بھارت یہ حقیقت تسلیم کرے کہ طاقت اور کالے قوانین کےذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکتا:میر واعظ عمر فاروق

بھارت یہ حقیقت تسلیم کرے کہ طاقت اور کالے قوانین کےذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں ...
بھارت یہ حقیقت تسلیم کرے کہ طاقت اور کالے قوانین کےذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکتا:میر واعظ عمر فاروق

  

سری نگر(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے لئے جدوجہد میں مصروف آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ طاقت اور قوت کے ہتھکنڈوں سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں،پاکستانیوزیراعظم عمران خان کا دس قدم آگے بڑھنے کا  حالیہ بیان انتہائی خوش آئندہے،بھارت کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت اور کالے قوانین کےبل پر مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکتا، آخر کب تک کالے قوانین کے ذریعے یہاں کے نوجوانوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا جاتا رہے گا،انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پر امن تقریبات کو روکنا،حریت قائدین اور کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونسنا کہاں کی انسانیت ہے؟اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حقوق انسانی کے حوالے سے فوری طور ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن  مقبوضہ کشمیر  بھیجےجو خود یہاں حالات کا مشاہدہ کرے اور دیکھے کہ کس طرح کشمیری عوام کے حقوق طاقت کے بل پر سلب کر لئے گئے ہیں؟ جہاں ظلم کیخلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

تفصیلات کے مطابق کئی دن کی نظر بندی کے بعد سری نگر کی جامع مسجد کے باہر احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے  ہوئے میر واعظ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ ہم مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل چاہتے ہیں ،اگر دونوں ملکوں کی قیادت اس مسئلہ کو پائیدار بنیادوں پر یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لئے کوئی نتیجہ خیزاورکارگرعمل شروع کرتی ہے، تو مقبوضہ کشمیرکی مزاحمتی قیادت اس عمل میں ہرطرح کا تعاون دینے کےلئےتیارہے لیکن یہ تبھی ہوگا جب ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے سیاسی دور اندیشی اور بصیرت کا مظاہرہ کیاجائے جیسا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے ،اب ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا طاقت کے بل بوتے پر کوئی حل ممکن نہیں اور ایسا کہنے والوں میں اب پاکستان اور بھارت کے سابقہ فوجی جرنیل بھی شامل ہیں۔میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کہا کہ ایک طرف کشمیر کی نوجوان نسل کوطاقت کے نشے میں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے اور دوسری طرف مسئلہ کشمیرکی وجہ سے ہی دونوں ممالک کے فوجی ہرروزمارے جا رہے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیرمیں تب تک انسانی حقوق بحال نہیں ہوسکتےجب تک یہاں سے کالے قوانین کا خاتمہ نہیں ہوتا،بھارتی حکومت کبھی نام نہاد انتخابات، کبھی سڑک، کبھی بجلی اور پانی کے مسئلہ اٹھا کر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کررہی ہے لیکن ہمارا یہ مسئلہ نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کےعوام سےعالمی برادری اور خود بھارت کی قیادت نے جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کیا جائے۔

میرواعظ  عمر فاروق نے مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کے عالمی دن کے حوالے سے حریت قیادت کی جانب سے دیئے گئے ہفتہ بھر کی پر امن تقریبات کو طاقت کے بل پر ناکام بنانے اور حریت قیادت کے خلاف قدغنوں اور بندشیں عائد کرنے کے عمل کو مسلمہ جمہوری اور انسانی قدروں کی بیخ کنی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ 10 دسمبر کو عالمی سطح پر حقوق انسانی کے طورپرمنایا جاتا ہے، حقوق انسانی کے علمبردار انسانی حقوق کی حفاظت کی بات کرتے ہیں اورہرجگہ اس حوالے سے پروگرام منعقد ہوتے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں بھی حریت قیادت نے ہیومن رائٹس ڈے کے حوالے سے ایک پر امن پروگرام کا اعلان کیا تھا او ر لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ موم بتیاں اور مشعلیں روشن کرکے پر امن طور انسانی حقوق کی پامالیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے اپنی آواز بلند کریں لیکن قابض حکومت پوری حریت قیادت کو نظر بند کردیا، کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے،حریت قائدین اورکارکنوں کو جیلوں میں بھردیا گیا حتیٰ کہ موم بتیاں جلا کر احتجاج کرنا بھی جرم قراردیا گیا۔انہوں نے قابض حکومت کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں اور تشدد سے کشمیریوں کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جا سکتا ۔

مزید : قومی /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد