عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ گندے پانی کی طرح ضائع ، کوئی پوچھنے والا نہیں ، جسٹس قیصررشید

عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ گندے پانی کی طرح ضائع ، کوئی پوچھنے والا نہیں ، جسٹس ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائیکورٹ کے جسٹس قیصررشید نے کہاہے کہ بدقسمتی سے اس ملک میں عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ گندے پانی کی طرح ضائع کیاجاتاہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ، دوسری جانب ہمارے حکمران بیرونی امدادکیلئے دوروں پر جاتے ہیں ہوناتویہ چاہئے کہ پہلے ان کا اپنا ملک ایسی چیزوں سے پاک ہو ۔پشاورمیں شروع کیاگیابی آرٹی پراجیکٹ عوام کی سہولت کیلئے ہے ضروری امر یہ ہے کہ اسے بروقت مکمل کیاجائے تاکہ جس مقصدکیلئے یہ شروع کیاگیاہے وہ حاصل ہو جبکہ عدالت نے اس موقع پر آئی جی پی خیبرپختونخوا اور سی سی پی او کویہ بھی ہدایت کی کہ وہ پشاورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ تجاوزات کے آپریشن میں مکمل تعاون کریں۔فاضل بنچ جسٹس قیصررشید اور جسٹس محمدایواب پرمشتمل تھا بنچ نے بی آرٹی واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی دوران سماعت ڈائریکٹرجنرل پی ڈی اے اسرارالحق ، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے عارف وزیر،ڈپٹی پراسکیوٹرجنرل نیب جمیل صراف، سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عامرلطیف ،ایڈووکیٹ جنرل سید سکندرشاہ ،ڈبلیوایس ایس پی کے چیف ایگزیکتیوافیسر انجینئرخانزیب ، ڈی جی انجینئرعلی خان ، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈاکٹربشیر،بیرسٹرقاضی محمدارشادپیش ہوئے ۔دوران سماعت عامر لطیف نے عدالت کوبتایاکہ 1990میں واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ کے لئے 47 کروڑروپے مختص ہوئے جس میں زمین کی خریداری کیلئے185ملین جب کہ انفراسٹرکچرکیلئے دیگررقم مختص کی گئی اوربعض جگہوں یہ ٹریٹمنٹ پلانٹس بنائے گئے تاہم بعض ناگزیروجوہات کی بناء پر یہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے اس حوالے سے چیف سیکرٹری نے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جنہو ں نے اپنی رپورٹ عدالت کے روبروپیش کی جس پر جسٹس قیصررشید نے کہاکہ کس طرح عوام کے پیسے کو پانی میں بہایاگیااسکا کون ذمہ داری ہے اگرسٹیٹ بینک اسوقت کے47کروڑکاحساب کرے تو یہ موجودہ 47ارب ہونگے مگربدقسمتی سے کسی نے توجہ نہیں دی اورجب عدالت نے اس حوالے سے نوٹس لیا تو ساری معلومات سامنے آگئیں تاہم عدالت نے اس موقع پر قراردیاکہ جورپورٹ چیف سیکرٹری کی جانب سے پیش کی گئی ہے اس کا جائزہ لیناضروری ہے تاکہ تمام امور کو بخوبی جانچاجاسکے عدالت نے یہ بھی استفسارکیاکہ ان ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بحالی کیلئے کیامنصوبہ بنایاجارہاہے جس پر سپیشل عامر لطیف نے بتایاکہ اس حوالے سے دوپراجیکٹس شروع کئے جارہے ہیں جبکہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے ڈبلیوایس ایس پی کو ان پلانٹس کا کنٹرول سنبھالنے کی بھی ہدایت کی ہے جس پرسماعت ملتوی کردی گئی اور حوالے سے صوبائی حکومت کوہدایت کی گئی کہ وہ ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ عدالت میں اگلی پیشی پر آئیں اسی طرح فاضل بنچ نے بی آرٹی اور سڑکوں کی کشادگی سے متعلق کیس کی سماعت شروع کی تو ڈی جی پی ڈی اے اسرارالحق نے عدالت کوبتایاکہ بی آرٹی مارچ تک مکمل ہوجائیگی اور اس کے مکمل ہونے سے نوہزارچھ سو میٹرکااضافی ایریا سڑک کی شکل میں آئے گا انہوں نے مزیدبتایاکہ پہلی مرتبہ 54کلومیٹرلمبی گرین بنائی جارہی ہے جس سے سڑکوں کاپانی نالوں گزرنے کی وجہ سے سڑکیں خراب نہیں ہونگی انہوں نے بتایاکہ بی آرٹی پر کام تیزرفتاری سے جاری ہے اورہمارا اصل مقصد کام کوبین الاقوامی معیار کے مطابق کرناہے تاکہ عوامی مفادکے اس منصوبے کو بہترین اندازمیں مکمل کیاجاسکے انہوں نے مزیدبتایاکہ بی آرٹی سے قبل ہمارے پاس سڑکیں پانچ لاکھ46ہزارسکوئرمیٹرتھیں جوبی آرٹی کی پیلرزکی وجہ سے صرف چارفیصدکم ہوجائیں گی تاہم بی آرٹی کی وجہ سے ٹریفک فلو بیس فیصدتک کم ہوجائے گا جس سے پہلے سے زیادہ کشادگی سڑکیں عوام کو میسرہونگی جس پر جسٹس قیصررشید نے کہاکہ ہمیں عوام کی فکر ہے تاکہ انہیں روڈ پر کوئی مسئلے نہ ہوسابقہ دورمیں بعض ڈی جی حضرات نے بغیرکسی قانونی تقاضوں کے لوگوں کے نقشے منظورکئے جسکے خلاف ریفرنسزدائر ہوئے ہیں لہذا اس کو بھی ذہن میں رکھیں کہ کوئی پلازہ بغیرکارپارکنگ کے نہ بنے جس پر ڈی جی پی ڈی اے نے کہاکہ تمام پلازوں میں کارپارکنگ کی سہولت کولازمی قرار دیاگیاہے مگرجب بعض جگہوں پر تجاوزات کیخلاف آپریشن ہوتاہے تو پولیس تعاون نہیں کرتی جس پر عدالت نے آئی جی اورسی سی پی او کوہدایت کی کہ وہ پی ڈی اے کے ساتھ مکمل تعاون کریں جبکہ شمشتومیں ڈمپنگ کیس کے دوران ڈبلیو ایس ایس پی کے چیف ایگزیکٹیوانجینئرخانزیب نے بتایاکہ1819کنال زمین حاصل کرلی گئی ہے جس پر دیوارکی تعمیر جاری ہے اورڈپنگ سائٹ مکمل ہونے پر پشاورکاساراکوڑا ادھر لے جایاجائے گاعدالت نے بعدازاں سماعت مکمل کرلی۔

مزید : کراچی صفحہ اول