حج پالیسی 2019ء کے لئے تجاویز

حج پالیسی 2019ء کے لئے تجاویز
 حج پالیسی 2019ء کے لئے تجاویز

  

حج 2019ء کی تیاریوں کے سلسلے میں حج 2018ء آپریشن کے فوری بعد وزارت مذہبی امور نے کوتاہیوں کو دور کرنے اور حج 2019ء کے آپریشن کو مثالی بنانے کے لئے لاہور، ملتان، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، کراچی، کوئٹہ، پشاور میں ہوپ کے تعاون سے مشاورتی حج ورکشاپوں کا انعقاد کیا ۔ حج 2018ء کی سعادت حاصل کرنے والے سرکاری سکیم اور پرائیویٹ سکیم کے حجاج کرام کی شرکت کو یقینی بنا کر ان سے تحریری تجاویز حاصل کیں۔ مشاورتی حج ورکشاپ کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کوئٹہ اور کراچی میں حج کانفرنس کا انعقاد کیا اور حجاج کے لئے تر بیتکے عمل کے نظام کو نئے سرے سے مربوط کرنے کے لئے لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔

قابل ذکر بات جو مشاورتی حج ورکشاپ میں دیکھنے کو ملی وہ گزشتہ برسوں سے ہٹ کر تھی گزشتہ برسوں میں مشاورتی حج ورکشاپ کو حاجی کیمپوں کے ڈائریکٹر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا ایک دو سیکشن آفیسر تک محدود کر دیا گیا تھا گزشتہ پانچ سال میں شاید ایک د و سال میں کوئی ایک دو حج ورکشاپ میں سابق وفاقی وزیر سردار محمد یوسف شریک ہوئے تھے۔ اس سال وفاقی وزیر مذہبی امور سید نورالحق قادری نے اپنے عمل سے پروگرامات میں خود شریک ہو کر 100فیصد وزارت مذہبی امور کے جوائنٹ سیکرٹری حج ڈپٹی سیکرٹری سیکشن آفیسر کو شریک کرکے ضیوف الرحمن سے محبت ثابت کی۔ گزشتہ سالوں میں سرکاری سکیم اور پرائیویٹ سکیم کو علیحدہ علیحدہ ظاہر کرکے ساری توجہ سرکاری سکیم کو دینے کے ہوپ کے گلے کا بھی ازالہ کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے پہلے دن سے سرکاری اور پرائیویٹ سکیم دونوں کے حجاج کو وزارت کی ذمہ داری قرار دے کر ایک بڑے فرق کو مٹا دیا ہے ہوپ اور وزارت مذہبی امور پہلی دفعہ ایک میز پر نظر آ رہے ہیں۔آج جب یہ کالم شائع ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، سیکرٹری محمد مشتاق، جوائنٹ سیکرٹری زینت حسین بنگش، آئی ٹی انچارج حکیم اللہ خٹک اور ہوپ کے چیئرمین وحید اقبال بٹ کی ٹیم کے ساتھ سعودیہ میں موجود ہیں۔ اتوار کو حج 2019ء کے لئے پاکستان اور سعودیہ کا ایم او یو سائن ہونے جا رہا ہے۔9دسمبر کو ہی پاکستان کے حج کوٹہ کا فیصلہ ہو گا۔ گزشتہ سال بھی وزارت نے نئی مردم شماری کے مطابق حج کوٹہ میں اضافہ کی درخواست کی تھی، جس کے جواب میں آخر میں 5ہزار کوٹہ دیا گیا تھا۔

اس سال 21کروڑ آبادی کو بنیاد بنا کر دو لاکھ 10ہزار کوٹہ کے لئے درخواست کی گئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے دو لاکھ 10ہزار نہ ملا تو دو لاکھ تو ضرور مل جائے گا۔حج 2019ء کے لئے ہوپ کے مطالبے پر سرکاری اور پرائیویٹ سکیم ففٹی ففٹی رکھے جانے کے امکانات کم ہیں، البتہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حج 2019ء میں سرکاری سکیم 60فیصد اور پرائیویٹ سکیم 40فیصد رکھنے کی امید ہے۔ مزید کوٹہ ملنے کی صورت میں گزشتہ 7سال سے صرف 50افراد کے کوٹہ کے ساتھ کامیاب آپریشن کرنے والوں کا کوٹہ کم از کم دو بسوں کا کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ نئے ٹورآپریٹرز سالہا سال سے لائن میں لگے ہوئے ہیں ان کے لئے بھی راستہ نکالنا ضروری ہے۔ حج 2019ء کے لئے تجاویز کے لئے کئی کالم درکار ہیں۔ مختصر انداز میں اگر دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کریں تو وزارت مذہبی امور کو حج 2019ء کے لئے سب سے پہلے دو پیکیج ترتیب دینا چاہیے۔

ایک حرم کے قریب اور دوسرا حرم سے دور جیسا پہلے عزیزیہ وغیرہ میں دیا جا رہا ہے۔ سرکاری سکیم میں اگر حرم کے قریب رہنا چاہتا ہے اور وہ خرچ کر سکتا ہے اس پر غور کرنا چاہیے۔ سرکاری سکیم کے حاجی پہلی دفعہ جاتے ہیں اِس لئے انہیں عزیزیہ سے بھیڑ بکریوں کی طرح بسوں میں پہلے عمرہ کے لئے روانہ کر دیا جاتا ہے اس کے لئے حاجی کو دو بسیں تبدیل کرنا پڑتی ہیں پہلی دفعہ جانے والے حاجی موثر رہنمائی اور گائیڈ نہ ہونے کی وجہ سے بہت خوار ہوتے ہیں اس کے لئے وزارت مذہبی امور کو جامع پلان ترتیب دینا چاہیے۔ 1500 کے قریب خدم الحجاج جاتے ہیں۔سرکاری سکیم کے حاجیوں کو پہلے عمرہ کروانے کے لئے گروپ کی صورت میں گائیڈ کے ساتھ بھیجنے کا انتظام کرنا ہوگا۔

وزارت آسانی سے کرسکتی ہے۔منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ سرکاری سکیم کے حاجیوں کے لئے موٹو ٹرین ضروری ہے جن کو نہیں ملتی ان کے لئے گزشتہ چار سال سے بس نہیں مل رہی خبروں کی حد تک ٹرانسپورٹ ملتی ہے عملی طور پر سب کچھ نئے سرے سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے یہی حال کھانے کا ہے منیٰ عرفات میں کھانے کی شکایات دور کرنا ہوں گی آئندہ حج گرمیوں میں آ رہے ہیں اس لئے منی عرفات میں اے سی لازمی قرار دیئے جائیں۔ وزارت مذہبی امور میڈیکل مشن کے زیر انتظام ہسپتال بناتی ہے جو حرم سے 10میل دور ہوتے ہیں عمرہ کے لئے حرم میں آنے والے طواف زیارت کے لئے آنے والوں کے لئے حرم کے قریب ہسپتال اور ڈسپنسری بنانے کی ضرورت ہے۔

سرکاری اور پرائیویٹ سکیم دونوں کے لئے ہو اور 24گھنٹے ہو سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے حاجیوں کے لئے تربیتی نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔ سرکاری اور پرائیویٹ سکیم میں تربیتی کیمپ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ہے موثر بنانے اور پولیو کے قطرے انجکشن تربیتی پروگرامات میں لگانے کا انتظام ضروری ہے۔ جدہ اور مدینہ ایئرپورٹ پر خواتین کو سعودی مرد سٹاف پولیو کے قطرے پلاتا ہے اس کے لئے خواتین سٹاف کو پابند کروانے کی ضرورت ہے۔

ایئرلائنز کے حوالے سے حج 2018ء میں سب سے زیادہ مشکلات سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کو درپیش رہیں ایئرلائنز کے حوالے سے اوپن سکائی پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے حاجیوں کا کرایہ یکساں رکھنے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ سے براہ راست جدہ مدینہ فلائٹ کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ گزشتہ سال کوئٹہ کے حاجی مدینہ اور کراچی ایئرپورت پر خوار ہوتے رہے ہیں حاجی کے لئے زم زم ہی تحفہ ہے جو 5لیٹر دیا جا رہا ہے 10لیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایئر لائنز کو پابند کیا جائے وہ سعودی ایئرلائنزکی طرح 46کلو وزن لائیں اور 10کلو زم زم 40دن رہنے والا حاجی 30کلو سامان گھر سے لے کر جانا ہے۔ کھجوریں اور تحائف واپسی پر لاتا ہے ایئرلائنز والے ریال میں جرمانہ وصول کرتے ہیں۔

پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر کے لئے پاسپورٹ جمع کرانے کی شرط ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی وفد سعودی حکومت سے مطالبہ کرے پرائیویٹ سکیم کے حاجیوں کے انتظامات کے لئے 6ماہ کا ملٹی پل ویزہ جاری کرے۔ ایم او یو سائن کرتے وقت پاکستانی وفد حاجیوں کے لئے دوسری دفعہ جانے پر دو ہزار ریال ہر صورت ادا کرنے کی پابندی ختم کرائے۔ ہر پرائیویٹ کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دو ورکر کے لئے ہر صورت ختم کرائے۔ پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر کے لئے موبائل سم بڑا مسئلہ ہے۔ موثر اور مستقل انتظام کرایا جائے۔ وزارت مذہبی امور کوٹہ کے حساب سے خدام الحجاج کے نام پر دو ہزار سے زائد سروس سٹیکر حاصل کرتی ہے اس کو سرکاری سکیم اور پرائیویٹ سکیم کے کوٹہ کی تقسیم کے حساب سے تقسیم کیا جائے۔

پرائیویٹ سکیم کی ہر کمپنی کو اگر ایک سروس سٹیکر دے دیا جائے وہ ورکر یا ڈاکٹر آسانی سے لے جا سکتا ہے۔ ہوپ اور وزارت مذہبی امور عدالتوں میں جانے کی بجائے میز پر بیٹھ کر اتفاق رائے سے معاملات طے کریں۔ سرکاری سکیم کے ساتھ ہی پرائیویٹ سکیم کی بکنگ کی اجازت دی جائے۔ سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کی مانیٹرنگ کرنے والے سٹاف کے لئے بھی ہوپ کے ساتھ مل کر SOP طے کئے جائیں جو مسئلہ موقع پر حل ہو سکتا ہو اس کو موقع پر حل کیا جائے۔ حج پالیسی 2019ء کا اعلان ایم او یو سائن ہونے کے ساتھ ہی کرایا جائے۔ سرکاری سکیم کی درخواستوں کی قرعہ اندازی کے ساتھ ہی پرائیویٹ سکیم کی بکنگ شروع کر دی جائے۔ بلا وجہ کی تاخیر سے بچا جائے ضیوف الرحمن کی زیادہ سے زیادہ خدمت کو یقینی بنانے کے لئے ہوپ اور وزارت کے ذمہ داران پر مشتمل ٹاسک فورس بنائی جائے۔

مزید : رائے /کالم