مائیکروفنانس سے نچلے طبقے کی معیشت میں شمولیت بڑھ گئی

مائیکروفنانس سے نچلے طبقے کی معیشت میں شمولیت بڑھ گئی

لاہور(پ ر)پاکستان مائیکروفنانس انوسٹمنٹ کمپنی ( پی ایم آئی سی) اور پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک ( پی ایم این) کی جانب سے اسلا م آباد میں مشترکہ طور پر دو روزہ مائیکرو فنانس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد مائیکروفنانس کی بدولت معیشت میں نچلے طبقے کی شمولیت میں تیزرفتار اضافے کا جائزہ لینا تھا۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے پی ایم آئی سی، پی ایم این ، ڈی ایف آئی ڈی، ایس ای سی پی اور ایس بی پی کے نمائندگان نے خطاب کیا۔ نوید احمد خان،چیئرمین پی ایم آئی سی، نے صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد او ر فنانشنل خدمات کے وسیع دائرہ کار کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے جیسے موضوعات پر بات کی۔ انہوں نے فنانشل سیکٹرز/ کلسٹرز قائم کرنے اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے روابط پید ا کرکے ہر کلسٹر میں مائیکرو اور چھوٹے کاروباروں کو اکٹھا کرنے کرکے بینکوں پر انحصار میں اضافے کے موضوع پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔انہوں نے اقتصادیشعبے کی تعمیر و ترقی کے لئے بطور صف اول کے ایک ادارے، پائیدار ترقی کے مقاصد (ایس ڈی جی 2030 ) کے حصول کیلئے معاشی شعبے میں نچلے طبقے کی شمولیت اور غربت کے خاتمے کے حکومتی ایجنڈے میں شریک ادارے کے طور پر پی ایم آئی سی کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے شعبے میں خدمات انجام دینے والے اداروں کے استعداد کار میں اضافے ، نئے طریقہ کار وضع کرنے کے لئے مشترکہ کوششوں ، ضرورت کی بنیاد پر مائیکرو فنانسنگ کے اطلاق اور ملک کی دیہی آبادی اور خواتین کے مفاد میں نئے اقدامات کے آغازکی اہمیت کا اعادہ کیا۔ چیئرمین پی ایم این سید ندیم حسین نے سماجی فلاحی پروگراموں سے استفادہ حاصل کرنے والے مستحق افراد ، معاشی خدمات کی فراہمی کے لئے حکومتی سرپرستی میں شروع کئے گئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچررعایتی قرضہ سکیموں کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا ۔

، حکومت کے ’صحت انصاف ‘ پروگرام کے لئے مائیکرو فنانس شعبے کے تعاون اور زرعی قرضوں کو فروغ دینے کیلئے ڈیزاسٹر رسک فنڈ کے قیام کے لئے

کانفرنس میں اہم سٹیک ہولڈرز ، ریگولیٹرز ، مائیکرو فنانس کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، کمرشل بینکوں ، ڈیجیٹل فنانشل خدمات فراہم کرنے والے اداروں، فن ٹیک، انشورنس کمپنیوں، کارپوریٹ اداروں، مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں، پالیسی ساز اداروں ، ترقیاتی اداروں ، حکومتی نمائندگا اور مائیکرو فنانس خدمات سے استفادہ حاصل کرنے والے افراد نے شرکت کی ۔

کانفرنس کا اہم ترین پہلو یہ تھا کہ اس موقع پر مائیکرو فنانس خدمات سے استفادہ حاصل کرنے والے ایسے افراد نے بھی شرکت کی جن کا تعلق تھرپارکر سندھ اور شیخوپورہ پنجاب جیسے دور افتادہ علاقوں سے تھا۔ استفادہ حاصل کرنے والے افراد نے مائیکرو فنانس کے ذریعے غربت سے ترقی کے سفر کی داستان بیان کی ۔ جہد مسلسل کی ان کہانیوں کے باعث حاضرین میں از سر نو حوصلہ اور جذبہ پیدا ہوا۔

کانفرنس کے دوران گفت و شنید کا مرکز حکومت کی پیش کی گئی نیشنل فنانشل انکلوژن سٹریٹجی (این ایف آئی ایس )کے تحت موثر و بامعنی ترقی کے حصول کیلئے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر مرکوز رہا ۔

مزید : کامرس