وہ شہر جسے ”ریپ“ اور شہد کا دارالحکومت کہا جاتا ہے، لیکن وجہ ایسی کہ ہنسی نہ رکے

وہ شہر جسے ”ریپ“ اور شہد کا دارالحکومت کہا جاتا ہے، لیکن وجہ ایسی کہ ہنسی نہ ...
وہ شہر جسے ”ریپ“ اور شہد کا دارالحکومت کہا جاتا ہے، لیکن وجہ ایسی کہ ہنسی نہ رکے

  

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا کا ایک ٹیسڈیل(Tisdale)نامی قصبہ ہے جسے مقامی لوگ دہائیوں سے فخر کے ساتھ ’ریپ اور شہد کا دارالحکومت‘ کہتے آ رہے ہیں۔ جب بیرونی لوگ قصبے کا یہ سلوگن سنتے تو ’ریپ‘ کا لفظ سن کر ان کے ذہن میں یہی خیال آتا کہ شاید یہاں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی شرح بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے اسے ریپ کا دارالحکومت کہا جاتا ہے لیکن جب انہیں اس کا اصل سبب بتایا جاتا تو ان کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا۔ دی گارڈین کے مطابق اس لفظ ریپ کا مطلب جنسی زیادتی نہیں بلکہ یہ ریپ سیڈ (Rapeseed)کا پہلا حصہ ہے۔ ریپ سیڈ ایک طرح کا بیج ہے جسے آج کل کینولا کہا جاتا ہے۔ یہ تیل بنانے کے کام آتا ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ 1960ءمیں سائنسدانوں نے اس جگہ ریپ سیڈز یا کینولا اگانے اور ان سے صنعتی پیمانے پر تیل پیدا کرنے کے تجربات کیے۔ یہاں بڑے پیمانے پر ریپ سیڈ کی فصلیں کاشت کی گئی اور یہ دنیا میں اس فصل کا گڑھ بن گیا۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ شہد کی پیداوار کے لیے بھی معروف تھا چنانچہ مقامی لوگوں نے اپنے قصبے کو ’ریپ اور شہد کا دارالحکومت‘ کا سلوگن دے ڈالا۔ جو دہائیوں تک چلتا رہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ریپ کا لفظ خود ان کے لیے شرمندگی کا باعث بننے لگا شہری اس سلوگن کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اب اس معاملے پر مقامی آبادی میں ایک سروے کروایا گیا ہے جس لوگوں سے پوچھا گیا کہ آیا وہ یہ سلوگن تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اکثریت نے سروے میں سلوگن تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ دیا چنانچہ اب اس کا سلوگن تبدیل کیا جا رہا ہے۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلد نیا سلوگن منتخب کیا جائے گا اور پرانا ختم کر دیا جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس