دینی مدراس کا بنیادی مقصدروز گار نہیں قرآن و سنت کی صیحح فہم اور اشاعت ہے

دینی مدراس کا بنیادی مقصدروز گار نہیں قرآن و سنت کی صیحح فہم اور اشاعت ہے

پشاور(سٹی رپورٹر)دینی مدارس کا بنیادی مقصد روزگار کے مواقع فراہم کرنا نہیں بلکہ قرآن وسنت کا صحیح فہم اور اس کی اشاعت ہے اور مدارس اس میں سوفیصد کامیاب ہیں کیونکہ اس مادہ پرستی کے دور میں اپنے محدود وسائل کے ساتھ مدارس جوخدمات انجام دے رہے ہیں وہ قابلِ تقلید ہے۔ جس طرح سکولز ،کالجز اور یونیورسٹیاں ہماری ضرورت ہیں اسی طرح مدارسِ دینیہ اسلامی ملک اور اسلامی معاشرے کی ضرورت ہیں ۔معاشرے میں موجودہ دینی ومذہبی بیداری وآگاہی دینی مدارس کی مرہونِ منت ہے۔دینی مدارس عصری علوم اور عصری تقاضوں سے بخوبی واقف ہیں اسی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر مدارس نے اپنے نصاب میں عصری مضامین کو جگہ دی ہیں لیکن دوسری طرف عصری تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی یہی وجہ ہے کہ آج بڑے مناصب اور کلیدی عہدوں پر فائز لوگ بھی دین کی بنیادی تعلیمات سے نابلد ہیں لہذا حکومت مدارس کی فکر چھوڑ کراپنے اداروں کی فکر کرے اور عصری تعلیمی اداروں میں دینی علوم کا اضافہ کرے اور قومی تعلیمی پالیسی میں شخصیت سازی پر توجہ دی جائے تاکہ ان تعلیمی اداروں سے بہترین مسلمان اور ملک وقوم کے وفادار نکلے۔ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس کے صوبائی ناظم مولانا حسین احمد نے پشاور کے مختلف مدارس سے آئے ہوئے مہتممین ومدرسین سے بات چیت کے دوران کیا۔آپ نے مزید کہاکہ مدارس خالصتاً تعلیمی ورفاہی ادارے ہیں جہاں 26لاکھ طلباوطالبات مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ انہی مدارس کی برکت سے آج وہاں علم کی شمعیں روشن ہیں جہاں وسائل کے باوجود حکومت کی رسائی نہیں ۔دینی مدارس ملک میں شرح خواندگی بڑھانے میں اہم کردار اداکررہے ہیں۔آپ نے واضح کیا کہ مدارس کا دہشت گردی اور انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔دہشت گردی کے بارے میں ہمارامؤقف بالکل واضح ہے کوئی بھی ذی شعور انسان اس کی حمایت نہیں کرسکتاتاہم بعض عناصر مدارس دینیہ کے خلاف غلط معمولات کاسہارا لے کربے بنیاد پروپیگنڈاکرتے ہیں اور مدارس کااصل چہرہ اورکردار عوام سے اوجھل رکھ کر ایک غلط تصویرلوگوں کے سامنے پیش کرنے کی مذموم کوششیں کرتے ہیں۔دہشت گردی کاالزام مدارس پر لگایا جاتا ہے لیکن اسلحہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں سے برآمد ہوتا ہے۔مدارس نے کبھی بھی رجسٹریشن سے انکار نہیں کیا ہے رجسٹریشن کے لیے2005 ؁ء کا ترمیم شدہ قانون اب بھی نافذہے مدارس اس کے پابند ہیں اور رجسٹریشن کرواناچاہتے ہیں مگر نہیں ہورہی ہے اور پرانے رجسٹرڈ مدارس کے بھی رینیول نہیں کرنے دیا جارہاہے۔حکومتی پالیسیاں رجسٹریشن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔کوائف طلبی کے نام پر مدارس کوبے جا تنگ کیاجارہا ہے انہو ں نے ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ون ونڈو کی سہولت دینے کامطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر