شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ ہر جیل بھیج دیا گیا ، احتساب عدالت کے باہر پولیس اور (ن) لیگی کارکنوں میں جھڑپیں لاٹھی چارج ، علاقہ میدان جنگ بن گیا ، 15سے زائد کارکن زخمی

شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ ہر جیل بھیج دیا گیا ، احتساب عدالت کے باہر پولیس ...

لاہور(نامہ نگار ، کرائم رپورٹر)احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم اور رمضان شوگر ملزمیں گرفتار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں حزب اختلا ف شہباز شریف کو13دسمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیاہے،احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن بخاری نے کیس کی سماعت کی۔گزشتہ روزنیب کی جانب سے شہباز شریف کوسخت سکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، نیب کے پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ کی جانب سے میاں شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈکی استدعا کی گئی،سرکاری وکیل نے بتایا کہ شریف فیملی کا ذاتی ملازم مسرور انور کیش رقم شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں جمع کراتا رہا، مسرور انور نے شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں 55.4 ملین کی رقم جمع کرائی ،مسرور انور نے ہی ملک مقصودکے اکاؤنٹ میں 3 ارب روپے سے زائد رقم کیش جمع کرائی ،میاں شہباز شریف نے رقم کی جو دستاویزات دیں وہ 22 ملین کی تھیں ،باقی 97 ملین کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، شہباز شریف کے ملازم کی جانب سے دونوں اکاونٹس میں ڈالی گئی رقوم مشکوک ہیں،ملک مقصود نے اپنا جو پتہ لکھوایا وہ شہباز شریف کا ایڈریس ہے، شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مسرور انور کا نام پہلے دن سے نیب کے علم میں ہے،جان بوجھ کر آج عدالت میں بتایا گیا، نیب نے اب کہانی میں مزید دو کردار شامل کر دیئے ہیں،ملک مقصودکو نہیں جانتے البتہ مسرور ملک رمضان شوگر ملز کا ملازم ہے، شہبازشریف کارمضان شوگر ملزسے کوئی تعلق نہیں ،بچے اس کے شئیرہولڈر ہیں، نیب غلط بیانی سے کام لے رہا ہے، گناہ یہ ہے کہ شہباز شریف سیاست دان ہیں،لین دین کاتمام ریکارڈ موجود ہے ،نیب کو کس چیز کے لئے جسمانی ریمانڈ چاہیے،نیب کے وکیل نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو میاں صاحب نے بینیفٹ دیئے اور بعد میں انکار کر دیا،146 ملین میاں صاحب کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئے،ان ٹرانزیکشن کے مد نظر انکی مزید تفتیش درکار ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ پچھلی رقوم کی منتقلی آپ نے کلیئر کرلی ہے؟ جس پرنیب کے وکیل نے کہا کہ 97ملین کے ثبوت نہیں دیئے گئے ،شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ پراپرٹی کاکرایہ شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں آتا رہا،کسی بھی قانون کے تحت پیسوں کے منتقلی غیر قانونی نہیں ہے،شہباز شریف کی طرف سے کہا گیا کہ مجھ پر ایسے الزام لگایا گیا ہے جیسے میں چور ہوں، میں اپنا کاروبار خود نہیں چلاتا میرے بچے چلاتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ مسرور کون ہے جس کہ اکاؤنٹ میں اتنے پیسے گئے؟ شہباز شریف کی طرف سے کہا گیا کہ مسرور انور کیش رائڈر ہے اور رقوم کی منتقلی کرتا ہے۔شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ ان کا64 دن کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہو چکا ہے،حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو 2011ء میں 93.7 ملین باپ نے گفٹ کئے، باپ نے بیٹے کو تحفے دیئے، کیا اس بات پر ریمانڈ بنتا تھا؟ 2011 ء سے 2017 ء تک تمام رقوم کی منتقلی ظاہر کر چکے ہیں، پچھلے ریمانڈ میں الزام لگایا گیا کہ ان گفٹ کے ذرائع کا پتہ چلانا ہے،عدالت کو گمراہ کیا گیا، 2011ء میں انکم آرڈیننس کے تحت لفظ گفٹ تھا ہی نہیں، اس موقع پر کمرہ عدالت کے باہر مسلم لیگی کارکنوں کا شور بڑھ گیا تو میاں شہباز شریف نے عدالت سے کہا کہ مجھے اجازت دیں ،میں وکلاء اور کارکنان کا کو شور کرنے سے منع کردوں جس کے بعد انہوں نے کارکنوں اور وکلاء کو شور کرنے سے منع کیا،شہباز شریف کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ آج تک صرف مفروضوں پر ریمانڈ ہوا، کوئی حقائق سامنے نہیں آئے، ٹیکس کے قانون کے تحت میں اپنے بچوں کو گفٹ بھی دے سکتا ہوں،جنوری 2018 ء میں پہلی مرتبہ انہیں اس کیس میں بلایا گیا،آج تک جب کسی کمپنی کا ذکر کیا وہ ACE کمپنی کا کہا جس کا مطلب اعلیٰ ترین کمپنیاں تھیں۔عدالت نے نیب کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواء دیاہے۔ دوران سماعت کمرہ عدالت کے باہر وکلاء مسلسل نعرے بازی کرتے رہے جس پر شہباز شریف نے لیگی وکلاء سے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے شور نہ کریں۔ دریں اثنا میاں شہباز شریف کے جوڈیشل ریمانڈ کے بعد ان کی ضمانت کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔قانون کے تحت جسمانی ریمانڈ کے دوران ضمانت کی درخواست دائر نہیں کی جاسکتی تھی ،ان کے وکلا نے درخواست دائر کرنے کے لئے مختلف نکات کی تیاری اورضروری دستاویزات اکٹھا کرنا شروع کردی ہیں،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ درخواست ضمانت میں طبی بنیادوں پر میاں شہباز شریف کی رہائی کی استدعا بھی کی جائے گی،درخواست ضمانت دو سے تین روز میں دائر کئے جانے کا امکان ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے محمد شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل میں بی کلاس دینے کا فیصلہ کر لیا ، جیل کی میڈیکل ٹیم نے شہباز شریف کا طبی معائنہ کیا جبکہ آج جمعہ جناح ہسپتال کی میڈیکل ٹیم جیل جا کر طبی معائنہ کرے گی ۔ ذ شہباز شریف کے صاحبزادے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی طرف سے محکمہ داخلہ کو درخواست دی گئی تھی کہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں اور انہیں استحقاق کے مطابق بی کلاس دی جائے ۔جس پر محکمہ داخلہ پنجاب نے شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل میں بی کلاس دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جیل حکام کو آگاہ کر دیا ہے ۔اپوزیشن لیڈر کو جیل میں بی کلاس کی تمام سہولیات جن میں گھر سے کھانا ،اخبار ،ٹی وی ،ہیٹر ،پنکھا ،بیڈ و دیگر شامل ہوں گی۔علاوہ ازیں جیل منتقلی کے بعد کوٹ لکھپت جیل کی میڈیکل ٹیم نے شہباز شریف کا طبی معائنہ کیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آج (جمعہ )کو جناح ہسپتال کی میڈیکل ٹیم بھی جیل جا کر شہباز شریف کا مکمل طبی معائنہ کرے گی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب دفتر سے شہباز شریف کا کمبل ،ادویات ،ڈائری سمیت دیگر استعمال کی اشیاء کوٹ لکھپت جیل پہنچا دی گئی ہیں جنہیں جیل حکام کے حوالے کیا گیا ۔ڈاکٹروں نے شہباز شریف کو طبیعت ناسازی کے باعث آرام اور ہوا دار کمرے اور بروقت ادویات کھانے کی ہدایت دے رکھی ہے۔

جوڈیشل ریمانڈ

لاہور(نامہ نگار ،آئی این پی) اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر ن لیگی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی او ر پولیس کے لاٹھی چارج نے پورے علاقے کو میدان جنگ بنا دیا ‘15سے زائد کارکنان پولیس کے لاٹھی چارج سے زخمی ‘پولیس نے متعدد لیگی کارکنوں کو حراست میں لے لیا‘ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت جوڈیشل کمپلیکس جانے والے تمام راستوں اور گلیوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی( ن)لیگی کارکنوں سے نمٹنے کے لئے واٹر کینن بھی منگوائی گئی، سیکرٹریٹ چوک میں پولیس اور اینٹی رائٹ دستوں نے لوہے کی مضبوط جالیوں کی حفاظتی دیوار قائم کر دی جب کہ عدالت کے احاطے میں رینجرز کے اہلکار بھی موجود تھے اس موقع پر لوئر مال روڈ کی دونوں سڑکوں کو ایم اے او کالج سے پی ایم جی چوک تک کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف میں قائم دکانیں، ورکشاپس اورر پٹرول پمپس بند کروا دیئے گئے اس راستے پر آنے والی ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑدیا۔ سڑکوں اور راستوں کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاجبکہ آشیانہ ہاسنگ سکینڈل میں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر ن لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد احتساب عدالت پہنچ گئی پولیس کی جانب سے عدالت کا راستہ خاردار تاریں لگا کر بند کیا گیا تھا تاہم لیگی کارکنوں نے تمام رکاوٹیں ہٹادیں اور عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی ن لیگ کی خواتین کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو دھکے بھی مارے جس کے بعد پولیس نے ایکشن لیا اور کارکنوں کو عدالت کے دروازے سے پیچھے ہٹادیا لیکن اسکے باوجو د کارکنوں کا جوش اور جذبہ کم نہ ہو ا اور وہ مسلسل پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کرتے رہے جسکے بعد پولیس اور کارکنوں کے در میان ہاتھا پائی شروع ہوگئی اور کئی کارکنان نے پولیس کی رکاوٹیں بھی پیچھے ہٹادیں پولیس نے کارکنوں پر شدید لاٹھی چارج شروع کردیا جسکی وجہ سے 15سے زائد کارکنان زخمی بھی ہوئے اور وہ مسلسل حکومت کے خلاف اور شہبا زشر یف کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے دوسری جانب عدالت کے باہر ن لیگ کی رہنما اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں جبکہ ن لیگی کارکنان مسلسل عدالت کے اندر داخل ہونے مسلسل کوشش کر رتے رہے جبکہ پولیس کی جانب سے ایم پی اے شوکت سہیل بٹ اور شائستہ پرویز ملک اور خواجہ عمران نذیر سمیت کئی اراکین اسمبلی کو پولیس دھکے دےئے جاتے رہے ۔

احتجاج

مزید : صفحہ اول