صوابی یونیورسٹی کے اساتذہ کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری

صوابی یونیورسٹی کے اساتذہ کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری

صوابی( بیورورپورٹ) یونیورسٹی آف صوابی کے اساتذہ کا تنخواہوں سے غیر ضروری کٹوتی کے خلاف ہڑتال جمعرات کو چوتھے روز بھی جاری رہا۔جامعہ صوابی کے پروفیسرز اور اساتذہ نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ اور پروفیسرز کے ساتھ رویہ غیر مناسب ہے جو سٹاف حاضری میں تاخیر یا چھٹی کی وجہ سے غیر حاضر رہتا ہے تو ان کی ماہانہ تنخواہوں سے اس غیر حاضری کی کٹوتی کی جاتی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اساتذہ نے باقاعدہ کلاسز لی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کرپشن چھپانے کے لئے یہ حربے استعمال کر رہی ہے تاکہ وہ اساتذہ کو اس حوالے سے دباؤ میں رکھے صدر یونیورسٹی آف صوابی ٹیچرز ایسو سی ایشن محمد اعجاز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جامعہ صوابی میں سنگین مالی اور انتظامی بد عنوانیوں کو چھپانے کی خاطر اساتذہ کو ایک عرصہ سے مسلسل دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے گذشتہ دنوں متعدد اساتذہ کی تنخواہوں سے غیر قانونی کٹوتیاں کی گئی تاکہ ان کو دباؤ میں رکھتے ہوئے بے قاعدگیاں جاری رکھی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ سے یہ کٹوتیاں ایک ایسے موقع پر کی گئی جب تعلیمی سال اپنے عروج پر اور اساتذہ گونا گوں مسائل سے دوچار ہے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام اس حوالے سے نوٹس لیں اور طلبہ کا قیمتی تعلیمی سال اور مستقبل تباہ ہونے سے بچایا جائے ۔ دریں اثناء یونیورسٹی آف صوابی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ یونیورسٹی ہذا میں چونکہ اساتذہ اور سٹاف کے حاضری کے لئے بائیو میٹرک سسٹم نصب کیا گیا ہے جس سے آن لائن اساتذہ اور سٹاف کی حاضری چیک کی جاتی ہے یونیورسٹی انتظامیہ اپنی طرف سے کسی استاد کو غیر حاضر نہیں لگا سکتی #

مزید : پشاورصفحہ آخر