ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس کی انسدادوہشتگردی مشقوں کا سلسلہ جاری

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس کی انسدادوہشتگردی مشقوں کا سلسلہ جاری

پشاور( سٹاف رپورٹر)کوہاٹ میں دہشت گرد حملوں اور ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کیلئے پولیس کی انسداد دہشتگردی مشقوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ تعلیمی اداروں ،پبلک مقامات اور حساس و آسانی سے ہدف بننے والے تنصیبات کی سیکیورٹی کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ اس سلسلے میں کوہاٹ کے ضلعی پولیس سربراہ کیپٹن(ر)واحد محمود کی طرف سے ماتحت پولیس افسران اور ضلع بھر کے تمام نجی وسرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ حساس مقامات کی انتظامیہ کو الرٹ رکھنے کیلئے وقتاً فوقتاً سیکیورٹی ایڈوائیزری بھی وضع کی جارہی ہے اور حفاظتی انتظامات کو مطلوبہ معیار کے مطابق لانے کی خاطرجامع حکمت عملی پر کام کیا جارہا ہے۔موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظرشہر بھر میں ایک طرف تحفظ عامہ کی غرض سے فول پروف حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جارہے ہیں تو دوسری طرف دہشتگردی کے کسی بھی واقعے کو رونما ہونے سے پہلے ناکام بنانے یا دہشتگرد حملے کی صورت میں دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرکے کم سے کم جانی ومالی نقصان کی حکمت عملی کے تحت کمبیٹ اور ریسکیو آپریشن کو کامیاب بنانے کیلئے پولیس کی فرضی مشقوں کا بھی سلسلہ جاری ہے ۔ایس پی آپریشنز کوہاٹ صلاح الدین کنڈی اور ڈی ایس پی ایلیٹ فورس عرفان خان کی مشترکہ نگرانی میں جاری ان مشقوں میں پولیس و ایلیٹ فورس کے جوان،کوئیک رسپانس فورس ،ریپڈ رسپانس فورس ،پولیس بم ڈسپوزل سکواڈ،کھوجی کتوں کی ٹیم ،ریسکیو 1122 کا عملہ اور فائر بریگیڈ کے فائر فائیٹرز خصوصی حصہ لے رہے ہیں۔انسداد دہشتگردی کی ان فرضی مشقوں کے تسلسل میںآپریشن کی ایک کاروائی کوہاٹ شہر میں واقع اقراء پبلک ہائی سکول میں کی گئی جہاں دہشتگردوں کی سکول میں داخل ہونے کی اطلاع پر پولیس کی کوئیک رسپانس دستے آنکھ جپکتے ہی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور سکول کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔پولیس کی کوئیک رسپانس دستے بھر پور کاروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے تعاقب میں سکول کے اندر داخل ہوئے ۔پولیس کی آپریشنل دستوں نے سب سے پہلے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور سکول کے طلباء کو محفوظ مقام پر منتقل کرتے ہوئے پوری قوت کیساتھ مسلح دہشتگردوں کا مقابلہ کیا ۔مقابلے میں زخمی اہلکاروں کو ریسکیو 1122کی ایمبولینسز میں ہسپتال منتقل کرنے کی کاروائی دہرائی گئی اور سکول کی عمارت میں لگی آگ پر قابو پانے کیلئے فائر فائیٹرز کی عملی کاروائی کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔فائرنگ تبادلے میں مارے جانیوالے دہشتگردوں کی لاشوں کو اٹھانے اور کرائم سین کو محفوظ بنانے کی فرضی مشقوں کی کاروائی بھی عمل میں لائی گئی اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے ذریعے متاثرہ علاقے کی سویپنگ کا عمل دہراتے ہوئے علاقے کو مکمل طور پر کلئیر کرنے کی بھی مشق کی گئی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کیپٹن (ر)واحد محمود نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کی ان مشقوں کا مقصد کسی ناخوشگوار صورتحال میں پولیس افسران و اہلکاروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے عملے کے مابین رابطوں کو بڑھا نااور ہمہ وقت الرٹ رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صور ت میں فوری اقدامات کے ذریعے جانی ومالی نقصانات سے بچا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی اولین ذمہ داری امن عامہ کا قیام ہے جسکے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ڈی پی او نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک شخص ،سامان یا سرگرمی کی فوری طور اطلاع پولیس کو دیکر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔پولیس کی انسداد دہشتگردی کے حوالے سے ان مشقوں کو سکول کے تدریسی عملے اور طلباء کے علاوہ شہریوں نے بھی بے حد سراہا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر