سمندری کچھوؤں کا تجزیہ،پیٹ سے پلاسٹک اور فائبر کے ٹکڑے نکلے

سمندری کچھوؤں کا تجزیہ،پیٹ سے پلاسٹک اور فائبر کے ٹکڑے نکلے

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین نے بحرالکاہل ، بحراوقیانوس اور بحیرہ روم سے مختلف اقسام کے 100کچھوؤں کو پکڑ کر ان معائنہ کیا تو ہر کچھوے کے پیٹ میں ایسی خوفناک چیز نظر آگئی کہ سن کر ہر انسان افسردہ ہو جائے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ان تمام کچھوؤں کے پیٹ میں پلاسٹک اور فائبر کے ٹکڑے موجود تھے جو ہم انسان سمندروں میں پھینکتے ہیں اور ان کچھوؤں سمیت دیگر سمندری حیات انہیں خوراک بنا کر موت کے منہ میں جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق کچھوؤں کے پیٹ سے جو فائبر برآمد ہوئے وہ ملبوسات، سگریٹ فلٹرز اور فشنگ نیٹس میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پیٹ سے مائیکروبیڈز بھی ملے جو میک اپ کے سامان میں استعمال کیے جاتے ہیں۔یونیورسٹی آف ایکسیٹرکی پروفیسر ڈاکٹر ایملی ڈنکین کا کہنا تھا کہ ’’کچھوؤں کے پیٹ سے جو مائیکروپلاسٹک برآمد ہوئے ان کی لمبائی 5ملی میٹر تک یا اس سے کم تھی۔

مزید : صفحہ آخر