اسلامی دنیا کے معروف ترین ادارے جامعہ اظہر کے گرینڈ امام اور حکومت کے درمیان لڑائی ہوگئی

اسلامی دنیا کے معروف ترین ادارے جامعہ اظہر کے گرینڈ امام اور حکومت کے درمیان ...
اسلامی دنیا کے معروف ترین ادارے جامعہ اظہر کے گرینڈ امام اور حکومت کے درمیان لڑائی ہوگئی

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کی جامعہ الاظہر اسلامی دنیا کی معروف ترین جامعہ ہے جس پر مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کی طرف سے مسلسل تنقید کی جا رہی ہے اور اب مصر کے حکومتی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے پتا چلتا ہے کہ مصری حکومت اور جامعہ الاظہر کے امام اعظم احمد الطیب کے مابین ٹھن گئی ہے۔ مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں مصر کے حکومتی میگزین سمیت کئی اخبارات میں معنی خیز ہیڈلائنز کے ساتھ خبریں شائع ہوئیں۔حکومتی میگزین پر شائع ہونے والی خبر کی ہیڈلائن ’وہ اسلامی قاضی، جس نے ہمیں اذیت پہنچائی‘ تھی۔ ایک اور اخبار میں اشارے کنائے میں امام احمد الطیب کو ’انقلابی‘ قرار دیا گیا اور ایک تیسرے اخبار نے ایک خبرکی سرخی یوں جمائی کہ ”اسلامی قوانین صدر کے نکتہ نظر سے۔“

رپورٹ کے مطابق صدر عبدالفتح السیسی اسلامی دنیا کے اس ممتاز ادارے جامعہ الاظہر کے متعلق ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں کہ یہ ادارہ اسلامی کے بنیادی تصورات کی غلط تشریح کر رہا ہے اور شدت پسندی پھیلا رہا ہے۔صدر السیسی اور امام اعظم کے درمیان یہ کشیدگی گزشتہ سال اس وقت منظرعام پر آئی جب صدر السیسی نے ایک تقریر میں امام الطیب پر تنقید کی اور کہا کہ ”آپ کے ساتھ معاملہ کرنا کتنا اکتا دینے والا کام ہے۔“

رپورٹ کے مطابق امام الطیب ملک میں خالص سنت نبویﷺ پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جشن عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر بھی انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”ہمیں خالص سنت نبویﷺ کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے اور ایسے کسی بھی رجحان کو ملک میں نہیں پنپنے دینا چاہیے جو عوام کو اسلام سے دور لے جائے۔“حکومت کی طرف سے نیوز ویب سائٹس سے جامعہ الاظہر کے علماءکرام کے ان خیالات پر مبنی بیانات بھی ڈیلیٹ کیے جا چکے ہیں اور سکیورٹی سروسز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جامعہ الاظہر کے سکالرز کے بیانات اور ان کی تقریبات کو نظرانداز کریں۔

مزید : عرب دنیا