ایشو اور نان ایشو

ایشو اور نان ایشو
ایشو اور نان ایشو

  

بڑا ہی مشکل محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست دانوں خصوصاً حکومت میں موجود لوگوں کو ایشو اور نان ایشو کا فرق کس طرح سمجھایا جائے۔ اگست کے مہینے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ اخبارات دیکھ لئے جائیں تو معلوم ہوجائے گا کہ کس طرح نان ایشو کے معاملات پر توانائیاں خرچ کی گئی ہیں۔ بلا جواز، بلاضرورت، بلا وقت، جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔

البتہ خلفشار پیدا کیا گیا ہے۔ کس نے مشورہ دیا کہ لاہور میں گورنر ہاؤس کی دیوار کو مسمار کر کے لوہے کا جنگلا لگایا جائے۔ گورنر ہاؤس ہے یا چڑیا گھر۔ گورنر ہاؤس تو نہایت اہم اور معتبر جگہ ہوتی ہے۔کراچی میں قدیمی کاروباری مرکز ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں موجود تجاوزات کو مسمار کرنے کا کام کراچی کے میئر وسیم اختر کر رہے ہیں۔ پچاس پچاس سال سے کام کرنے والے لوگ بے روز گار ہو گئے ہیں، میئر یا حکومت نے کسی متبادل کا انتظام نہیں کیا۔

میئر کو سپریم کورٹ میں گزارش کرنا چاہئے تھی کہ متبادل انتظام سے قبل تجاوزات ہٹانے کی کارروائی بے مقصد اور فضول رہے گی۔ صوبہ سندھ میں وزیر تعلیم سردار علی شاہ سکولوں کے نصاب میں تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ انہیں اچانک یہ خیال کیوں آیا ہے۔ نصاب کی تبدیل تو بہت ہی غور کرنے کا کام ہے۔

زلفی بخاری کے ذہن میں یہ خناس کیوں آیا کہ انہوں نے نیب کے وکیل کو سخت سست کہا ، جس کی وجہ سے سپیشل پراسیکیوٹر نے استعفیٰ دے دیا۔ وہ دہری شہریت ضرور رکھتے ہیں ، ان کا قیام غیر ممالک میں ہے۔

جب وہ پاکستان میں کسی عہدے پر تعینات کئے گئے ہیں تو انہیں پاکستانی اخلاق، ضابطوں کی لازمی پابندی کرنا ہوگی۔ اگر نہیں کر سکتے تو استعفے پیش کریں اور چلتے بنیں۔ وزیراعظم کی ان کے ساتھ دوستی ضرور ہوگی، لیکن عمران خان ان کے دوست کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم بھی ہیں۔زلفی کو ان کے لئے پریشانیوں کے دروازے نہیں کھولنا چاہئے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں تمام طبقات اور مکاتیب فکر کے لوگ پریشان حال ہیں، ڈالر تیزی سے اوپر کی طرف جارہا ہے، وزیراعظم کو کس نے مشورہ دیا کہ وہ مرغی اور انڈے کا غریب لوگوں کو مشورہ دیں۔

غریب اور وسائل سے مکمل محروم طبقے کے لوگوں کی ذاتی آمدنی کے لئے تجویز اچھی ہے، لیکن اس تجویز کو پیش کرنے کا وقت درست نہیں تھا۔ اس وقت تو جمع جمایا کاروبار کرنے والے لوگ جس پریشانی سے دوچار ہیں ، اس کے بارے میں قیاس ہے کہ وزیراعظم کے مشیروں کو ادراک نہیں ہے۔

مذاق نہیں، حقیقت ہے کہ جب آٹے کی فروخت میں کمی واقع ہوجائے اور حمام کے دوکانوں پر حجامت اورداڑھی بنوانے والے گاہکوں کی تعداد میں کمی واقع ہوجائے تو کوئی تو وجہ ہوگی ۔ مشیروں کو کیوں پتہ ہو، انہیں تو خسارے میں چلنے والے ملک کے خزانہ سے تن خواہ مل جاتی ہے، مراعات اور سہولتیں مل رہی ہیں۔

وفاقی حکومت یا صوبائی حکومتیں ، نان ایشو کو چھیڑ دیتی ہیں۔ بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔ ہر سطح پر نان ایشو زپر گفتگو کر کے وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہم پاکستانی وقت ضائع کرنے کے ماہر ہیں،وقت ضائع کرنا، کام کے اوقات میں تفریح کرنا، ہنسی مذاق کرنا ہمارا خاصا بن گیا ہے۔

مُلک کے ایشو کیا ہیں، ان پر کوئی گفتگو نہیں کرتا ہے۔ ذمہ دار افراد کے ساتھ گفتگو کا اگر موقع مل جائے تو لگتا ہے ٹال رہے ہیں یا انہیں ادراک ہی نہیں ہے کہ ایشو کیا ہوتے ہیں۔ مسائل حل کرنا ہی تو حکومتوں کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ بجلی کا بحران کب تک حل ہو جائے گا؟ کون حل کرے گا ؟ پانی کے ذخائر تعمیر کرنے میں حکومتیں کتنی دلچسپی لے رہی ہیں ؟ کیا ذخائر کی تعمیر کی ذمہ داری چیف جسٹس پر عائد ہوتی ہے ؟ انہوں نے ابتدا کر دی ہے ، اس مہم کو آگے بڑھانا اور اختتام پر پہنچانا تو حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔

روز گار کے مواقع پیدا کرنا اور اہلیت کی بنیاد پر شفاف طریقے سے بے روزگاروں کو روز گار فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عدل و انصاف کی فوری فراہمی، نظام پولیس میں بہتری، سرکاری تعلیمی اداروں میں بہترین تعلیم اور سرکاری ہسپتالوں میں بوقت ضرورت بہترین سہولتیں فراہم کرنا حکومتوں کی انتہائی اہم ذمہ داری بنتی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لئے بہترین مواقع اور سہولتیں پیدا کرنا اور ماحول بنانا کس کی ذمہ داری ہے ؟ پاکستان اب تک کیوں نہیں بیرونی یا ملکی سرمایہ کاروں کے لئے بہترین ملک بن سکا ہے۔ کس کے سوچنے کا کام ہے؟ بیانات دینے سے تو مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوئے ۔ عملی کام کرنا ہوتا ہے۔

صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری بھی بے وقت کی راگنی میں بظاہر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ اسلام آباد والے ملک میں عوام کی حکمرانی کے قائل ہی نہیں ہیں۔

کبھی کہتے ہیں کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم میں ترامیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ آئین کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ سابق صدر اس وقت ذہنی طور پر چاروں طرف سے اپنے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

منی لانڈرنگ، اومنی گروپ اور بحریہ ٹاؤن کے معاملات اتنے اُلجھے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنے آپ کو درپیش صورتِ حال سے محفوظ رکھنے اور رہنے کی فکر ہے۔

معاملات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ اُنہیں لپیٹنا ان کے لئے یا کسی اور کے لئے بھی آسان نہیں ہے۔ ایسی صورتِ حال میں نان ایشو پر ہی گفتگو کر کے عوام کی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے۔ دیکھیں آنے والا وقت کیا کروٹ لیتا ہے؟

مزید : رائے /کالم