سنجیدہ سیاست کے قائل ہیں ، مسلم لیگ (ن) قبل از وقت انتخابات کیلئے ہمہ وقت تیار : نواز شریف

سنجیدہ سیاست کے قائل ہیں ، مسلم لیگ (ن) قبل از وقت انتخابات کیلئے ہمہ وقت تیار ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،این این آئی)مسلم لیگ(ن) کے قائدمیاں نواز شریف نے کہاہے کہ ہم سنجیدہ سیاست کے قائل ہیں اور مسلم لیگ (ن) قبل از وقت انتخابات کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی بات پر عوام نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور عوام خوش ہیں کہ جلد ہماری جان چھوٹنے والی ہے۔میاں نوازشریف نے کہا کہ فافن کی رپورٹ کے مطابق 53 حلقوں میں جیت کا مارجن مسترد ووٹوں سے کم ہے اور رپورٹ سے ظاہر ہے کہ 53حلقوں میں دھاندلی ہوئی۔قبل ازیں احتساب عدا لت میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے فلیگ شپ ریفرنس میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو مزید دستاویزات پیش کروں گا، مجھ پرلگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، میرا کسی قسم کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں،برطانیہ میں کمپنیوں کی فروخت کاریکارڈ حاصل کرنے کی درخواست دے دی گئی ہے، یو کے اتھارٹی سے ہسٹوریکل کاپیاں حاصل کرنے کیلئے درخواست دی ہے، ریکارڈ موصول ہوتے ہی دستاویزات پیش کردوں گا۔اس موقع پر نوازشریف نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ کی طرح فلیگ شپ ریفرنس میں بھی اپنا دفاع پیش کرنے سے انکار کردیا، انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بنائے گئے مقدمات بدنیتی پر مبنی ہیں، استغاثہ کسی جرم میں میرا تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا، سرزمین پاکستان کا بیٹا ہوں، مجھے اس کے ذرے ذرے سے پیار ہے،مجھے فخر ہے3دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم بنا، پاکستانی عوام کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، سیاست میں میرے خاندان اور کاروبار کو نشانہ بنایا گیا، مجھ پرلگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد ہیں، میرا کسی قسم کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔نوازشریف نے دوران بیان اپنے اثاثے گنوانے شروع کر دیئے، انہوں نے کہا کہ یہاں حالات موزوں نہیں رہے تو والد نے بیرون ملک کاروبارکیا، صنعتی سرگرمیوں کا تعلق اسی وقت سے ہے جب میں سیاست میں نہیں تھا، سیاست میں آنے کے بعد میں کاروباری سرگرمیوں سے الگ ہوگیا،22کروڑ عوام میں سے صرف دو بیٹوں اور ایک والد کو نشانہ بنایا جارہا ہے، شاید ہی کسی کا اس طرح کا احتساب ہوا ہو۔نوازشریف کا مزید کہنا تھا کہ یہ تسلیم کیا گیا کہ بیرون ملک پیسہ نہیں گیا پھر بھی مقدمہ چل رہا ہے، ہمارے خاندان اور کاروبارپر جو کچھ گزری یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے، استغاثہ نے4باتیں ثابت کرنی ہوتی ہیں، جائیداد کا قبضہ اور بینامی کامقصد بھی استغاثہ نے ثابت کرنا ہوتا ہے، استغاثہ کو قانونی تقاضے پور ے کرنے چاہئے تھے جو نہیں کئے گئے۔نواز شریف نے کہا کہ افسوس ہے سچائی کے معاملے کو بد عنوانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، بیرون ملک بہت سی پاکستانی کاروباری شخصیات ہیں، کیا ان سب سمندر پار پاکستانیوں کو کٹہرے میں کھڑا کردینا چاہیے؟اوراگر نہیں تو پھر دو بیٹوں کے والد کو کیوں کٹہرے میں کھڑا کیا۔میا ں نواز شر یف کے خلاف العز یزیہ ریفر نس کی سما عت (آج) جمعہ تک ملتوی کر دی ، وکیل صفا ئی خوا جہ حا رث اپنے د لا ئل جا ری ر کھیں گے۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول