تمباکو پر’گناہ‘ ٹیکس کے خلاف سرحدچیمبر کا احتجاج

تمباکو پر’گناہ‘ ٹیکس کے خلاف سرحدچیمبر کا احتجاج

لاہور(پ ر) خیبر پختونخوا میں سرحد چیمبر آف ایگریکلچر کے سینئر وائس پریزیڈنٹ فضل الہٰی خان نے ایک بیان میں تمباکو پر’ گناہ‘ ٹیکس لگانے کے بارے میں وزارت صحت کے اعلان کی سخت مذمت کی ہے۔ وہ صحت کے وفاقی وزیر کے اس اعلان کے حوالے سے بات کر رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھاکہ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کریں گے جس میں سگریٹ اور تمباکو پر ’گناہ‘ ٹیکس لگانے کی سفارش کی جائے گی اور یہ ٹیکس صحت سے تعلق رکھنے والے شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔فضل الہٰی نے کہا ،’’ ٹیکس میں گناہ کے لفظ کا استعمال صوبہ خیبر پختونخوا کے باعزت کاشتکاروں کی توہین ہیں جودہائیوں سے تمباکو کاشت کر رہے ہیں اور یہ ان کا اصل روزگار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر لوگ فلپائن کی بات کر رہے ہیں جہاں شراب اور تمباکو پر گناہ ٹیکس (Sin Tax )نافذ ہے ۔ ’’کیا وزیر صاحب خیبر پختونخوا کے باعزت کاشتکاروں کو شراب کا کاروبار کرنے والا سمجھتے ہیں؟وہی کاشتکار جنہوں نے کئی برس تک عمران خان اور پی ٹی آئی کی حمایت کی ہے، ان کی اب اس طرح توہین کی جائے گی؟ ‘‘انہوں نے سوال کیا، ’’کیا یہی نیا پاکستان ہے جس کے لیے ہم نے ووٹ دئیے تھے 150 جہاں دیانتدار کاشتکاروں کو گناہ اور شراب فروشوں کے برابر سمجھا جائے گا؟‘‘

انہوں نے تجویز پیش کی کہ وزیر صاحب کواگر کو رقم کی ضرورت ہے تو انہیں یہ رقم ملک میں موجود اسمگلروں سے حاصل کرنا چاہیے جو اربوں روپے کے ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ ’’آسان راستہ تلاش مت کریں اور ایک ایسی انڈسٹری پرمزید ٹیکس لگانے کا مت سوچیں جس پر پہلے ہی بھاری بھرکم ٹیکس لگے ہوئے ہیں، اس کے بجاءِے حکومت کو ٹیکس بچانے اور اسمگلروں پکڑنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا،’’ہر دو ماہ بعد تمباکو پر ایک نیا ٹیکس لگانے کا مطلب تمباکو کی جائز اور قانونی صنعت کوتباہ کرنا اور تمباکو پینے والوں کو اسمگلنگ کے ذریعہ آنے والی سگریٹس پینے پر مجبور کرنا ہے۔اس سے میرے کاشتکاروں کا روزگار برباد ہو جائے گا۔‘‘ انہوں نے اپنی بات مزید جاری رکھتے ہوئے کہا،’’ہم کبھی بھی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں ہمارے روزگار سے محروم کر دے اور خدا کا خوف رکھنے والے غریب لیکن ایماندار کاشتکاروں کی توہین کرے۔ ایک ایسے صوبے میں جو پہلے ہی انتہا پسندی کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے، ایسے اقدامات سے غریب لوگوں کی جرائم پیشہ تنظیموں میں شمولیت کے لیے حوصلہ افزائی ہو گی۔‘‘ انہوں نے اپنی بات جاری رکھنے ہوئے کہا،’’یہ نیا پاکستان نہیں ہے جس کی ہم نے آرزو کی تھی۔حکومت کی جانب سے ہمارا روزگار چھیننے کی کسی بھی کوشش کی پورے خیبر پختونخوا صوبہ میں ہزاروں غریب کاشتکاروں کی جانب سے مزاحمت کی جائے گی۔مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم ، وزارت صحت کی جناب سے جاری کیے جانے والے اس قسم کے بیانات کا نوٹس لیں گے جن کا مذاق اڑایا جائے اور میں بڑے خلوص سے امید کرتا ہوں کہ اس بارے میں بہتر سمجھ بوجھ سے کام لیا جائے گا۔‘‘

مزید : کامرس