حکومت اور عوامی اعتماد کا بحران

حکومت اور عوامی اعتماد کا بحران
حکومت اور عوامی اعتماد کا بحران

  

بہت سی وضاحتوں اور مسلسل انکار کے باوجود یہ معاملہ دب نہیں سکا کہ وزیر خزانہ اسد عمر مستعفی ہو رہے ہیں۔ کیا اسد عمر اپنی کریڈیبلٹی اور اعتبار کھو چکے ہیں؟ مُلک کے وزیر خزانہ کو تو ہر بات سو دفعہ سوچنے کے بعد کرنی چاہئے، کیونکہ ایک ایک لفظ مُلک میں مالیات کی صورتِ حال کو سنبھال یا بگاڑ سکتا ہے۔

عوام کا اپنے لیڈروں سے اعتبار اُٹھ جائے تو بد اعتمادی جنم لیتی ہے۔بداعتمادی وہ زہر ہے، جو معاشرے کے وجود میں سرایت کر جائے تو ہر شے کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہے۔

اسد عمر ڈالر کی قیمت میں10روپے اضافے سے صرف ایک دن پہلے ٹی وی پروگراموں میں کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف کا ڈالر کی قیمت بڑھانے کے لئے کوئی دباؤ نہیں، لیکن اگلی صبح عوام پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ روپیہ 10روپے گر گیا ہے۔ پھر آگے جو سیریز چلی اُس نے مزید پریشان کر دیا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے خود تسلیم کیا کہ سٹیٹ بینک نے انہیں بتایا تھا کہ روپے کی قدر کم کی جارہی ہے، جب انہیں علم تھا تو وہ صرف بارہ گھنٹے پہلے یہ کیسے کہہ رہے تھے کہ قیمت کم نہیں کی جارہی۔ حیرت کا اصل سامان تو اس وقت پیدا ہوا جب وزیر اعظم نے یہ کہا کہ انہیں تو روپے کی قدر کم ہونے کا علم ٹی وی کی خبروں سے ہوا۔

اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ ایک طرف اسد عمر نے قوم کو اندھیرے میں رکھا اور دوسری طرف مُلک کے وزیراعظم کو بھی اطلاع نہیں دی،جبکہ اسد عمر یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے سٹیٹ بینک کے فیصلے سے وزیراعظم کو فوری طور پر آگاہ کر دیا تھا۔

کیا ایسے واقعات کے بعد عوام حکومتی زعماء کی زبان پر اعتبار کر سکیں گے؟ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا ر شتہ بہت بڑی طاقت ہوتا ہے، لیکن اس طاقت کو بے اعتباری کی کند چھری سے کمزور کیا جا رہا ہے۔۔۔چین کے مشہور فلسفی کنفیوشس ایک بار کسی شہر سے گزرے تو وہاں حالات بہت خراب تھے۔چند دانشوروں نے کنفیوشس کو گھیر لیا اور شہریوں میں پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرنے کے لئے اُن سے رہنمائی مانگی۔ کنفیوشس نے اُنہیں بتایا کہ بطور قوم زندہ رہنے کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

خوراک،اسلحہ اور اعتماد، دانشوروں نے پوچھا اگر ان سب سے کسی چیز کو بہ امر مجبور ترک کرنا پڑے تو کسے ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا: ’’خوراک‘‘۔ دانشوروں نے پوچھا، باقی دو چیزوں میں سے ایک چیز کون سی ترک کی جائے۔

اگر مجبوراً کرنا پڑے، کنفیوشس نے چند لمحے توقف کے بعد کہا ’’اسلحہ‘‘۔کنفیوشس کا جواب سُن کر دانشوروں کی آنکھوں میں سوالات اُٹھنے لگے۔اس سے پہلے کہ وہ اِن سوالات کو زبان پر لاتے کنفیوشس یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔’’ قومَیں خوراک اور اسلحہ کے بغیر زندہ رہ سکتی ہیں،لیکن اگر اعتماد نہ رہے تو اُن کا زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے‘‘۔

آج ہمارے پاس خوراک بھی ہے اور اسلحہ بھی،لیکن ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہمیں اعتماد سے محروم کیا جا رہا ہے۔قیام پاکستان سے پہلے جب مسلمان الگ وطن کے لئے جدوجہد کر رہے تھے ، تو اُن کے پاس نہ تو اسلحہ تھا اور نہ اقتصادی خوشحالی، صرف اعتماد اور یقین کی طاقت تھی،جس نے قائداعظمؒ کی قیادت میں انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

قیام پاکستان کے بعد ہم خوراک اور اسلحہ کے معاملے میں خود کفیل ہوتے چلے گئے،مگر ہمیں قومی اعتماد سے محروم کیا جاتا رہا۔خاص طور پر حکومت اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی ایک ایسی خلیج حائل کر دی گئی، جو آج تک نہیں پاٹی جا سکی۔

سوائے قائداعظمؒ کے قوم کو ایسا دوسرا لیڈر نہیں ملا،جس پر عوام کا اعتبار جما ہو۔ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑے اور مکان کا وعدہ ایفا نہ کیا تو ضیاء الحق نے نوے دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کر کے گیارہ سال گزار دیئے۔ب

ے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے خوشحالی لانے کے جھوٹے دعوے کر کے قوم کو پہلے سے زیادہ غریب کر دیا۔ اس پس منظر میں ایک کردار اُبھرا،جس کا نام عمران خان ہے۔اُن پر عوام نے پھر اندھے اعتماد و اعتبار کی مہر لگا دی،لیکن اگر وہ غور کریں تو اُنہیں علم ہو جائے گا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ بڑی تیزی سے اس دولت کو کھو رہے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے انہیں صادق و امین اور دیانت دار قرار دیا ہے،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وعدوں کی عدم تکمیل اب عوام کو چبھنے لگی ہے۔اوپر سے قیامت جیسے واقعات ڈھائے جاتے ہیں، جو ڈالر کی قیمت بڑھنے کے اچانک فیصلے جیسے ہوتے ہیں اور عوام ششدر رہ جاتے ہیں کہ کس کا اعتبار کریں کس کا نہ کریں۔

جب حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے تو ریاستی ادارے بھی منافقت کی چادر اُوڑھ لیتے ہیں، کیونکہ یہی تضاد درحقیقت حکمرانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے،جس سے ریاستی اداروں میں بیٹھے ہوئے افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ ریاست کے اکثر ادارے اُس راستے کے متضاد چل رہے ہیں، جو آئین نے متعین کیا ہے۔

آج بھی سپریم کورٹ بار بار تنبیہہ کرتی ہے کہ کوئی خود کو آئین سے بالا تر نہ سمجھے، مگر خود کو آئین سے بالا تر سمجھنے والے قدم قدم پر موجود ہیں۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ حاکم وقت خود آئین کو ثانوی اہمیت دیتا ہے۔ اب اس بات کو لوگ کیسے تسلیم کریں کہ مُلک کا وزیر خزانہ اتنی بڑی خبر مُلک کے چیف ایگزیکٹو کو اتفاقاً یا شعوری فیصلے کے تحت نہیں بتا سکا، جس کے مُلک پر گہرے اثرات مر تب ہونے تھے۔ عمران خان کی الیکشن مہم کے آخری دِنوں میں بیانیہ ہی یہ تھا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ڈالر مہنگا کر کے قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ گویا ڈالر کی مہنگائی تو ان کا سب سے بڑا دُکھ تھا، پھر یہ کیسے ہوا کہ ڈالر کی قیمت میں یکبار 10 روپے اضافہ کیا گیا اور وزیراعظم کو بتایا تک نہیں گیا۔اگر انہوں نے خود یہ بات ٹی وی انٹرویو میں نہ کی ہوتی تو شاید اسے ایک افواہ سمجھا جاتا،مگر انہوں نے تو سب کو حیران کر دیا کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے اس فیصلے سے انہیں آگاہ نہیں کیا۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے اور وزیراعظم کو ہر با ت بتانے کا پابند نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ وزیر خزانہ تو وزیراعظم کے ماتحت ہیں، پھر انہوں نے انہیں آگاہ کیوں نہیں کیا؟اگر کابینہ کے اندر رابطے کا یہ حال ہے تو باہر کیسے رابطہ ہوتا ہو گا، پھر تو ہر محکمہ اپنے حساب کتاب سے چل رہا ہے،اُسے حکومتی پالیسیوں سے کوئی سرو کار نہیں۔

ایک آئیڈیل جمہوری معاشرے میں حکمرانوں کی زبان سے نکلے ہوئے لفظ سب سے بڑی سچائی ہوتے ہیں۔ لوگ اُن کے لفظوں پر اندھا اعتماد رکھتے ہیں، حکمران تھڑے پر بیٹھنے والے گپ باز نہیں،بلکہ پوری قوم کی تقدیر کے مالک ہوتے ہیں،مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا کلچر پیدا نہیں ہو سکا، جو کچھ کہا جاتا ہے،اُس کے عین برعکس ہو جائے تو اس پر ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا۔

ایسے میں اعتماد کا وہ بحران کیوں پیدا نہ ہو،جس کا آج ہم بُری طرح شکار نظر آتے ہیں، جس نے ہمارے اقتصادی اور معاشرتی وجود کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جون 1998ء میں اُس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز کو بھی اسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کا سامنا آج اسد عمر کر رہے ہیں، اُن دِنوں ایٹمی دھماکوں کے بعد پہلے فارن کرنسی اکاؤنٹس منجمد کئے گئے تھے، اُس کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے30جون کو اُن کی بحالی کا حکم دے دیا تھا،لیکن اُس سے پہلے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ روپے کی قدر کم نہیں ہو گی،مگر اُس کے اگلے ہی دن روپے کی قیمت میں ریکارڈ کمی کر دی گئی،جس پر میڈیا، اپوزیشن اور عوام چیخ پڑے۔ سرتاج عزیز کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بڑھ گیا۔ اسد عمر سے مطالبہ تو نہیں کیا جا رہا۔

البتہ ایسی خبریں ضرور آ رہی ہیں کہ پارٹی کے اندر سے اُن پر مستعفی ہونے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے یہ خبر آئی کہ روپے کی قیمت کم کرنے کے معاملے پر جہانگیر خان ترین اور اسد عمر میں گرمی سردی ہوئی ہے،جس کی بعدازاں جہانگیر خان ترین نے تردید کر دی۔ اُس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے افواہیں اڑیں کہ انہوں نے اسد عمر کی سرزنش کی ہے۔

اسے بھی وزیراعظم کے ترجمان نے من گھڑت قرار دیا۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری تو یہ دور کی کوڑی لائے کہ اسد عمر کے مستعفی ہونے کی خبر دراصل مُلک کو اقتصادی بحران میں مبتلا کرنے کی سازش ہے۔اپوزیشن کی طرف سے روپے کی قیمت میں کمی کو خود کش حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور کہیں معاشی دہشت گردی۔ یہ سب باتیں عوام کے حکومت پر اعتماد کو دھچکے لگا رہی ہیں۔

یہ تو وزیراعظم عمران خان کی شخصیت کا کمال ہے کہ عوام اتنے بڑے انہونے واقعات کے باوجود ان سے آج بھی امید لگائے بیٹھے ہیں، تاہم اب انہیں خود بھی سوچنا چاہئے کہ عوام کے اعتماد کو اسی طرح دھچکے لگتے رہے تو آخر وہ ٹوٹ ہی جائے گا۔ بقول شاعر ’’شیشہ ہو یا دِل ہو آخر ٹوٹ جاتا ہے‘‘۔

مزید : رائے /کالم