بر آمدی صنعتوں کو گیس وبجلی پر سبسڈی جلد شروع ہو گی، سیکرٹری ٹیسٹائل ڈویژن

بر آمدی صنعتوں کو گیس وبجلی پر سبسڈی جلد شروع ہو گی، سیکرٹری ٹیسٹائل ڈویژن

فیصل آباد( آن لائن )وفاقی سیکرٹری ٹیکسٹائل ڈویژن سید افتخار حسین بابرنے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کی ترقی اور برآمدات کے فروغ کیلئے حکومتی سطح پرجامع اور ٹھوس منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ حکومت کا پختہ یقین ہے کہ ملک میں معاشی خوشحالی صرف برآمدی ترقی سے ہی ممکن ہے ۔ عالمی منڈی میں مسابقت کے حصول اور پیداواری لاگت میں کمی کیلئے برآمدی صنعتوں کو گیس و بجلی پر سبسڈی کی فراہمی جلد ہی شروع ہو جائے گی۔انھوں نے یہ بات آج پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں ممبران سے خطاب میں کہی۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔تجارتی خسارے میں کمی کیلئے برآمدی صنعتوں کو گیس و بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کیساتھ ساتھ خام مال پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیزکی شرح میں بھی کمی کی جائے گی تاکہ برآمدی مصنوعات کی پیداوای لاگت کم ہو سکے اور برآمدات میں اضافہ ہو۔مشکل حالات کے باوجود ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کمانے والے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو سہارا دینے میں ایکسپورٹرز کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ایکسپورٹرز کو ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے وزارت کی سطح پع بھرپور کوششیں جاری ہیں تاکہ ایکسپورٹرز کے مالی مسائل میں کمی آ سکے۔انھوں نے کہا کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کے حصول اور صنعتی ترقی کے وژن پر عمل پیراہے ۔انھوں نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کیلئے ٹھوس تجاویز کی دعوت دی تاکہ جامع منصوبہ بندی کیساتھ آگے بڑھا جائے ۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ صنعتی ترقی کا عمل تیزکرنے اور ملک کو خطے کی معاشی قوت بنانے کیلئے ہر شعبہ اپنا کردار ادا کریگا۔ انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایکسپورٹرز کے مسائل کا فوری حل انکی اولین ترجیح ہے کیونکہ برآمدات کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ناگزیر ہے۔اس سے پہلے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خرم مختار نے ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کیلئے کو گیس کی فراہمی پر سبسڈی کی فراہمی پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ترقی کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان کے معاشی خوشحالی و اقتصادی ترقی کے وژن کی مکمل سپورٹ کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس مقصد کے حصول میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کوئی کسراٹھا نہیں رکھے گی۔

برآمدی ترقی کی راہ میں حائل دیگر رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ویلیو چین کے اربوں روپے عرصہ دراز سے قابل وصول ہیں اور ان میں ہر ماہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ری فنڈز کی ادائیگی میں تاخیر سے جہاں ایکسپورٹرز فنڈز کی کمی کا شکار ہیں وہیں برآمدی نمو بھی ممکن نہیں رہی ۔انھوں نے تمام زیر التوا ری فنڈز کی فوری ادائیگی پر زور دیا۔اس سے ناصرف ایکسپورٹرز کا اعتماد بڑھے گا بلکہ صنعتی عمل میں بھی تیزی آئے گی۔ انھوں نے پیداواری لاگت میں کمی کیلئے خام مال بالخصوص کاٹن کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔ بیرونی دنیا میں پاکستان کے امیج میں بہتری کیلئے انھوں نے عالمی میڈیاکے ذریعے ایک منظم مہم شروع کرنے کا مطالبہ کیا جس میں پاکستان کا ایک مثبت امیج دیکھایا جائے۔بعد ازاں وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل ڈویژن سید افتخار حسین بابر نے پی ٹی ٹی ایف لیب کا دورہ کیا اور مختلف شعبہ جات سے متعلق آگاہی حاصل کی۔ انھوں نے ای ڈی ایف فنڈ کی مالی معاو نت سے مکمل ہونے والے پی ٹی ٹی ایف کے توسیعی منصوبے کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری کو لیب میں موجود جدید میشنری اور فراہم کی جانے والی ٹیسٹنگ سہولیات کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی سیکریٹری نے لیب کی کارگردگی کو سراہتے ہوئے اسے ایک اچھا اقدام قرار دیا ۔#/s#

مزید : کامرس