فوری اور سستا انصاف

فوری اور سستا انصاف

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ یہاں ہر کوئی خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے اشرافیہ یا اقتدار پر قابض لوگ سمجھتے ہیں یہ مُلک صرف اُن کے لئے بنا ہے پاکستان میں چوبیس سو جج ہیں اِن میں سے سو کے فیصلے پڑھ لیں وہ کیا کہہ رہے ہیں، پھر آپ کو نظر آ جائے گا پاکستان میں انصاف سستا ہے نہ فوری،ادارے سمجھ لیں جب عوام کو آپ یہ پیغام دیں گے کہ آئین کی وہ شق لاگو ہو گی، جو آپ کو قابلِ قبول ہو یہ قانون کی نہیں آپ کی ذاتی حکمرانی ہے۔انہوں نے یہ باتیں اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

جنابِ جواد ایس خواجہ مُلک میں عدلیہ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہے ہیں اور اپنے دور میں انہوں نے عدلیہ کی تاریخ کے بعض لینڈ مارک فیصلے دیئے، قومی زبان کے نفاذ کا فیصلہ بھی ایسے ہی فیصلوں میں سے ایک ہے،لیکن اسے بدقسمتی ہی کہنا چاہئے کہ کسی ایک یا دوسری وجہ کی بنا پر یہ فیصلہ بھی آج تک نافذ نہیں ہو سکا اور نتیجہ یہ ہے کہ قومی زبان اپنے جائز مقام سے محروم چلی آ رہی ہے اور73ء کے آئین کے تحت جس کا مکمل نفاذ85ء میں ہو جانا چاہئے تھا وہ آج تک نہیں ہو سکا،بلکہ اب تو ایسے تعلیمی ادارے بھی وجود میں آ چکے ہیں،جن سے فارغ التحصیل نسل یا تو انگریزی کی بالادستی کے لئے کام کرے گی یا پھر بیرونِ مُلک خدمات انجام دے گی، کیونکہ جتنی مہنگی تعلیم اِن اداروں میں دی جا رہی ہے اس کے بعد ان اداروں سے فارغ التحصیل لوگوں کو کوئی چھوٹی موٹی نوکری تو جچے گی ہی نہیں۔ اور مہنگی نوکریاں دستیاب نہیں ہوں گی تو پھر وہ اپنی جولانیئ طبع کے لئے وسیع میدان بیرون ملک ہی تلاش کریں گے جسٹس جواد ایس خواجہ کی ساری عمر نظام عدل کے ساتھ وابستگی میں گزری ہے،اِس لئے اگر اب وہ اس کے بارے میں کوئی رائے دیتے ہیں تو وہ لازماً اُن کے طویل تجربے کی روشنی میں توجہ کے ساتھ نہ صرف سنی جانی چاہئے،بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جو کچھ وہ کہہ چکے اس پر اب تک عمل درآمد کیوں نہیں ہو سکا؟

فوری اور سستا انصاف ماضی کی تقریباً ہر حکومت کا نعرہ ضرور رہا ہے،لیکن عملاً اس سمت میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی،دیوانی مقدمات تو عشروں تک عدالتوں میں زیر سماعت رہتے ہیں اور اگر یہ کہا جاتا ہے کہ دادا مقدمہ دائر کرتا ہے اورپوتا فیصلہ سُنتا ہے تو یہ اتنا غلط بھی نہیں، ہمارے نظام عدل کی بنیادی عدالتوں(لوئر کورٹس) میں مقدمات طویل عرصے تک چلتے رہتے ہیں،دس بیس برس یا اس سے بھی زیادہ مدت میں اگر فیصلہ سنایا جاتا ہے تو اس کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے اور یوں سالہا سال تک مقدمات چلنے کے بعد فیصلہ ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے، جس نے مقدمہ کیا تھا وہ تو عرصہ ہوا دُنیا سے چلا گیا، زمین اور جائیدادوں کے مقدمات عموماً اسی ذیل میں آتے ہیں،اس سلسلے کا ایک انتہائی افسوس ناک پہلو یہ ہے، جس جانب ابھی تک نہ تو کسی حکومت نے توجہ دی ہے اور نہ ہی یہ پہلو عدالتوں میں اس اہمیت کا مستحق گردانا گیا ہے جو اسے ملنی چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی کی جائیداد یا اراضی پر غاصبانہ قبضہ کر لے اور متاثرہ فریق اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دے کہ زیریں عدالت سے فیصلہ قبضہ کرنے والے کے خلاف آ گیا تو اس نے اعلیٰ عدالت میں اپیل کر دی اور اس طرح برسوں بیت گئے، مُلک کی اعلیٰ ترین عدالت میں کیس ہارنے کے باوجود پھر بھی ایسے قبضہ گروپ جائیدادیں واگزار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے،کیونکہ پولیس یا ان گروہوں سے ملی ہوتی ہے یا پھر دوسرا فریق اتنا کمزور ہوتا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لئے درکار ضروری مراحل طے نہیں کر پاتا۔ یہ چند ہزار لوگوں کا مسئلہ نہیں بڑی تعداد میں ایسے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

قبضوں کا قضیہ عام لوگوں یا افراد تک محدود نہیں، سرکاری اداروں کی زمینوں پر بھی بااثر گروہوں نے قبضہ کر کے مقدمات کر رکھے ہیں اور عدالتوں میں فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس پر قابض چلے آتے ہیں، ریلوے کی زمینوں پر لوگوں نے قبضہ کر کے عالیشان عمارتیں بنا رکھی ہیں اور ان کے کمرشل اور رہائشی استعمال کر رہے ہیں،لیکن ریلوے اپنی اراضی اِس لئے واگزار نہیں کرا سکتا کہ اس کے پاس مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لئے فورس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ مسئلہ اپنی جگہ پر موجود ہے بس اتنا ہوتا ہے کہ کوئی نئی حکومت آتی ہے یا کوئی نیا وزیر محکمہ سنبھالتا ہے تو چند دِن تک وہ خوشنما بیانات کا رونق میلہ لگائے رکھتا ہے، حکومت کے محکمے بھی کبھی کبھار جاگتے ہیں اور تجاوزات یا ناجائز قبضوں کے خلاف مہم شروع کی جاتی ہے ، پھر چند دِن بعد سب کچھ حسبِ سابق ہو جاتا ہے۔فوری انصاف کا حال تو یہ ہے ، جہاں تک سستے انصاف کا تعلق ہے وہ بھی خواب و خیال ہے،کیونکہ وکلا کی خدمات حاصل کرنے کے لئے بھاری فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں،وکلا کی بھی درجہ بندی ہے جتنا کوئی وکیل نامور ہے یا وکلا کی تنظیموں کے حوالے سے شہرت یافتہ ہے یا بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کی سیاست میں متحرک ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی فیس ہے۔ کارپوریٹ سیکٹرکے بعض معروف مقدمات میں پیش ہو نے والے وکلا کی فیسوں کے بارے میں معلوم کر کے آدمی دنگ رہ جاتا ہے، جہاں اتنے بڑے بڑے قانونی جن عدالتوں میں قانون کے بال کی کھال اُتار رہے ہوں وہاں کوئی نسبتاً غیر معروف یا کم تجربہ کار وکیل مقدمہ جیتنے کا عام طور پر تصور بھی نہیں کر سکتا،لیکن ایسے موکل بھی ہوتے ہیں، جو وکیلوں کی مقابلتاً تھوڑی فیس بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے، ایسے میں سستے انصاف کا حصول تو ناممکنات میں سے ہے سُنا ہے موجودہ حکومت مقدمات کے فیصلوں کے لئے کوئی مدت مقرر کرنے اور غربا کو وکیلوں کی مفت خدمات فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ اس فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو گا،کیونکہ پہلے بھی بعض مقدمات کے فیصلوں کے لئے مدت کا تعین موجود ہے،لیکن بوجوہ اس پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا۔ سرکار سے وابستہ وکیل تو سرکاری مقدمے دلجمعی سے نہیں لڑتے، غریبوں کا مقدمہ کیا لڑیں گے۔

ویسے تو درست کہا جاتا ہے کہ بنچ اور بار عدالتی نظام کے دو متوازی پہیے ہیں،لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر بنچ کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے تو دوسرا پہیہ اس کا ساتھ نہیں دیتا،بلکہ بعض صورتوں میں تو باقاعدہ مزاحمت کر رہا ہوتا ہے یہ جو آئے دن عدالتوں کا بائیکاٹ ہوتا ہے، وکلاء کسی نہ کسی مسئلے پر ہڑتالیں کرتے ہیں اور مقدمات کی لمبی لمبی تاریخوں پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ بھی تو فوری انصاف کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مقدمے کی من پسند تاریخ نہ ملنے پر وکلاء کے ایک گرو ہ نے عدالت پر دھاوا بول دیا، یا جج کے کمرے کو تالا لگا دیا یا کرسیاں اُٹھا کر توڑ پھوڑ دیں۔ اب تو فیصلوں کے خلاف بھی وکلا کا ردعمل معمول بن چکا ہے، ایسے حالات کی موجودگی میں سستے اور فوری انصاف کی خواہش تو کی جا سکتی ہے عملاً اس کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آتی اِلّا یہ کہ حکومت اور عدلیہ مل کر کوئی ایسا نظام وضع کریں،جس میں پہلے سے موجود سسٹم میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں اور مقدمات کے فیصلے معقول مدت میں ہوں،مقدمے بازی کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ایک سابق فاضل چیف جسٹس نے مصالحتی عدالتوں کا ڈول ڈالا تھا۔اگر یہ سلسلہ مستقل ہو جائے اور عدالتیں چند پیشیوں میں فریقین مقدمہ میں مصالحت کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے اور شوقیہ مقدمے بازی کا سلسلہ بھی رُک سکتا ہے،لیکن یہ کام جتنا مشکل ہے اس کے لئے کوششیں بھی اِسی درجہ کی درکار ہیں، محض معمول کی کارروائیوں سے یہ کام نہیں ہونے والا، اسے انجام دینے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ فوری اور سستے انصاف کا نعرہ تو لگتا رہے گا، عملاًمعاشرہ اس کی برکات سے محروم ہی رہے گا۔

مزید : رائے /اداریہ