ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے کرپشن کے نلسو رکا خا تمہ ناگزیر ہے ، محمود خان

ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے کرپشن کے نلسو رکا خا تمہ ناگزیر ہے ، ...

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے کرپشن کے ناسور کا خاتمہ ناگزیر ہے تحریک انصاف نے قومی سطح پر کرپشن کے خلاف تاریخی جدوجہد کا آغاز کیا تاکہ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا کیونکہ بدعنوانی ایک ایسی بیماری ہے جس نے کئی ممالک کو تباہ کیا تحریک انصاف نے صوبے میں حکومت بناتے ہی نظام کی شفافیت کا عمل شروع کیا اور پہلی بار کسی منتخب حکومت نے متعدد قوانین نافذ کر کے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔ محکمہ اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں ہوم ورک تقریباً مکمل ہے ہم نے شفافیت پر پہلے سمجھوتہ کیا ہے نا آئندہ کرینگے تمام ادارے اور معاشرے کے تمام طبقات انسداد بدعنوانی کیلئے حکومتی کاوشوں کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ بدعنوانی آج کے معاشرے کا بد ترین ظلم بن چکی ہے اور ظلم کو روکنا اور مظلوم انسانیت کے حقوق کا دفاع کرنا ہم سب کا دینی اور قومی فریضہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نشتر حال پشاور میں بد عنوانی کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمنار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی، سیکریٹری اسٹبلشمنٹ ارشد مجید، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن عثمان زمان، ڈی جی نیب فرمان خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے سیمنار میں شرکت کی وزیراعلیٰ نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر انسداد بدعنوانی کے دن کا منایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری عالمی برادری بد عنوانی کے خلاف یکجا ہے ۔بد قسمتی سے پاکستان بھی اُن ممالک میں سے ایک ہے ، جو بد عنوانی سے بری طرح متاثر ہوا۔ہم بد عنوانی کے خاتمے کے عالمی دن کی اہمیت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ شفاف حکمرانی اور متوازن معاشرے کیلئے بد عنوانی کا خاتمہ کتنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن معاشرے میں عدم مساوات اور ناانصافی کو جنم دیتی ہے۔یہ جنگل کا قانون بناتی ہے اور انسان کی سوچ کو منجمد کردیتی ہے۔ قانون لاچار ہو جاتا ہے۔قواعد وضوابط ناکارہ ہوجاتے ہیں اور معاشرہ انصاف سے محروم ہو جاتاہے۔ کرپشن کا یہ نیٹ ورک پھیلتا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بد عنوان اور استحصالی قوتیں حکمران بن جاتی ہیں۔ اس طرح قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کا ایک گٹھ جوڑ بن جاتا ہے ۔جرائم کا یہ گروہ ہر جگہ اپنے کارندے پیدا کرتا ہے۔اپنی عیاشیوں کے لئے جائز اور ناجائز تمام طریقے استعمال کرتا ہے۔ہمارے ملک کے بدعنوان عناصر کابھی اسی بین الاقوامی گروہ کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔جب تک قوم اکٹھی نہ ہوجائے تب تک اس گٹھ جوڑ کو توڑنا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف اس سارے گٹھ جوڑ کو بخوبی سمجھتی ہے اور جانتی ہے کہ اسی کی وجہ سے ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے قومی سطح پر کرپشن کے خلاف تاریخی جدوجہد کا آغاز کیا۔ہماری اس جدوجہد کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ محمود خان نے واضح کیا کہ ہم نے صوبے میں حکومت میں آتے ہی اپنے منشور کے تحت نظام کو شفاف بنانے کا پلان بنایا۔ہمارے پہلے دور حکومت کے پہلے اڑھائی تین سال اسی مقصد کے لئے قانون سازی میں گزر گئے تھے۔150 سے زائد قوانین بنائے گئے۔ہم نے سب سے پہلے اطلاعات تک رسائی کا قانون بنایا۔ تاکہ کوئی بھی چیز عوام سے پوشیدہ نہ رہے۔اس کے بعد خدمات تک رسائی کا قانون پاس کیا۔تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان کوئی فاصلہ نہ رہے۔ان قوانین کے ذریعے غریب آدمی کو محفوظ بنایا۔پہلی بار کسی منتخب حکومت نے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا۔پھر ہم نے وسل بلور قانون پاس کیا جو شفاف نظام کے لئے ہماری بنیادوں کا آخری معرکہ ہے۔اس قانون کے ذریعے کرپشن کی اطلاع دینے والے کے لئے انعام رکھا گیا۔ اس وقت بھی مختلف قوانین پر کام ہو رہا ہے اور پہلے سے موجود قوانین کے رولز تشکیل دیئے جا رہے ہیں تاکہ ان کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ان اقدامات کے علاوہ اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ خیبرپختونخوا بھی کرپشن کے خلاف متحرک ہے ۔ محکمہ انٹی کرپشن کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے،اس سلسلے میں ہوم ورک تقریباً مکمل ہے۔عوامی شکایات کے ازالے کیلئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ ، چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کے دفاتر میں شکایات سیلز قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں شہری کسی بھی وقت اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ عوامی شکایات کی بروقت تلافی بھی کی جاتی ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ کرپٹ لوگ قوانین توڑنے کے لئے بھی ذہن استعمال کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے راستے بنا لیتے ہیں۔ اسلئے ہم ایک ایسا سسٹم دینا چاہتے ہیں جو چور کو راستہ نہ دے۔ہمارے احتساب کا عمل ایسا ہوجو آزاد اور بااختیار ہو۔آج ہمارے اردگرد توڑ پھوڑ ، معاشرتی اور ادارہ جاتی کمزوری، گورننس کی خرابی ، ناانصافی او رمیرٹ کی خلاف ورزی سمیت جتنی بھی خرابیاں ہیں وہ کرپشن کی پیداوار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ عناصر جو معاشرے سے لڑتے رہتے ہیں اور نظام میں خرابیاں پیدا کرتے ہیں ۔اُن کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ اس سارے عمل کے لئے معاشرے کا سماجی اور سیاسی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔یہ ہمارے اہداف ہیں ۔جن کی بنیادہم نے رکھ دی ہے۔ اگر ہم مخلص ہیں اور قومی سلامتی چاہتے ہیں توہمیں صحیح پودوں کی آبیاری کرنی ہے اور گندے پودوں کو اُکھاڑ کر پھینک دینا ہے۔جب تک نظام ٹھیک نہ ہو جائے، جزاء و سزا کا آزاد اور خود کار نظام موجود نہ ہو تب تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔جب تک کرپشن ختم نہ ہو گی قومی ترقی کا خواب شرمندہء تعبیر نہیں ہو گا۔انہوں نے تمام اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ میرٹ اور شفافیت کو اپنا شعار بنائیں ۔ بد عنوانی کے خلاف سرکاری و نجی اداروں اور عوامی سطح پر شعور اُجاگر کریں تاکہ انسداد کرپشن کے اداروں اور حکومت کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار خود متعین کرنا ہے اور بنا کہے ادا کرنا ہے۔یہ ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے ۔ ظالم کی مخالفت کرنا ، ظالم کو ظلم سے روکنا اور مظلوم انسانیت کے حقوق کا دفاع کرنا ، ہم سب کا دینی فریضہ ہے۔اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن آج کے معاشرے کا بد ترین ظلم اور ناسور بن چکی ہے۔آج ہمیں عہد کرنا ہے کہ ہم کرپشن کے خلاف متحد ہیں اور متحد رہیں گے ۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے سیاحتی مقامات پر کمرشل تعمیرات کی روک تھام کے سلسلے میں حکومتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے اور سیاحوں کو معیاری سہولیات دینے کیلئے متعلقہ محکموں کو سیاحتی علاقوں میں فعال کرنے خصوصاً صحت کی موبائل سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ضلعی سطح پر سیاحوں کیلئے سہولت سسٹم اور رجسٹریشن کا عمل متعارف کرانے اور سیاحوں کو این او سی کی ضرورت سے استثنیٰ دینے کے حوالے سے ٹاسک فورس کی سفارشات سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے صاف اور واضح طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ سیاحوں خصوصاً غیر ملکی سیاحوں کو رہنمائی اور زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی قلعہ بالا حصار ، پائیتھوم عمارت سوات ، پختونخوا ہاؤس کالام اور گلف کورس سوات کو سیاحتی مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کی منظوری دی گئی اور معاملے کو اپیکس کمیٹی خیبرپختونخوا کے آئندہ اجلاس میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مذکورہ عمارتوں کی صوبائی حکومت کو واپس منتقلی ممکن ہو سکے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں سیاحت پر قائم ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سینئر صوبائی وزیر برائے کھیل و سیاحت محمد عاطف خان کے علاوہ صوبائی وزراء شوکت یوسفزئی، اکبر ایوب، اشتیاق ارمڑ، سلطان محمد خان، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود، ایس ایم بی آر، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اجلاس کو آگاہ کیا گیاکہ فیصلے کے مطابق مختلف محکموں سے مزید نئے اراکین کو ٹاسک فورس میں شامل کر دیا گیا ہے جس کا باضابطہ اعلامیہ جاری ہو چکا ہے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ٹاسک فورس مجموعی طورپر اب21 اراکین پر مشتمل ہے جن میں 6 صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری، اے سی ایس ، آئی جی پی، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر محکموں کے نمائندے شامل ہیں وزیراعلیٰ نے سیاحتی مقامات پر کمرشل تعمیرات پر پابندی لگانے کیلئے متعلقہ ٹی ایم ایز کو فعال کرنے اور فیصلے پر عمل درآمد کی پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ ٹورازم پولیس کی تشکیل کے حوالے سے بتایا گیا کہ بنیادی طور پر محکمہ پولیس 3 سال کیلئے ڈپوٹیشن پر افرادی قوت فراہم کرے گا بعد ازاں ایک مستقل ادارہ قائم کیا جائے گا جس کیلئے نیا قانون بنایا گائے گا ٹورازم پولیس کی تربیت کا انتظام محکمہ سیاحت کرے گا سیاحوں کو این او سی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ٹاسک فورس کی سفارشات سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے رجسٹریشن کے عمل کو پیچیدگیوں سے بالا تر اور آسان بنانے کی ہدایت کی انہوں نے ہدایت کی کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ کونسا علاقہ محدود ہے اور کونسا اوپن ہے، کس کو این اوسی کی ضرورت ہے اور کس کو نہیں۔ وزیراعلیٰ نے سیاحتی علاقوں تک سیاحوں کی آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی مجوزہ فہرست پر نظر ثانی کرنے اور ترجیحات کا تعین کرنے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ سیزن میں سیاحوں کو درپیش ٹریفک کا مسئلہ حل کرنا ہے ہزارہ اور ملاکنڈ میں سیاحو ں کیلئے سہولت مراکز اور سروس ایریاز قائم کرنے کیلئے درکار اراضی کی فراہمی کی بھی ہدایت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ سیاحت سے متعلقہ تمام تعمیرات دکانیں ، ٹک شاپس ، باتھ رومز اور دیگر سہولیات ماسٹر پلان کے تحت تعمیر کی جائے گی سب میں یکسانیت ہوگی اور اس عمل کیلئے باضابطہ قانون ہوگا وزیراعلیٰ نے سیاحوں کی سہولت کے پیش نظر زیر تعمیر مالم جبہ روڈ کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی اجلاس میں قلعہ بالا حصار ، پائیتھون عمارت گل بہار سوات، گلف کورس کبل سوات اور پختونخوا ہاؤس کالام کو سیاحتی مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قلعہ بالال حصار اور دوسری عمارتیں جو ابھی تک پاک فوج کے زیراستعمال ہے ان کی صوبائی حکومت کو منتقلی کے بعد ہی سیاحت کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے اجلاس نے اس معاملے کو اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں لے جانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کیلئے جامع تجویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کیلاش میں بھی فی الحال ہوٹلز وغیرہ کی تعمیر پر پابندی لگانے کی ہدیت کی اور واضح کیا کہ ماسٹر پلان کے تحت ہی تعمیرات کی جائیں گے انہوں نے محکمہ سیاحت کے ساتھ رابطے کیلئے دیگر متعلقہ محکموں کے فوکل پرسن نامزد کرنے کی بھی منظوری دی۔

مزید : کراچی صفحہ اول