توانائی بحران کی وجہ سے انڈسٹری بنگلہ دیش ‘ ملائیشیا منتقل ہوئی ‘ ڈاکٹر اختر ملک

توانائی بحران کی وجہ سے انڈسٹری بنگلہ دیش ‘ ملائیشیا منتقل ہوئی ‘ ڈاکٹر ...

ملتان( سپیشل رپورٹر) حکومت سستی اور صاف ستھری توانائی کی فراہمی کے لیے بھرپور کام کر رہی ہے۔ پوری دنیا متبادل ذرائع اور توانائی پر منتقل ہو رہی ہے ہمیں بھی متبادل ذرائع سے (بقیہ نمبر63صفحہ12پر )

استفادہ حاصل کرنا ہوگا۔ نیٹ میٹرنگ بہترین طریقہ ہے عوام کو اس کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ پاکستان کی معاشی صورتحال ایندھن کی درآمدگی کی اجازت نہیں دیتی۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر توانائی محمد اختر ملک نے یونیفائیڈ میڈیا کلب کے زیر اہتمام "پاکستان کی توانائی کی صورتحال" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے کیا۔ اس موقع پر امریکی تھنک ٹینک کے نمائندے سائمن نکولس نے پاکستان کی توانائی صورتحال پر رپورٹ پیش کی۔ پاکستان کے توانائی سیکٹر پر یہ کسی غیر ملکی تھنک ٹینک کی پہلی مفصل اور جامعہ رپورٹ تھی صوبائی وزیر توانائی نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ پبلک استعمال کرتی ہے۔ جبکہ دیگر دنیا میں انڈسٹری پہلی ترجیح ہے۔ توانائی کے بحران کے باعث پاکستان کی انڈسٹری کا ایک بڑا حصہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا شفٹ ہو چکا ہے۔ توانائی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پوری دنیا متبادل ذرائع توانائی پر منتقل ہو رہی ہے۔ ہمیں بھی اس پر توجہ کرنا ہوگی۔ جرمنی جیسے ملک میں جہاں سورج بھی مکمل نظر نہیں آتا وہاں پر بھی 80 ہزار میگاواٹ پیدا کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت صورتحال کا مکمل ادراک رکھتے ہوئے متبادل توانائی پر توجہ کیے ہوئے ہے۔ پاکستان معاشی صورتحال ایندھن کی درآمدگی کی اجازت نہیں دیتی۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے بہترین مفاد کے لیے کام کرے گی۔ بنگلہ دیش نے انڈسٹری کو ترجیح دی ہے ۔ قائد اعظم سولر پارک کی کاسٹ اور دیگر دنیا کے منصوبوں کی کاسٹ میں بہت فرق آ رہا تھاجس پرآڈٹ کرانے کے لئے کہ دیاگیاہم لوگوں کے پیسوں کے کسٹوڈین ہیں۔ ساہیوال کول پلانٹ کا بوائلر تبدیل کرکے مقامی کوئلہ استعمال کیا جائے گا۔ قطع نظر اس بات کے کہ کس حکومت کا منصوبہ تھا۔ عوامی فلاح کے منصوبے جاری رہیں گے۔انسٹیٹیوٹ آف انرجی، اکنامک اینڈ فنانشل انالسز کے ماہر سائمن نکولس نے کہا کہ پاکستان کو 2030ء تک اپنی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے سولر اور ونڈ پاور سے استفادہ حاصل کرنا ہوگا۔ پانی اگرچہ سستا ترین ذریعہ ہے لیکن بڑے ڈیم بنانے میں وقت اور فنڈ درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی متبادل ذرائع توانائی بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ انرجی سسٹم جہاں عام آدمی، بزنس مین اور سب سے بڑھ کرحکومت پر ایک بوجھ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ فوسل دیول پر بے حد انحصار ہے۔ سائمن نکولس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان اس وقت 70 فیصد توانائی فوسل فیولز سے پیدا کر رہا ہے۔ جبکہ پانی اور دیگر ذرائع 20 فیصد توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انھوں نے IEEFA کے 2030ء ماڈل میں تجویز کیا کہ اس ماڈل پر عمل کرتے ہوئے پاکستان 2030ء تک متبادل ذرائع توانائی کے ذریعے 30 فیصد توانائی پیدا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر