بزنس کمیونٹی الگ سیل قائم کر دیا ، بیرون ملک فرار ملزمان کا انٹر پول کے ذریعے واپس لایا جائیگا : چیئر مین نیب

بزنس کمیونٹی الگ سیل قائم کر دیا ، بیرون ملک فرار ملزمان کا انٹر پول کے ذریعے ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب مضاربہ مشارکہ سیکنڈلز کی تحقیقات ترجیح بنیادوں پر کر رہا ہے، 34ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ بیرون ملک فرار ملزمان کو انٹر پول کے ذریعے واپس لایا جائے گا،نیب کے احتساب عدالتوں میں 1210بدعنوانی کے ریفرنس زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریبا 900ارب روپے ہے،قوم کی لوٹی گئی 297ارب روپے کی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی جو کہ ریکارڈ کامیابی ہے،نیب نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے الگ سیل قائم کیا ہے۔وہ جمعرات کو انسداد بد عنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے نیب راولپنڈی بیورو کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار بعنوان کرپشن اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ،سرکاری عہدہ عوامی امانت سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے،نیب نے 179میگا کرپشن کے مقدمات میں سے105مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے بد عنوانی کے ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات مکمل شواہد،دستاویزی ثبوت اور قانون کے مطابق سائنسی بنیادوں پر کرنے پر یقین رکھتا ہے، نیب کے احتساب عدالتوں میں اس وقت 1210بدعنوانی کے ریفرنس زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریبا 900ارب روپے ہے،نیب نے بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی 297ارب روپے کی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے جو کہ ریکارڈ کامیابی ہے، بدعنوانی ملکی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، نیب نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے الگ سیل قائم کیا ہے، جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز،کواپریٹو سوسائٹیوں کے خلاف نیب کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب مضاربہ مشارکہ سیکنڈلز کی تحقیقات ترجیح بنیادوں پر کر رہا ہے، 34ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ بیرون ملک فرار ملزمان کو انٹر پول کے ذریعے واپس لایا جائے گا۔نیب نے مفتی احسان مضاربہ مقدمہ احتساب عدالت اسلام آباد میں دائر کیا تھا،احتساب عدالت نے مفتی احسان کومضاربہ کیس میں 10سال کی قیداور9ارب روپے جرمانہ کی سزا سنائی جو کہ نیب نے بہترین پراسیکیوشن کی وجہ سے نیب کا سب سے بڑا مقدمہ جیتا۔

چیئرمین نیب

لاہور( این این آئی ) قومی احتساب بیورو لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے کہا ہے کہ پلی بارگین کا قانون یورپ اور امریکہ میں بھی ہے لیکن یہاں اسے متنازعہ بنا دیا گیا،پلی بارگین جوڈیشل آڈر ہے جو چیئرمین نیب نہیں بلکہ جج صاحب کرتے ہیں ،ایسا نہیں کہ جو نیب کی انکوائری بھگت آیا وہ بہشتی دروازے سے گزر گیا، اگراس کے خلاف دوبارہ کوئی ثبوت ملیں گے تو اسے پکڑیں گے اور تحقیقات ہوں گی ، ڈیڑھ سال کے عرصے میں 6ارب62کروڑ روپے لٹیروں سے واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جبکہ 5ارب 33کروڑ کے پلاٹس،زمینیں اور عمارتیں لوگوں کو واپس کرائی گئیں ،نیب میں گرفتار تمام ملزمان کی اہل خانہ سے ملاقات کراتے ہیں ، غریب نیب میں جاتا ہے تو جیل ٹھیک ، امیر جائے توعقوبت خانے میں تبدیل ہو جاتے ہیں ،بعض کی تو دو ،دو اورتین ،تین بیویاں ملنے آتی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی احتساب بیور لاہور کی جانب سے عالمی انسداد بدعنوانی ڈے کے حوالے سے الحمراء آرٹس کونسل لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جس میں گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے بطور مہمان خصوصی جبکہ صوبائی کیبنٹ کے ممبران ، پنجاب کی متعدد یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز اور دیگر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کے علاوہ طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 9دسمبر پوری دنیا میں یوم انسداد بدعنوانی کے طورپر منایا جاتا ہے جبکہ نیب پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف سب سے اہم ادارے کے طو ر پر قائدانہ کردار ادا کررہا ہے جو تین سطحی طریقہ کار پر مشتمل ہے جس میں آگاہی ، تدارک اور انفورسمنٹ کی بنیاد پر اقدامات سرانجام دئیے جاتے ہیں جن کا بنیادی مقصد نئی نسل کی اصلاح و تربیت کے علاوہ بدعنوانی کے خلاف شعور اجاگر کرنا ہے ۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نیب ایک عظیم مقصد کیلئے کام کررہا ہے موجودہ حکومت بھی کرپشن کے خلاف ززیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے انہوں نے کہاکہ کامیابی تب ملے گی جب طاقتور کا احتساب پہلے اورکمزور کا بعد میں ہوگا ۔ آخر میں مختلف نوعیت کے مقابلہ جات میں جیتنے والے طلبا و طالبات کو ڈی جی نیب کی جانب سے کیش پرائز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔ بعد ازاں طلبا وطالبات کی جانب سے انسداد بدعنوانی کے موضوع پر بنائی گئی پینٹنگز کی نمائش کی گئی جس کا افتتاح گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کیا ۔

ڈی جی نیب لاہور

مزید : صفحہ اول