غیر قانونی سگریٹ مینو فیکچرز کمپنیوں کا مارکیٹ شہئر 41فیصد سے تجاوز کر گیا

غیر قانونی سگریٹ مینو فیکچرز کمپنیوں کا مارکیٹ شہئر 41فیصد سے تجاوز کر گیا

کراچی (اکنامک رپورٹر) حکومت کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرز کمپنیوں کے خلاف ایکشن نہ لینے کے باعث ان کا مارکیٹ شیئرز 41 فیصد سے تجاوز کرگیا ہے۔ سگریٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو بڑی کثیرالاقوامی سگریٹ کمپنیاں ہیں جو قانونی طور پر سگریٹ مینوفیکچرنگ کا کام کررہی ہیں، سال2017-18میں مذکورہ کمپنیوں نے ایکسائز ڈیوٹی اور ٹیکس کی مد میں 89 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کمپنیوں کا مارکیٹ شیر 67 فیصد سے کم ہے۔ ذرائع کے مطابق قانونی طور پر اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس چوری کرنے والی غیر قانونی کمپنیوں کے باعث شدید ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان غیر قانونی سگریٹ کمپنیوں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کے باعث ان کمپنیوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ ٹیکس دھندہ کمپنیوں اور مذکورہ ٹیکس چوری کرنے وا لی کمپنیوں کے درمیان سال 2016-17 کے دوران Price Gap کا تناسب 170 فیصد سے تجاوز کرچکا ہے۔ تاہم مالی سال 2017-18 کے دوران اس کے خلاف پالیسی اقدامات کئے گئے جس کے نتیجے میں غیر قانونی سگریٹ کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر کم ہو کر 33 فیصد ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق ان اقدامات کے باوجود غیر قانونی سگریٹ کمپنیاں اپنے غیر قانونی ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئیں اور مارکیٹنگ قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہیں، وہ کھلے عام اپنے صارفین کو رعایت، کیش بیک اور انعامات کی پیشکش کررہی ہیں۔ اسکے علاوہ اپنے اشتہارات دکانوں اور دیگر عوامی مقامات پر چسپاں کررہی ہیں جبکہ ہیلتھ وارننگ اور قیمت کو سگریٹ کے پیکٹوں پر درج کرنے میں بھی لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کمپنیوں کے تیار کردہ سگریٹ کے پیکٹوں پر عموماً ہیلتھ وارننگ نہیں ہوتی جبکہ درج کردہ قیمت سے کافی کم قیمت پر سگریٹ فروخت کررہی ہیں۔ یہ کمپنیاں دکانداروں کو مختلف اسکیمیں دیتی ہیں جس کی وجہ سے وہ سگریٹ کے پیکٹ پر درج قیمت کے مقابلے میں آدھی قیمت پر پیکٹ فروخت کرتے ہیں، جس کے باعث ان کا مارکیٹ شیئر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 2018 اور سپلیمنٹری بجٹ ستمبر 2018 میں ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھ کر تقریباً 56 فیصد ہوگی ہے جس کی وجہ سے ایک بار پھر ٹیکس دھندہ اور ٹیکس چوری کرنے والی کمپنیوں کا Price Gap بڑھ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے قانونی سگریٹ کمپنیوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کم آمدنی اور زائد قیمت کے باعث صارفین لیگل کمپنیوں کے تیار کردہ سگریٹس کو ترک کرکے غیر قانونی کمپنیوں کی سگریٹس کا استعمال کررہے ہیں جسکی وجہ سے قانونی کمپنیوں کو اپنا وجود برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت غیر قانونی سگریٹ کمپنیاں سالانہ 35 ارب روپے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں ، بجائے اس کے کہ اس شعبے پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جائے جو پہلے ہی سب سے زیادہ ٹیکس ادا کررہا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی سگریٹ کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن لے، کیونکہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے وقتی اور غیر سنجیدہ اقدامات کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ جبکہ او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس (Business Confidence) انڈیکس کے مطابق پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نومبر2017 میں 21 فیصد تھی جو 2018 میں کم ہو کر 14 فیصد رہ گئی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر