امریکہ نے افغانستان کے مسئلہ پر پاکستان کا مؤقف تسلیم کر لیا : عمران خان

امریکہ نے افغانستان کے مسئلہ پر پاکستان کا مؤقف تسلیم کر لیا : عمران خان

اسلام آبا(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ پر امریکہ نے تحریک انصاف کا مؤقف تسلیم کرلیا اور پاکستان آج ثالثی کیلئے مرکزی کردار ادا کررہا ہے ۔وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات میں افغان امن عمل پر بات ہوئی اور خوشی ہے کہ 15 سال سے ہم جو کہہ رہے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں جسے اب امریکہ بھی تسلیم کرتا ہے جبکہ کسی دوسرے کی جنگ کے حصے دار بننے کی بجائے ہمارا اصل کردار ثالثی کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں امن اور افغان طالبان سے بات چیت کیلئے ہماری مدد چاہتا ہے اور میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ بجائے ڈومور کے ہمارا کردار ثالثی کا ہونا چاہئے لیکن ہمیں ایسے ٹریٹ کیا گیا کہ کسی دوسرے کی جنگ لڑنے کیلئے امداد دی جارہی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ کسی دوسرے کی جنگ کے حصے دار بننے کی بجائے ہمارا اصل کردار ثالثی کرانا ہے، ہم نے یمن میں امن عمل آگے بڑھانے کی بات کی، ایران اور سعودی عرب سے بھی اس حوالے سے بات کی، ایرانی وزیر خارجہ نے ہمیں یمن جنگ ختم کرنے میں کردار ادا کرنے کا کہا۔ عمران خان نے کہاکہ کرتارپور راہداری کو بھارت نے بدقسمتی سے سیاسی فائدے کا رنگ دیا، اس معاملے پر حکومت نے پورا زور لگایا، یہ ہمارا فرض ہے، اگر پاکستان میں کسی کے مذہبی مقامات ہیں تو ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے، ہم کوئی نئی چیز نہیں کررہے یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ کرتارپور معاملے پر سکھ برادری سے جو رد عمل ملا اس پر خوشی ہے، جس طرح ہمارے لیے مدینہ ہے ان کیلئے کرتارپور ہے اور امید رکھتے ہیں بھارت بھی رد عمل دے گا۔انہوں نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں معاشی ٹیم نے پرفارم کیا جس کا انہیں سپیشل کریڈٹ دینا چاہتا ہوں، وزارتِ تجارت، خزانہ اور منصوبہ بندی نے برے حالات میں اپنا کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مخالفین بُرے حالات کی پیش گوئی کرتے ہیں اور اگر بُرے حالات ہیں تو سرمایہ کاری کیسے آتی؟ کیونکہ سوزوکی، کوکا کولا، پیپسی اور ایگزون نے ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فونٹین والے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کیلئے سکول کھولیں گے اور ہمارے لوگوں کو تربیت دیں گے، ان تمام چیزوں کا کریڈٹ ہماری معاشی ٹیم کو جاتا ہے کیونکہ مشکل حالات میں انہوں نے ایسا ماحول بنایا کہ لوگ سرمایہ کاری کرنے آرہے ہیں اورسرمایہ کاری سے ہی ملک اوپر جاتاہے۔

وزیراعظم

اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی کابینہ نے ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے قومی پروگرام،پنجاب میں صنعتوں کو گیس کی فراہمی کیلئے 25.5ارب کی سبسڈی دینے ،11لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے، کینیڈا سے اینٹی منی لانڈرنگ اور زمبابوے کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے معاہدے اور تجاوزات کیخلاف آپریشن کی نگرانی کیلئے کمیٹی کی منظوری دیدی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے کہا کہ 100دن میں کابینہ اجلاسوں کے 98فیصلوں پر عمل درآمد ہو چکا، کابینہ دستاویزات کی رازداری یقینی بنائی جائیگی،غربت کے خاتمے کیلئے قومی پروگرام میں خواتین اور معذور افراد کو ترجیح دی جائے گی،تجاوزات کے خلاف مہم کے بارے میں منفی تاثر پھیلا یا جا رہا ہے ،تجاوزات کے خلاف مہم کا ہدف بڑے قبضہ مافیا ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد 6سے بڑھا 9کردی گئی ،تردید کے باوجود وزیر خزانہ کے بارے میں خبریں چلائی گئیں،ہم خبر چھپانے پر یقین نہیں رکھتے مگرمیڈیا تصدیق کرلیا کرے۔افتخار درانی نے کہا کہ تجاوزات کیخلاف آپریشن کا مقصد غریب عوام کو انصاف دینا ہے اوراس حوالے سے کمیٹی بھی بنادی گئی ہے۔افتخاردرانی نے کہا کہ تجاوزات کیخلاف آپریشن کی نگرانی کیلئے بنائی گئی کمیٹی وزیرداخلہ شہریار آفریدی کی صدارت میں کام کریگی۔ وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ غربت کے خاتمے کیلئے قومی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروگرام کیلئے 18ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ خواتین اور معذور افراد کو پروگرام میں ترجیح دی جائے گی۔ پروگرام کے تحت مستحقین کو کاروبار کیلئے سہولت فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ30ایم ایم سی ایف ڈی گیس کے نئے ذخائر سوئی سدرن کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے،نئے ذخائر سے گیس کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی کابینہ

B

مزید : صفحہ اول