سابق پرنسپل اور چیف پرووسٹ کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق عدالتی حکم کالعدم

سابق پرنسپل اور چیف پرووسٹ کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق عدالتی حکم ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقاراحمدسیٹھ اور جسٹس مسرت ہلالی پرمشتمل ڈویژن بنچ نے خیبرمیڈیکل کالج کے سابق پرنسپل ،چیف پرووسٹ اورایڈمن افیسرکے خلاف ایف آئی آرکے اندراج سے متعلق عدالتی حکم کالعدم قرار دیدیا۔فاضل بنچ نے بیرسٹرامیراللہ چمکنی کی جانب سے دائر شیرعبداللہ وغیرہ کی رٹ کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیاکہ کالج کی ایک وارڈن صباء میمونہ نے انہیں دھمکانے اور زدوکوب کرنے سے متعلق 22Aکاکیس دائر کیا جس پر عدالت نے درخواست گزارسمیت تین اعلیٰ افسران کے خلاف ایف آئی آرکے اندراج کاحکم دیاجوکہ غیرقانونی ہے انہوں نے عدالت کودلائل دئیے کہ جس انداز میں 22Aکی درخواست دائرکی گئی جوسراسرغیرقانونی ہے درخواست گزاروں نے صباء میمونہ کے خلاف پہلے ہی سے ایک ایف آئی آردرج کی ہے جس کو کاؤنٹرکرنے کیلئے یہ درخواست دائر کی گئی عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر رٹ منظورکرلی اورایف آئی آرکے اندراج سے متعلق حکم کالعدم قرار دیدیا۔اسی طرح مذکورہ عدالت نے آئی ایم سائنسز کے ٹیچر اوراس کے ضامنوں کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے معاہدے کی پاسداری سے متعلق مقدمے کا اندراج بھی کالعدم قرار دیدیادرخواست گزاروں رستم وغیرہ کے وکیل امیراللہ چمکنی نے عدالت کوبتایاکہ اسکاایک موکل شاکراللہ بیرون ملک سکالرشپ کیلئے گیاقانون کے تحت انہیں پانچ سال یہاں پر پڑھاناتھا مگرانہوں نے یہاں پر جوائن ہی نہیں کیاجس پر اس کے ضامنوں کے خلاف مقدمہ درج کیاگیاہے حالانکہ یہ ایک دیوانی مقدمہ ہے جس پر فوجداری کاقانون لاگونہیں ہوتاعدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ایف آئی آرمنسوخ کردی اور رٹ منظورکرلی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر