ہاتھ پھیلا کر ہماری قومی غیرت ختم کی گئی، اب ہم کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے: وزیر اعظم عمران خان

ہاتھ پھیلا کر ہماری قومی غیرت ختم کی گئی، اب ہم کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے: وزیر ...
ہاتھ پھیلا کر ہماری قومی غیرت ختم کی گئی، اب ہم کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے: وزیر اعظم عمران خان

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم اس لیے ترقی نہیں کرسکے کیونکہ دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر ہماری قومی غیرت ختم کردی گئی تھی ، اب ہم نہ کسی کے سامنے جھکیں گے ، نہ کسی کی جنگ لڑیں گے اور سب کے ساتھ امن کے ساتھ رہیں گے ۔

بلوچستان کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نبی ﷺ خود دار انسان تھے جنہوں نے چھوٹی سی ریاست کے باوجود دنیا کی دو بڑی سپر پاورز کو خطوط لکھے، ہر اس انسان میں غیرت ہوتی ہے جو خود دار ہوتا ہے ، نبی ﷺ کسی کے سامنے جھکنے والے نہیں تھے۔ ہمارا ملک اس وجہ سے عظیم نہیں بن سکا کیونکہ ہماری قومی غیرت ختم کردی گئی۔ہم اب وہ قوم ہیں جو نہ کبھی کسی کی جنگ لڑیں گے اور نہ کسی کے سامنے جھکیں گے اور سب سے امن چاہیں گے۔ ہمیں کہا گیا کہ ہم آپ کو پیسے دے رہے ہیں آپ افغانستان میں ہماری جنگ لڑیں۔ میں شروع سے کہتا تھا کہ افغانستان کا حل جنگ نہیں ہے اور آج جو لوگ ہمیں ڈو مور کہتے تھے وہی کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں ہماری مدد کرو۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قائد اعظم ہمارے سیاسی اور علامہ اقبال ہمارے نظریاتی لیڈر تھے، آج ہندوستان میں جو مسلمانوں کا حال ہے وہ دیکھ کر آج لوگ سمجھتے ہیں کہ قائد اعظم کی سوچ درست تھی، آج ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ واحد پیغمبر ہیں جن کی پیدائش سے وفات تک تمام باتیں تاریخ کا حصہ ہیں لیکن دوسرے انبیاؑ کی زندگی کا تذکرہ ہمیں قرآن سے پتا چلتا ہے۔نبی ﷺ نے وہ حاصل کیا جو دنیا کا کوئی لیڈر حاصل نہیں کرسکا ، مدینہ کی ریاست نے 700 سال تک دنیا کی سپر پاور رہنے والی ریاست کی بنیاد رکھی ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست میں عدل اور انصاف تھا جہاں خلفاءجواب دہ تھے اور قانون سے اوپر نہیں تھے خون کی وجہ سے خلافت نہیں گئی بلکہ میرٹ کی بنا پر خلیفہ منتخب ہوئے جو جمہوریت کی بہترین مثال ہے۔ مسلمان جمہوریت سے شروع ہوئے لیکن اب ہم بادشاہت کی طرف چلے گئے ہیں جبکہ مغرب بادشاہت سے شروع ہو کر جمہوریت کی طرف چلا گیا اور ترقی کرگیا۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں زکوٰة کا سسٹم تھا پیسے والے لوگ ٹیکس دیتے تھے اور وہ غریبوں پر خرچ ہوتا تھا۔ آج سکینڈی نیوین ملکوں میں پروگریسو ٹیکس کا سسٹم ہے ، یعنی وہ لوگ بھی پیسے والوں سے ٹیکس لیتے ہیں اور نچلے طبقے پر خرچ کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا سسٹم لایا گیا کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا گیا۔ لاہور میں ہر شخص پر 70 ہزار جبکہ راجن پور میں صرف ڈھائی ہزار روپے خرچ کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے پسا ہوا طبقہ مزید نیچے چلا گیا۔

وزیر اعظم نے مدینہ کی ریاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں نبی ﷺ نے میثاق مدینہ کیا جس کے تحت انہوں نے اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیے ۔انہوں نے خواتین کو آزاد کیا اور انہیں وراثتی حقوق دیے لیکن ہم آج تک پاکستان میں عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دے سکے۔نبی کریم ﷺ کا آخری خطبہ پڑھ لیں تو اس میں وہ بات ہے جو آج انسانی حقوق کے حوالے سے کی جارہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر ہم نے اس ملک کو اٹھانا ہے تومدینہ کی ریاست کے اصولوں پر عمل کرنا ہے۔ہم نے کمزور علاقوں کو اوپر لانے کی کوشش کرنی ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اچھے ہیں جو وہاں کے معاملات سمجھتے ہیں اس لیے ان کے ساتھ مل کر بلوچستان کے مسائل حل کریں گے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /سیاست /علاقائی /اسلام آباد