اعطم سواتی کے بعد کیا زلفی بخاری اور اسد عمر بھی استعفوں کی لائن میں لگ گئے؟

اعطم سواتی کے بعد کیا زلفی بخاری اور اسد عمر بھی استعفوں کی لائن میں لگ گئے؟
اعطم سواتی کے بعد کیا زلفی بخاری اور اسد عمر بھی استعفوں کی لائن میں لگ گئے؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اعظم سواتی نے وفاقی وزارت سے استعفا دے دیا ہے، اگر وہ اسی وقت ایسا کر دیتے جب بھینسوں کے ان کے کھیت اجاڑنے اور پھل دار درخت کا پھل کھانے کا معاملہ ہوا تھا تو اس کی تعریف کی جاتی لیکن انہوں نے آئی جی اسلام آباد پر اپنی وزارت اور شخصیت کا پورا دباؤ ڈالا اور کہا کہ وہ کئی گھنٹے تک آئی جی کو فون کرتے رہے لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا جب وہ یہ فرما رہے تھے تو بڑے طمطراق سے کہانی کو اپنے نقطہ نظر سے بیان کر رہے تھے وزیر اعظم سے کہہ کر انہوں نے آئی جی کا تبادلہ تو کرا دیا لیکن بھینسوں والے غریب خاندان پر دباؤ ڈال کر صلح کے لئے مجبور کرنے کے باوجود وہ اس دلدل سے نہ نکل سکے جس میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دھنستے چلے جا رہے تھے، یہاں تک کہ نظر آنے لگا کہ ان کے خلاف دفعہ 62(ون)ایف کے تحت مقدمہ چلے گا جس میں وہ مستقل نا اہل بھی ہو سکتے ہیں انہوں نے استعفا تو اس خیال سے دیا ہو گا کہ وزارت کی قربانی دے کر سینیٹر شپ بچا لیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ یہ بھی بچی رہے اور نہ ہی یہ یقینی ہے کہ استعفے کے بعد مقدمہ نمٹ جائے ہو سکتا ہے فاضل عدالت اسے منطقی انجام تک پہنچائے۔جب یہ معاملہ سامنے آیا تو کئی وزراء اور پارٹی لیڈر ان کے حق میں خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے اور بڑھ چڑھ کر بیان بازی شروع کر دی، یہ بھی کہا گیا کہ جو آئی جی فون نہیں سنے گا اسے کئے کی سزا تو بھگتنا ہو گی، جو لوگ ڈٹ کر سواتی کی حمایت میں کھڑے تھے انہوں نے فوری طور پر یوٹرن لیتے ہوئے ان کے استعفے کے اقدام کی تعریفیں شروع کر دی ہیں اور کہا جانے لگا ہے کہ انہوں نے استعفا دے کر اپنا وقار اور قد کاٹھ بلند کر لیا ہے قد تو ان کا ماشا اللہ پہلے ہی بہت ہے لیکن استعفے کے لئے اگر وہ کچھ دن پہلے رضا مند ہو جاتے تو شاید عام لوگ ان کے بارے میں وہ کچھ نہ جان پاتے جو جے آئی ٹی نے رپورٹ میں لکھ دیا، اب انہوں نے ایسے وقت میں استعفا دیا ہے جب مزید استعفوں کی صدائے باز گشت اسلام آباد کی فضاؤں میں سنائی دے رہی ہے، وزیر اعظم کے ذاتی دوست زلفی بخاری کا معاملہ بھی ہے جن کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے وہ برطانیہ کے پیدائشی شہری ہیں لیکن انہیں نیب سے شکایت ہے کہ وہ ان کے خلاف تحقیقات کیسے کر سکتی ہے جبکہ وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں، البتہ وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہیں اور اس عہدے پر رہنا بھی چاہتے ہیں تو پھر پاکستانی قوانین کا زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت لحاظ تو انہیں کرنا پڑے گا، ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ وہ رکن اسمبلی نہیں نہ وزیر اور مشیر ہیں وہ صرف معاون خصوصی ہیں اور وزیر اعظم کا یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی (حتیٰ کہ کسی غیر ملکی کو بھی) اپنا معاون خصوصی بنا سکتے ہیں، ہو سکتا ہے قانونی پوزیشن یہی ہو لیکن ایک سوال یہ ہے کہ جو شخص کابینہ اور اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شریک ہوتا ہو اس پر کچھ ضابطے تو لاگو ہونے ہی چاہئیں، کیونکہ ان اجلاسوں میں ایسی کلاسیفائیڈ اطلاعات پر بھی غور و فکر ہوتا ہے جن کا براہ راست تعلق ملکی سلامتی سے ہے ایسے میں کسی غیر ملکی کا ان اجلاسوں میں شریک ہونا نرم سے نرم الفاظ میں قرین مصلحت نہیں ہے، بعض ماہرین قانون تو یہ بھی توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ ایک مشیر اور معاون خصوصی پر دہری شہریت کے سلسلے میں وہی قانون اور ضابطے لاگو ہوں گے جو رکن اسمبلی پر لگتے ہیں کیونکہ عملاً وہ ایسے تمام امور کی انجام دہی میں شریک ہیں جو عام طور پروزیر کرتے ہیں، اس لئے وہ فنی طور پر وزیر نہ سہی ان پر ایسے ضابطوں کا اطلاق ہونا چاہئے جو وزیر وں یا ارکان پارلیمنٹ پر ہوتے ہیں، چونکہ وہ وزیر اعظم کے دوست ہیں اس لئے ان کے تقرر کو اقربا پروری کی ذیل میں شمار کیا جا رہا ہے، اب دیکھنا ہو گا کہ اعظم سواتی کے بعد وہ بھی استعفے کا آپشن استعمال کرتے ہیں یا عدالتی فیصلے کے منتظر ہوتے ہیں۔

وزیر خزانہ اسد عمر کے استعفے کی باتیں بھی کئی دن سے چل رہی ہیں جن کی تردید یں بھی آئی ہیں اور وہ خود بھی کہہ رہے ہیں کہ ان سے نہ تو استعفا مانگا گیا ہے اور نہ وہ خود اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں وہ تو معیشت کی حالت درست کرنے میں لگے ہیں جس کے نتائج دو سال بعد برآمد ہونا شروع ہوں گے کہا تو یہی جا رہا ہے کہ معاشی ٹیم کا کوئی رکن تبدیل نہیں ہو رہا، لیکن خیالات کی تبدیلی میں کتنا وقت لگتا ہے جب اعظم سواتی کا معاملہ شروع ہوا تھا تو ایسے لگتا تھا کہ انہوں نے اسلام آباد میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں آئی جی کے تبادلے کے بعد تو وہ اپنی فتح کے شادیانے بھی بجا رہے تھے، جب فاضل چیف جسٹس نے آئی جی کا تبادلہ روک دیا تو انہوں نے خود عدالت میں پیش ہو کر درخواست کی کہ وہ تبادلے کے احکام کو مانتے ہیں ورنہ عین ممکن تھا تبادلہ رکا ہی رہتا۔ اعظم سواتی جب تحریک انصاف میں شامل ہو رہے تھے تو کہا جاتا ہے کہ پارٹی کے اندر بعض حلقوں نے ان پر اعتراض کیا تھا ان کا خیال تھا کہ امریکہ میں ان کی معاشی سرگرمیاں شفاف نہیں تھیں اور وہ جے یو آئی کے ٹکٹ پر بھی جب سینیٹر منتخب ہوئے تھے تو ان پر الزام لگا تھا کہ وہ ووٹ خرید کر رکن سینیٹ بنے ہیں لیکن اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اب بلدیاتی انتخابات آنے والے ہیں پارٹی کو ایسے ارکان کی ضرورت ہے جو ان انتخابات میں انوسٹمنٹ کرنے کی پوزیشن میں ہوں اب ظاہر ہے اگر بلدیاتی انتخابات پر انوسٹمنٹ ہی ہونی ہے تو پھر وہی لوگ ایسا کریں گے جو پہلے بھی ایسی سرمایہ کاری کا تجربہ رکھتے ہوں۔ اعظم سواتی نے بیس روز پہلے جب استعفا دیا تو ابتدا میں انہیں کہا گیا کہ ابھی ان کے خلاف کوئی چیز ثابت نہیں ہوئی اس لئے وہ استعفا نہ دیں لیکن کہا جاتا ہے کہ پارٹی کے اندر سے بعض سیانوں کا یہی مشورہ تھا کہ اب اگر اعظم سواتی نے استعفا دے ہی دیا ہے تو بہتر ہے اسے منظور کر لیا جائے کیونکہ اس میں تاخیر پارٹی کے لئے مفید نہیں ہو گی، اس سے پہلے ڈاکٹر بابر اعوان بھی ایسے ہی حالات میں مشیر کے عہدے سے استعفا دے چکے ہیں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ نیب میں اپنا دفاع بطور ایک عام شہری کے کریں گے اگر یہی طرز عمل اعظم سواتی اختیار کرتے تو شاید ان انکشافات پر پردہ پڑا رہتا جو اب کئی جلدوں کی رپورٹ میں محفوظ ہو گئے ہیں اور آئندہ قدم قدم پر ان کا راستہ روکتے رہیں گے۔

استعفوں کی لائن

مزید : تجزیہ