شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشیؒ ۔۔۔ اپنی ذات میں ایک انجمن

شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشیؒ ۔۔۔ اپنی ذات میں ایک انجمن
شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشیؒ ۔۔۔ اپنی ذات میں ایک انجمن

  

حکیم محمد حسن قرشیؒ نے ایک بڑے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے مومنانہ زندگی بسر کی اور آخر یہ جامع الکمالات ہستی 6دسمبر 1974ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملی۔ آپ جس خاندان کے چشم و چراغ تھے، اس کی جڑیں سرزمین کشمیر میں پیوست ہیں۔ ان کے والد بزرگوار کا نام قاضی فضل الدین تھا، قاضی صاحب ایک نہایت برگزیدہ شخصیت اور چودھویں صدی کے ممتاز علماء اور مجاہدین میں سے تھے، وہ دہلی کے معروف عالم دین حضرت مفتی صدرالدین آزردہ کے تلامذہ میں شامل تھے، قاضی صاحب ایک باعمل مسلمان اور مصنف بھی تھے۔

شعر و شاعری سے بھی انہیں دلچسپی تھی، بالخصوص فارسی زبان کے ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ کا حمدیہ اور نعتیہ کلام نہایت عمدہ ہے، سلسلہ چشتیہ میں خواجہ شمس الدین سیالوی سے بیعت ہونے کی وجہ سے ان کے مزاج پر دینی رنگ غالب تھا، آپ کی ولادت مولانا قاضی فضل الدین کے ہاں 1896ء میں گجرات میں ہوئی۔

ابتدائی تعلیم گجرات میں حاصل کرنے کے بعد لاہور کے اسلامیہ کالج میں داخل ہوئے، کچھ عرصے بعد طب سے خصوصی دلچسپی آپ کو دہلی لے گئی، طبی تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے طبیہ کالج دہلی میں ہی تدریس کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں بمبئی تشریف لے گئے، وہاں طبیہ کالج دہلی کی طرز پر ایک کالج قائم کیا اور ساتھ ساتھ مطب کا آغاز کیا۔

حکیم محمد حسن قرشی کا بمبئی میں قیام زیادہ عرصہ نہیں رہا، چونکہ والدہ کے اصرار پر انہیں گجرات واپس آنا پڑا ، پھر انہوں نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا، دل محمد روڈ پر اپنا مطب قائم کیا۔ مطب نے جلد ہی ایک کامیاب شفاخانے کے طور شہرت حاصل کرلی، حکم صاحب غرباء و مساکین کا نہ صرف مفت علاج کرتے،بلکہ ان کی مالی امداد بھی کردیتے تھے۔

آپ کی طبابت کی شہرت طبقہ امر أور روساسے لے کر ایک عام آدمی تک یکساں تھی، انگریز گورنر ایک مرتبہ کسی بیماری میں مبتلا ہوا اور جب ڈاکٹروں کے علاج سے کوئی افاقہ نہ ہوا تو وزیر اعظم پنجاب سرسکندر حیات خاں کے مشورے پر حکیم محمد حسن قرشیؒ کو بلوایا گیا، انہوں نے بیماری سے متعلق تمام باتیں معلوم کرنے کے بعد علاج شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے گورنر کو شفا بخشی۔حکیم صاحب کو شفاء الملک کے خطاب سے نوازا گیا۔

پنجاب کے وزیر اعظم سکندر حیات نے اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں کہا:’’ مجھے اس بات کا فخر ہے کہ یہ خطاب اس وقت دیا گیا، جب حکومت کی خدمت مجھ سے متعلق ہے۔ حکیم صاحب کی شہرت نہ صرف پنجاب میں بلکہ تمام ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے اور آپ کی ذات گرامی کی وجہ سے لاہور، دہلی اور لکھنؤ کی طرح طبی مرکز بن گیا ہے اور پنجاب جس طرح اور دائروں میں رہنمائی کررہا ہے، اسی طرح حکیم صاحب کی وجہ سے طبی خدمات میں بھی پیش پیش ہے۔

میں صوبے کا آئینی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے تمام پنجاب کی طرف سے حکیم صاحب کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خداوند کریم ان کو زندہ و سلامت رکھے، تاکہ ان کا فیض دیر تک جاری رہے‘‘۔

سرسکندر حیات خان کو طب یونانی سے جوگہرا تعلق رہا، اس کا اکثر اصحاب کو علم نہیں ہوگا۔ ابتدائی تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے تھے، جہاں طب جدید یعنی ایلو پیتھی کی تعلیم حاصل کی، مگر تعلیم کی تکمیل سے پہلے ہی بعض وجوہ کی بنا پر انہیں واپس آنا پڑا۔

ریزروبینک کے ڈپٹی گورنری کے زمانے میں درد گردہ کا شدید دورہ ہوا۔ کلکتہ کے بہترین ڈاکٹروں کے زیر علاج رہے اور ایکس ریز ہوئے۔ ڈاکٹروں کے بورڈ نے فیصلہ کیا کہ گردے اور مثانے کی درمیانی نالی (حالب) میں رسولی ہے اس لئے اس کا آپریشن ہونا چاہئے۔ ڈاکٹروں نے رائے دی کہ یہ نازک آپریشن ہندوستان میں کامیاب نہیں ہوسکتا، اس لئے وی آنا چلے جائیں، چنانچہ وہ اس خیال سے پنجاب آئے کہ اپنے عزیزوں سے رخصت ہو کر یورپ جائیں۔

یہاں ان کے بعض عزیزوں نے مشورہ دیا کہ جانے سے پہلے شفاء الملک حکیم فقیر محمد چشتی سے مشورہ کرلیں، چنانچہ حکیم صاحب نے سردار صاحب کا معائنہ کیا اور رائے ظاہر کی کہ حالب میں رسولی نہیں،بلکہ پتھری ہے اور چند روز کے علاج سے اسے خارج کیا جاسکتا ہے۔

سکندر حیات خان نے حکیم صاحب کا علاج کیا اور چند روز میں ہی سنگریزہ خارج ہو گیا اور وہ صحت یاب ہوگئے، اس پر سردار صاحب کو تعجب انگیز مسرت ہوئی اور وہ طب یونانی کے کمالات کے معترف ہوگئے۔

جب انجمن حمایت اسلام کی انتظامیہ نے انہیں طبیہ کالج میں پرنسپل کا عہدہ پیش کیا، بعض احباب نے کہا معلمی میں کیا رکھا ہے، مطب سے آپ کو جو آمدن ہورہی ہے، اس کے مقابلے میں کالج کی تنخواہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوگی، لیکن انہوں نے سوچا علم کی شمع روشن کرنا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا موجب ہے اور یہ سوچتے ہوئے انہوں نے انجمن حمایت اسلام کی پیش کش قبول کرلی، جس وقت حکیم صاحب نے طبیہ کالج کی پرنسپل شپ سنبھالی، اس وقت یہاں طب کی کلاسز منعقد ہوا کرتی تھیں، حکیم صاحب کی کاوشوں نے اسے طبیہ کالج لاہور بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

علامہ اقبال انجمن حمایت کے روح رواں تھے اور اس کی تمام مینٹنگز اور اجتماعات میں شرکت کیا کرتے تھے۔ حکم صاحب بچپن ہی سے علامہ اقبال کے مداح تھے، انجمن کے اجلاسوں میں بالمشافہ ملاقات کا موقع ملا۔

علامہ اقبال طبی مشاورت اور علاج کی غرض سے حکم نابینا سے رجوع کیا کرتے تھے، لیکن جب حکیم نابینا نے نظام حیدر آباد کی ملازمت قبول کرلی تو وہ دہلی سے حیدر آباد دکن چلے گئے۔ حضرت علامہ اور حکیم محمد حسن قرشی کے درمیان روابطہ بڑھ گئے، حکیم صاحب چونکہ انہیں بچپن ہی سے دل و جان سے چاہتے تھے، اس لئے یہ روابطہ معالج اور مریض سے زیادہ عقیدت و احترام کے ساتھ چاہت اور دلی وابستگی کے رشتے میں تبدیل ہوگئے۔

اقبال جیسی شخصیت کا علاج کرنا کوئی آسان بات نہ تھی، ان کی جسمانی حالت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی حالت کو بھی مدنظررکھنا ضروری ہوتا تھا، قرشی صاحب کو خدانے یہ اہلیت دی تھی کہ وہ مریض کی جسمانی حالت کے ساتھ ساتھ ذہنی کیفیت کو بھی جان لیتے تھے، چنانچہ اقبال کے علاج میں انہوں نے دواؤں، پسندیدہ غذاؤں اور ذہنی و فکری غذا، سب کو اچھی طرح پیش نظر رکھا۔کبھی ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی اور کبھی سنجیدہ اور دقیق علمی امور پر بحث ہوتی اور کبھی لطائف اور بذلہ سنجی۔

کبھی جان بوجھ کر خاموشی کو توڑا جاتا اور کبھی حسب موقع بات مختصر کردی جاتی۔غرضیکہ یہ ایک مشکل ذمہ داری تھی، جسے قرشی صاحب جیسا زیرک، تجربہ کار اور غیر معمولی ذہانت کا مالک معالج ہی نباہ سکتا تھا، حکیم صاحب جب جاوید منزل آتے تو کرسی قریب کرکے علامہ کی چارپائی کے ساتھ بیٹھ جاتے، ان کی خیریت دریافت کرتے، گزشتہ دن کی صحت کے مدد جذر پربات ہوتی اور ساتھ ساتھ وہ علامہ کے ہاتھ سہلاتے رہتے، اگر فوری اقدام کی ضرورت ہوتی تو دواؤں کے اثرات، ردوبدل، غذاؤں کے فوائد اور پرہیز پر بات ہوتی۔ علامہ کے سوالات کے جوابات دیتے اور جب تک حکیم صاحب بیٹھے رہتے علامہ مطمئن اور مسرور نظر آتے۔ علامہ کے ساتھ گفتگو میں شریک ہونے کے لئے جو ذہنی معیار درکار تھا، حکیم صاحب اس پر پورا اترتے تھے، چنانچہ وہ علامہ کی فکری الجھنوں کامداوا بھی تلاش کرتے رہتے۔

علامہ اقبال کا معالج ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان کے نہایت مخلص اور قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ شاعر اسلام حفیظ جالندھری فرماتے ہیں: ’’شفاء المک محض جسمانی عوارض دور کرنے کے طبیب نہیں تھے۔

وہ جسمانی عوارض کے لئے ادویہ دیتے، لیکن ساتھ ہی جسمانی دکھوں کی بہت سی جڑیں ذہنی طور پر معلوم کرلیتے اور اپنی محبت اور خوش گفتاری سے مریض کے ذہن کو جسمانی آسودگی کے ساتھ روحانی توانائی سے بھی بھردیتے‘‘۔

علامہ اقبالؒ کے دوستوں اور عزیز و اقارب نے شفاء المک کا ذکر ہمیشہ بہت اچھے الفاظ میں کیا اور قرشی صاحب کی اقبال سے محبت و عقیدت اور بطور معالج ان کی پُرخلوص کوششوں کو ایک درخشندہ مثال کے طور پر یاد کیا۔

علامہ کے دوست، نامور ادیب و صحافی مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں: ’’ معالجوں میں جس شخصیت نے مرحوم( علامہ اقبال) کی علالت کے آخری دور میں سب سے بڑھ کر اور انتہائی محبت و عقیدت کے ساتھ خدمات سرانجام دیں۔وہ شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی ہیں، حضرت مرحوم کے تمام نیاز مند حکیم صاحب ممدوح کے ہمیشہ احسان مند رہیں گے‘‘۔

مزید : رائے /کالم