبر ہے۔ اس رینکنگ کی ٹیم سے ایسی پرفارنس کی توقع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، کیونکہ ہماری ہاکی ٹیم کی ٹریننگ تو جاری رہتی ہی ہے، مگر ان کی فزیکلی اور مینٹلی ٹریننگ کی بھی اشد ضرورت ہے، کیونکہ دنیائے ہاکی کی بہترین ٹیم شمار ہونے والی پاکستانی ہاکی ٹیم آج جس طرح کے مسائل کا شکار ہے ہوسکتا ہے دنیا میں اور ممالک کی ٹیمز بھی ان مسائل کا شکار ہوں، مگر ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں پہلے پاکستان کے لئے سوچناہے۔ اس کی ترقی و کامیابی کے لئے سوچنا ہے، اس کے لئے ہمیں ایک ہونا پڑے گا، دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اُس پر نظر اور ہم کیا کررہے ہیں، اُس کی فکر کرنا ہوگی۔خیر میں توجہ پھر ہاکی پر ہی مرکوز کروں گا، کیونکہ اس وقت ملک جس دوراہے سے گزر رہا ہے، وہاں کے باسیوں کے لئے کوئی بھی خوشی کی خبر بہت اہم ہوتی ہے، اسی لئے پاکستان ہاکی ٹیم سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع رکھتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ اتوار کے روز ہونے والے مقابلے میں تمام کھلاڑی ملک کے لئے کھیلیں اور یکجا اور یک جان ہو کر کھیلیں۔

اگر کھلاڑی ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کوئی شق نہیں کہ ہاکی سے روٹھے شائقین دوبارہ اپنے قومی کھیل کی طرف مائل ہو جائیں اور ان کو پھر سے کلیم اللہ، حسن سردار، قاسم ضیاء، اختر رسول، شہباز سینئر جیسے نامور کھلاڑی دوبارہ سے میسر آجائیں۔ جن سے عوام آج بھی محبت کرتی ہے اور ان کے کھیل کی متعارف ہے۔

مزید : رائے /کالم