پنجاب اسمبلی، حکومت کا اورنج ٹرین منصوبہ جولائی میں مکمل کرنے کا اعلان

پنجاب اسمبلی، حکومت کا اورنج ٹرین منصوبہ جولائی میں مکمل کرنے کا اعلان

لاہور ( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں حکومت نے 30جولائی 2019تک اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل کرنے کا اعلان (بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

کردیا،احتساب عدالت لاہور کے باہر پولیس کی جانب سے لیگی کارکنوں پر تشدد کیخلاف اپوزیشن کاواک آؤٹ،حکومت کاغیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ،سپیکر نے محکمہ ریونیو کو لیز پر دی کسانوں کی زمینوں پر آپریشن سے روکنے کا حکم جاری کر دیا،وزیر قانون کی سربراہی میں معاملے کے حل کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی ہدایت کر دی ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس پونے 2 گھنٹے تاخیر سے سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے زیر صدارت شروع ہو۔اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ اوقاف و مذہبی امور اور ٹرانسپورٹ سے متعلق سوالوں کے جواب دیے گئے ،سوالوں کے جواب وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سعید الحسن اور چوہدری ظہیر الدین نے دیے،مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کے سوال کے جواب میں حکومت نے ایوان کو بتایا کہ حکومت پنجاب 30جولائی 2019تک اورنج لائن ٹرین منصوبے کو ہر صورت مکمل کرے گی اور اس کو عوام کیلئے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے ،فنڈز کی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ،اورنج لائن پراجیکٹ کو فنڈز کی ادائیگیاں باقاعدگی سے ہورہی ہیں ۔بعد ازاں لیگی رکن طاہر خلیل سندھو نے کہا لاہور احتساب عدالت کے باہر پنجاب پولیس کا لیگی کارکنوں پر تشدد کو انتہائی قابل مذمت قراردیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے تشدد سے ایک خاتون کارکن کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور دوسری خاتون کی آنکھ ضائع ہو گئی لہٰذا ہم پنجاب پولیس کے غیر جمہوری فعل اور حکومت کی روائتی ہٹ دھرمی کیخلاف واک آؤ ٹ کرتے ہیں۔لیگی رکن وارث کلو نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا محکمہ ریونیو چھوٹے کسانوں کی پٹہ (لیز)پر لی گئی زمینوں جن کی لیز ختم ہو چکی وہے پر ہل چلا رہا ہے اور ان کی کھڑی فصلیں تباہ کررہا ہے ان لوگوں نے باقاعدہ لیز پر زمین لی تھیں وہ قبضہ گروپ نہیں ہیں ۔کھڑی فصلیں تباہ کرنا غریب کسانوں کے ساتھ زیادتی ہے۔اس کا سپیکر نے نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ محکمہ ریونیو کسی کسان کی کھڑی فصل کو گرائے نہ اور وزیر قانون کی سربراہی میں فوری اس معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔حکومت تمام متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ز کو آپریشن سے روک دے۔ احمد علی اولکھ نے کہاشوگر ملوں والے کاشتکار کے مسائل کا حل فرسودہ طریقہ کار پر کررہے ہیں،مل مالکان اور کسان مل کر بیٹھیں تاکہ مسائل اور تناؤختم ہو اور انہیں بروقت گنے یا فصلوں کی قیمتیں مل سکیںَ ۔حکومت کو خود کسانوں کے مسائل کو حل کرناہوگا۔پوری دنیا میں زراعت پر سبسڈی دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں گنے کے کاشتکاروں پر سولہ سے سترہ فیصد ٹیکس لگایاگیاہے ۔محمد ارشدجاویدنے کہازمیندار اور کسان کی درد بھری کہانی نہیں سناناچاہتا ،کپاس کے بجائے ٹیکسٹائل کو سبسڈی دی جاتی تو پاکستان کی حالت بہتر ہوتی ۔رحیم یار خان میں ملیں شفٹ کی گئیں لیکن ہم پر دہشت گردی کے مقدمات درج ہوئے جہانگیر ترین کی ملیں رحیم یار خان میں سب سے زیادہ گنے کی کرشنگ کررہی ہیں ۔وزیر زراعت نعمان لنگڑیال بحث سمیٹنے لگے تو انہوں نے کہاکہ حکومت کو اپوزیشن کی تجاویز اور مشورے نہیں چاہئے، ان کے ریمارکس پر اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا،اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔نعمان لنگڑیال نے کہاہمیں زراعت پر کسی زرعی کمیشن کی ضرورت نہیں نہ ہی ہمیں اپوزیشن کی کسی تجویز کی ضرورت نہیں،گزشتہ10برسوں میں ملک بجری لوہے والا رہا ، اب اپوزیشن کو زرعی ملک بنانا یاد آگیا ہے۔ وزیر زراعت کے بیان پر ن لیگی اراکین نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور زبردست شور شرابہ شروع کر دیا اس دوران صوبائی وزیر چودھری ظہیر الدین نے اپوزیشن کو منانا شروع کر دیا ۔ڈپٹی سپیکر نے بھی وزیرزراعت کو اپنے مستقبل کے منصوبوں پر رہنے کی ہدایت کردی ۔ وزیر زراعت نے مزید کہا کہ مارکیٹ کمیٹیوں کیلئے نئی پالیسیاں لائیں گے چھوٹے کسانوں کو بلاسوڈ قرضے دیں گے اور کپاس کی گلابی سنڈی کو ختم کر دیں جبکہ سورج مکھی کی فضل کیلئے فی ایکڑپانچ ہزار روپے سبسڈی دیں گے جبکہ ڈی اے پی اور پوٹاش پر ووچر کی صورت میں سبسڈی یں گے اور حکومت ڈرپ آبپاشی کو ترجیج دے گی ۔ انہوں نے کہاکہ احتجاج کرنے والے کسانوں سے معاملات طے پا گئے ہیں پیر سے شوگر ملیں کھل جائیں گی۔ وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے یوان میں ہوئے بحث سمیٹتے ہوئے کہا ہم اپوزیشن کے مفید مشوروں کا خیر مقدم کرتے ہیں ، زرعی کمیشن کا قیام ضرور ہوناچاہئے ،کاشتکاروں کی محنت کا تحفظ کریں گے،کاشتکاروں کو گنے کے پورے پیسے دلائیں گے،شوگر ملوں میں کٹوتی مافیا کے خلاف کارروائی کریں گے،ملاوٹ پر ہم نے زیرو پالیسی اپنا رکھی ہے،ملاوٹ پر کوئی مافیا نہیں پنجاب میں ملاوٹ مافیا رہے گا یا ہم رہیں گے،دہشت گرد ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کریں گے،ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے اجلاس آج صبح 9بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : ملتان صفحہ آخر