بجلی کے بغیر معیشت تباہ ہو جاتی ہے،سی پیک نے سندھ میں تھر کے غریب ترین طبقے کو اٹھایا :احسن اقبال

بجلی کے بغیر معیشت تباہ ہو جاتی ہے،سی پیک نے سندھ میں تھر کے غریب ترین طبقے کو ...
بجلی کے بغیر معیشت تباہ ہو جاتی ہے،سی پیک نے سندھ میں تھر کے غریب ترین طبقے کو اٹھایا :احسن اقبال

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک صرف سڑکوں کا منصوبہ نہیں ہے، 2013 میں پاکستان میں بجلی کا بہت زیادہ شارٹ فال تھا،  5 سال میں 12 ہزار میگا واٹس سسٹم میں  شامل ہوا،  بجلی کے بغیر معیشت تباہ ہو جاتی ہے،سی پیک نے سندھ میں تھر کے غریب ترین طبقے کو اٹھایا ہے،تھر کول منصوبے کو ترجیح دی،یہ منصوبہ مقامی لوگوں کے لیے انقلاب ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں ایس ڈی پی آئی کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ  پچھلی بار جب اسی فورم پر خطاب کیا تو توہین عدالت کا نوٹس مل گیا،اب کہو ں گا کہ سب ٹھیک چل رہا ہے،امید ہے کہ ایسا کہنے سے توہین عدالت کا نوٹس نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے بلوچستان کو بہت فائدہ ہوا، 70 سال میں گوادر اور کوئٹہ کے درمیان زمینی رابطہ نہیں تھا، جو کہتے ہیں سڑکیں بنانا ترقی نہیں ہے وہ جا کر گوادر کوئٹہ روڈ دیکھیں،صوبے میں بہت سی یونیورسٹیز  کا قیام ہوا,آج تھر میں انقلاب آچکا ہے تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کی جارہی ہے,سی پیک کے تحت پاکستانی طلباء کو چین بھیجا جارہا ہے.انہوں نے کہا کہ ہم اب نئے ڈیجیٹل معاشی دور کی طرف گامزن ہیں، پاکستان سمیت تمام دنیا غربت کا خاتمہ چاہتی ہے،اس بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان سمیت تمام ملکوں کو مشکلات کا سامنا ہے، ملک کو درپیش اندونی مشکلات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بیرونی مشکلات سے نمٹنے کی بھی ضرورت ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، 15 سال بعد روبوٹس کا دور آ جائے گا، دو سال قبل ہم نے 5 جدید سینٹر بنائے،سی پیک صرف سڑکوں کا منصوبہ نہیں ہے، 2013 میں پاکستان میں بجلی کا بہت زیادہ شارٹ فال تھا،  5 سال میں 12 ہزار میگا واٹس سسٹم میں  شامل ہوا،  بجلی کے بغیر معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک نے سندھ میں تھر کے غریب ترین طبقے کو اٹھایا ہے،تھر کول منصوبے کو ترجیح دی،یہ منصوبہ مقامی لوگوں کے لیے انقلاب ہے،تھر کول کے منصوبے میں خواتین کا مردوں کے شانہ بشانہ ہزاروں فٹ کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے کوئلے کی ڈمپرز کے ذریعے منتقلی قابل فخر کام ہے، تھر میں عورتیں ٹرک چلا رہی ہیں، خاتون ہوتے ہوئے اتنی مشقت کا کام کرنا بہت بڑی بات ہے۔

مزید : قومی