اوجی ڈی سی ایل میں من پسند کنٹریکٹرز کو نواز نے کا سلسلہ جاری

اوجی ڈی سی ایل میں من پسند کنٹریکٹرز کو نواز نے کا سلسلہ جاری

کراچی (رپورٹ /غلام مرتضی) آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) نے ٹینڈرز من پسند کنٹریکٹرز کے نام کرنے کے لیے انہیں ٹیلر میڈ (Tailer Made) بنادیا۔ آئل اینڈ گیس سیکٹر کے باخبر ذرائع کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے ٹینڈرز کے اجراء میں ایس او پی اور پپرا کے قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کردیا ہے، کسی ٹینڈر میں کمپنی کا تجربہ 3 سال اور کسی میں 10 اور5 جبکہ کسی ٹینڈر میں سرے سے تجربہ کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجی ڈی سی ایل نے اپنے منظور نظر کنٹریکٹرز کو کنٹریکٹ دینے کے لیے ایسا کیا ہے تاکہ مطلوبہ کنٹریکٹ جاری کردہ ٹینڈر کے لیے بالکل فٹ قرار پائیں۔ ذرائع کے مطابق اوجی ڈی سی ایل نے تیل اور گیس کی تلاش کے لیے تعمیر کیے جانے والے تھور(7)، باہو (1) ، باہو (3)، نندپور(6) سمیت پانچ بلاکس کو مکمل طور پر آؤٹ سورس (Out Source) کردیا ہے جبکہ او جی دی سی ایل کے پاس ایسے شعبے موجود ہیں جو جو ڈریلنگ (Drailing) سمیت بلاکس کے تمام امور باآسانی سرانجام دے سکتے ہیں، لیکن تمام سہولیات میسر ہونے کے باوجود کمپنی نے مذکورہ بلاکس کے لیے ٹیندرز کا اجراء کیا ہے ، کیا کمپنی انتظامیہ نے مذکورہ امور انجام دینے کی اہلیت اور صلاحیت رکھنے والے اپنے شعبوں سے اس کی NOC حاصل کی ہے یا کسی کے کہنے پر دانستہ طور پر ایسا کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پپرا رولز کے مطابق کنٹریکٹرز کے لیے تجربے کی کم از کم حد مقرر ہوتی ہے، لیکن مذکورہ ٹینڈرز میں کسی چیز کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے جب روزنامہ پاکستان سے اوجی ڈی سی ایل کے ترجمان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ٹینڈرز کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجربے کا تعین کیا جاتا ہے اور ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ کسی ٹینڈر میں کانٹریکٹر سے تجربہ نہ مانگا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے تمام امور کو سختی سے صنعتی معیار کے مطابق سرانجام دیا جاتا ہے ۔ کمپنی کو ہونے والا منافع اس بات کا غماز ہے کہ کمپنی کا کاروبار کامیابی سے چلایا جارہا ہے۔ مالی سال 2017-18 میں کمپنی نے ملک میں سب سے زیادہ بعد از ٹیکس منافع حاصل جو 78.7 ارب روپے تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کا شمار ملک کی سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی کمپنیوں میں کیا جاتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر