کیا پیسہ خوشیاں خرید سکتا ہے؟ امیر ترین لوگوں کا جواب سن کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجائیں

کیا پیسہ خوشیاں خرید سکتا ہے؟ امیر ترین لوگوں کا جواب سن کر آپ کی آنکھوں میں ...
کیا پیسہ خوشیاں خرید سکتا ہے؟ امیر ترین لوگوں کا جواب سن کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجائیں

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) پیسے کی ہوس ایسی چیز ہے کہ کبھی پوری نہیں ہوتی۔ انسان کے پاس جتنا آتا جائے اس میں مزید کی جستجو بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کیا امراءزندگی میں بہت خوش ہوتے ہیں اور کیا وہ پیسے سے خوشیاں خرید سکتے ہیں؟ اب ہاورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق میں ان سوالات کے ایسے جواب دے دیئے ہیں کہ سن کر امراءکی حالت پر ترس آنے لگے۔ میل آن لائن کے مطابق ہاورڈ بزنس سکول کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 2ہزار کروڑ پتی افراد کے انٹرویوز کیے اور ان سے ان کی خوشی کا معیار پوچھا۔ اپنی دولت کے انبار سے قطع نظر ہر ارب پتی شخص نے جواب میں کہا کہ وہ خوش نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں حقیقی خوشی پانے کے لیے مزید پیسے کی ضرورت ہے۔تحقیق کے حتمی نتیجے کے طور پر سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”پس ثابت ہو گیا کہ پیسے سے خوشیاں نہیں خریدی جا سکتیں۔“

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر مائیکل نورٹن کا کہنا تھا کہ ”ہم نے ایک بینک کے 2ہزار امیر ترین کلائنٹس سے ایک سے دس تک کے سکیل پر ان کی خوشی کا معیار پوچھا۔ جب دو سے پانچ کے درمیان نمبروں کا انتخاب کیا تو ہم نے پوچھا کہ انہیں خوش ہونے کے لیے اور کتنی رقم درکار ہو گی؟ ان میں ایک چوتھائی لوگوں کے پاس اوسطاً1کروڑ 50لاکھ ڈالر(تقریباً 2ارب 8کروڑ روپے) کی دولت موجود تھی۔ حیران کن طور پر ان میں سے اکثر نے کہا کہ انہیں اپنی موجودہ رقم کا 11گنا مزید چاہیے، تب انہیں حقیقی خوشی ملے گی۔ باقی نے دو گنا یا تین گنا مزید رقم کی خواہش ظاہر کی۔ ان کے جوابات سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی رقم کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ان میں جن کے پاس 7کروڑ 60لاکھ ڈالر سے زائد رقم تھی وہ بھی مزید کے متمنی تھے اور جن کے پاس ایک کروڑ ڈالر تھی وہ بھی اس میں مزید اضافہ چاہتے تھے۔ ان دو ہزار لوگوں میں سے کوئی ایک بھی اپنی موجودہ دولت پر مطمئن اور خوش نہیں تھا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس