سڑک کی تعمیر پر غیر معمولی اخراجات اور جرمن سفیر کی حیرت

سڑک کی تعمیر پر غیر معمولی اخراجات اور جرمن سفیر کی حیرت

ہمارے مُلک میں ٹھیکیداری نظام اور تعمیرات کے حوالے سے بڑی بڑی مثالیں دی جاتی ہیں۔ سب سے بڑی بات تو ٹھیکوں میں کمیشن اور ناقص تعمیر کی ہوتی ہے،اب تو ہمارے غیر ملکی دوستوں نے مذاق اُڑا کر نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا میں کیا معیار اور کیا ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوہلر نے اپنے ٹویٹ میں ایک سڑک دکھائی اور بتایا کہ یہ سڑک ازا خیل (خیبرپختونخوا) میں مقامی لوگوں نے جرمن ادارے ایف ڈبلیو پریس کے تعاون سے تعمیر کی جو بارہ انچ موٹی اور ایک کلو میٹر لمبی ہے۔ یہ سڑک 40لاکھ روپے میں تعمیر ہوئی،جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے بھی ایک کلو میٹر لمبی اور چھ انچ تہہ کی سڑک بنائی، جس کی تعمیر بھی ناقص ہے اور اس پر ایک کروڑ روپے کھپا دیئے گئے، دوسرے معنوں میں سو فیصد سے بھی زیادہ خرچ آیا اور معیار بھی ٹھیک نہیں۔تحریک انصاف خیبرپختونخوا کو رول ماڈل قرار دیتی رہی ہے اور اب تک اس پر اصرار کرتی ہے اور گزشتہ پانچ سال وہاں اِسی جماعت کی حکمرانی تھی، اب یہ سوال تو ایک غیر ملکی ڈپلومیٹ نے اٹھایا اور ٹویٹ کیا،جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ہم نے ایک بار پہلے بھی عرض کیا اور اب پھر یاد دِلاتے ہیں کہ کرپشن اوپر کی سطح پر تو ضرور ہے اور اس کے لئے وزیراعظم عمران خان سیاسی استحکام بھی داؤ پر لگانے کو تیار ہیں،لیکن جو کرپشن درجہ بدرجہ اداروں میں نچلی سطح پر ہے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ غیر معیاری تعمیر اور ٹھیکوں میں سے کمیشن کا کلچر بہت وسیع اور گہرا ہے،اس کو دور کرنا بھی ضروری ہے، کہ یہ تو براہِ راست عام شہریوں کو متاثر کرتا ہے کہ اگر ایک بار کوئی سڑک ناقص طورپر تعمیر کر دی جائے تو وہ جلد ٹوٹ جاتی ہے، اور علاقے کے لوگ پھر سے اسی محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں، جو سڑک کی تعمیر سے پہلے ہوتی ہے۔جہاں تک ان محکموں کا تعلق ہے تو یہ گڈ گورننس کی زد میں آتے ہیں اور صوبائی حکومت اور اس کے اہلکاروں اور افسروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسے چیک کریں۔اِدھر بھی تو توجہ دیں۔

مزید : رائے /اداریہ