جرمنی ، اردو اور پنجابی کے مہشیور شاعر حنیف تمنا کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد

جرمنی ، اردو اور پنجابی کے مہشیور شاعر حنیف تمنا کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد

جرمنی (خصوصٰ رپورٹ )جرمنی میں موجود اْردو اور پنجابی زبان کے مشہور شاعر خوا جہ حنیف تمنا کے اعزاز میں ایک ادبی شام کا انعقاد اوفن باخ شہر کے ایک انڈین ریسٹورنٹ بادل کیوشے کے خوبصورت ہال میں کیا گیا۔ اس پروگرام میں مشاعرے کی صدارت کے لیے اردو ادب کے بْلندپایہ شاعر، نقاد ،ادیب، کئی کتابوں کے مصنف حیدر قریشی تشریف لائے تھے۔ پروگرام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے حصے کی نظامت تنظیم کے نائب صدر محترم رفیق احمد بٹ صاحب نے کی۔ اس حصے میں تمنا صاحب کی شخصیت اور اْن کی شاعری پر مضامین پڑھے گئے۔تقریب کے باقاعدہ آغاز سے قبل حلقہ ارباب ذوق کی انتظامیہ میں شامل ہونے والے ممبران کو پھول پیش کر کے اسٹیج پر اْن کا استقبال کیا گیا۔ مضامین کے سلسلے کا پہلا مضمون تمنا کے شاگرد راشد ملک رامش نے تمنا صاحب کی شخصیت پرمضمون پڑھا اور ساتھ تمنا صاحب کے لیے ایک غزل پیش کی۔ دوسرے مضمون میں حلقہ ارباب ذوق جرمنی کے سیکریٹری مالیات مستجاب احمد عارف نے تمنا صاحب کی شاعری کے حوالے سے بہت خوبصورت گفتگو فرمائی۔ان کے بعد افضل قمر صاحب نے اپنی خوبصورت آواز میں تمنا صاحب کی ایک غزل گْنگنا کر پیش کی۔ اس کے بعد تمنا صاحب کی خدمت میں حلقہ ارباب ذوق کی جانب سے تنظیم کے نائب صدر رفیق احمد بٹ صاحب اور سیکریٹری مالیات مستجاب عارف صاحب نے شال پیش کی اور تنظیم کے صدرطاہر عدیم اور ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مبشر محیطنے تمناصاحب کی خدمت میں سْنہری شیلڈ پیش کی۔ جس کے بعد حنیف تمنا نے اپنے الفاظ میں اس شام کے انعقاد اور ان تحائف کے لیے تنظیم کا شکریہ ادا کیا،جس کے بعد پہلی نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔ 15 منٹ کے مختصر وقفے کے بعد باقاعدہ مشاعرے کا آغاز کیا گیا۔ مشاعرے کی نظامت خاکسار نے کی آج کی مشاعرے میں جرمنی بھر سے 22 شعرا اور شاعرات نے شرکت فرمائی۔ سب سے پہلے خاکسار نے تنظیم کے صدر عدیم صاحب کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی تا وہ آنے والے معزز مہمانان کا استقبال کرے۔ پھر خاکسار نے اْردو ادب کے نامور شاعر ،نقاداور ادیب حیدر قریشی صاھب کو مشاعرے کی صدارت کے لیے سٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی۔اسی طرح آج کی شام کے دْلہا حنیف تمنا صاحب کو سٹیج پرآنے کی دعوت دی گئی۔پھر پنجابی کے بزرگ شاعر طفیل خلش صاحب کو اور تازہ فکرشاعرہ شازیہ نورین صاحبہ کو بھی سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ مشاعرے کے آغاز سے قبل خاکسار نے کچھ اہم امور جو انتظامی معاملات سے تعلق رکھتے تھے احباب کو ?گاہ کیا۔ مشاعرے کا باقاعدہ آغاز خاکسار نے صاحب صدر کی اجازت سے اپنے کلام سے کیا اور پھر حسب روایت مہمان شعرا کو کلام کی دعوت دیتا رہا۔ اس بار حلقہ ارباب ذوق کو ایک اور اعزاز حاصل ہوا کہ ہمیں اپنا یہ مشاعرہ لائیو فیس بْک کے ناظرین تک پہنچانے کا موقع ملا اور ایک محتاط اندازے کے مْطابق کوئی 100 سے 150 لوگوں نے اس مشاعرے کو ساری دْنیا میں دیکھا اور سْنا۔ یہ مشاعرہ تقریبا 3 گھنٹے تک جاری رہا 22 شعرا اور شاعرات نے اپنا کلام پیش کیا جن میں راشد ملک رامش ، عبدالحمید راما ،ظہور احمد ،لئیق احمد ، اظہر تحمید ،عا مر ماعر ، طاہر صدیقی ، فرزانہ ناہید صاحبہ، چوہدری کرم الہی ، اسحاق اطہر ، امجد علی شاکر ، اسحاق ساجد ، ا فضل قمر ،فہمیدہ مْسرت ، طاہر مجید ، راجہ یوسف ، شازیہ نورین ، طاہر عدیم ۔ طفیل خلش، مہمانِ خصوصی حنیف تمنا اور صدر مشاعرہ حیدر قریشی نے اپنے خوبصورت کلام سے نوازا۔ صاحب صدر نے اپنے صدراتی خطاب میں حلقہ ارباب ذوق جرمنی کی تمام انتظامیہ کو اس شاندار اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ مشاعرے کے اختتام پر خاکسار نے تمام حاضرین مشاعرہ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ مشاعرے کے بعد احباب کی تواضع پْرتکلف کھانے سے کی گئی آج کی ا س تقریب کی حاضری لگ بھگ 90 سے 100 کے درمیان رہی۔ تقریب 5 گھنٹے تک جاری رہی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر