موسمی پرندوں کے پروں کی پھڑ پھراہٹ کیا وہ کسی نئی چھتری کی تلاش میں ہیں؟

موسمی پرندوں کے پروں کی پھڑ پھراہٹ کیا وہ کسی نئی چھتری کی تلاش میں ہیں؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

لندن کی ٹھنڈی فضاؤں سے ”ان ہاؤس“ تبدیلی کی گرما گرم  تجویز کیا آئی چاروں اور کھلبلی مچ گئی، حالانکہ ابھی یہ تجویز بذات خود کہیں ہوا ہی مں معلق ہے اور زمین پر اس کا کوئی وجود نہیں، البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ بعض پرندوں نے اپنے پر جھاڑنے شروع کردیئے ہیں جیسے کسی نئی پرواز کی تیاری کر رہے ہوں۔ پروں کی خفیف سی پھڑ پھڑاہٹ بھی سنی جارہی ہے، ایسے ہی ماحول میں حکومت کی ایک کمیٹی نے جو بنیادی طور پر تو اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کے لئے بنائی گئی ہے حکومت میں شامل حلیف جماعت ایم کیو ایم (پاکستان) کے رہنماؤں سے ملاقات کی حسب روایت کچھ مطالبات ہوئے جن پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا گیا، کیا پتہ غور سے آگے بڑھ کر عملاً بھی کچھ ہو جائے کیونکہ پرانے دبے دبائے اور بھولے بھلائے مطالبات ایسے ہی موسموں میں مانے جاتے ہیں، دادو دہش بھی ایسے ہی حالات میں کسی منطقی انجام تک پہنچتی ہے۔ دیکھا  جائے تو ایم کیو ایم (پاکستان) کے مطالبات کچھ نئے نہیں ہیں یہ وہی مطالبات ہیں جو اس جماعت نے حکومت میں شامل ہوتے وقت کئے تھے اور جو لوگ مذاکرات پر مامور تھے۔  انہوں نے مان بھی لئے تھے لیکن جب چار ووٹوں کی اکثریت سے حکومت تشکیل پاگئی تو پھر یہ مطالبات نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ بس ان کی صدائے بازگشت کبھی کبھار سنائی دینے لگی اب کی بار بھی ایسے ہی ہوا ہے۔  حکومت کی حلیف ایک اور جماعت نے بھی ریت میں سے چونچ نکالی ہے اور اس کے رہنما اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں سپیکر ڈائس کے عین سامنے دھرنا دے کر دھمکی دی ہے کہ اگران کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ حکومت سے الگ ہو جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں  بی این پی (مینگل) کے چار ووٹ ہیں اور بڑی حد تک فیصلہ کن ہیں۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ وہ حکومت کا ساتھ دینے یا چھوڑنے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں اور کیا ان کا دھرنابھی بے نتیجہ رہے گا، لیکن اپنے مطالبات کو سامنے لانے اورمنوانے  کے لئے دباؤ ڈالنے کا یہی موقع ہے۔ اختر مینگل کی جماعت اگرچہ شریک حکومت ہے لیکن اس کے ارکان نے وزارتوں کا بوجھ نہیں اٹھایا  ہوا اس لئے اگر بات آگے بڑھتی ہے تو مینگل کو حکومت چھوڑنے کے لئے سودوزیاں کا حساب کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، کیونکہ یہ حساب کسی کمپیوٹر کا محتاج نہیں محض انگلیوں پر گنتی ہوسکتی ہے۔ ویسے تو اختر مینگل کو حکومت سے وقتاً فوقتاً شکایات پیدا ہوتی رہتی ہیں لیکن اب کی بار ان کا گلہ یہ ہے کہ پتہ نہیں بلوچستان کو کون چلا رہا ہے، آپ جوبھی کہہ لیں گلہ تو بنتا ہے کہ ایک حلیف جماعت جس کے ووٹوں کی وجہ سے وفاقی حکومت قائم  ہے سرے سے ہی بے خبر ہے کہ بلوچستان کے امور میں کس کا کیا کردار ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال ایک بڑے قبائلی سردار اور وفاقی حکومت کے حلیف کو اعتماد میں لینے کے لئے تیار نہیں۔ اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 30نومبر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آواران کے ایک گھر پر چھاپہ مارا اور چار خواتین کو گرفتار کر لیا، 4ماہ پہلے بھی ایک خاتون کو اٹھایا گیا جس پر میں نے احتجاج کیا اب پھر چارخواتین کو گرفتار کرکے لیویز کے حوالے کیا گیا، خضدار شفٹ کیا تین دن عقوبت خانوں میں رکھا، تشدد کیا دو دن پہلے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا ہے، یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ ہمارے لئے حکومت کا اتحادی ہونا اہم نہیں ہم اتحادی ہونے سے بھی اور اس ایوان سے بھی دستبردار ہو سکتے ہیں، جہاں ہماری عزتیں محفوظ نہ ہوں تو ہم وہاں دستبردار ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتہ کہ بلوچستان کو کون چلا رہا ہے، صوبائی حکومت چلا رہی ہے، مرکزی حکومت چلا رہی ہے یا کوئی اور چلا رہا ہے۔ پچھلے کافی عرصہ سے یہی ہو رہا ہے۔  انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کل جو اقتدار میں بیٹھا تھا آج بیمار ہے۔ اس نے پرامن بلوچستان کو آتش فشاں میں تبدیل کیا، اختر مینگل کی تقریر کے بعد اب دیکھنا ہے حکومت کیا ردعمل دیتی ہے، توقع تو یہی ہے انہیں منانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ ”ان ہاؤس“ تبدیلی کے لئے ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مسلم لیگ (ق) کے ایک رہنما کامل علی آغا نے چند روز پہلے کہا تھا کہ پنجاب میں اگر سپیکر چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا دیا جائے تو معاملات بڑی حد تک درست ہوسکتے ہیں  لیکن چودھری صاحب خود کو حکومت کا مضبوط حلیف کہتے ہیں اوران کا کہنا ہے ہم حکومت کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں تحریک انصاف کی حکومت پانچ سال پورے کرے گی اور ہم ہمیشہ ان کے لئے راستے بناتے اور آسانیاں پیدا کرتے رہیں گے۔ حکومت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کے اس بیان کے باوجود مسلم لیگ (ق) کے بعض رہنما اس موقع کو غنیمت جان کر اپنے مطالبات سامنے لا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر دوسری حلیف جماعتوں ایم کیو ایم (پاکستان) اور بی این پی کے لئے پیکج ہوسکتے ہیں تو مسلم لیگ (ق) کے لئے کیوں نہیں، حکومت کی تین بڑی حلیف جماعتوں کی کیفیات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ جماعتیں موقع غنیمت جان کر اپنے مطالبات منظور کرانے کی کوشش کریں گی، کیونکہ ”ان ہاؤس“ تبدیلی کا لوہا جب تک گرم ہوگا تب تک ہی ان مطالبات کی منظوری کا امکان ہے، ویسے ابھی تک تحریک عدم اعتماد کے آثار نہ ہونے کے باوجود بیانات کی چاند ماری سے لگتا ہے کہ ٹھہرے پانیوں میں کنکر پھینک کر لہروں کا اندازہ لگایا جا رہاہے۔ ویسے بعض لوگوں کے نزدیک عدم اعتماد کی تحریک کا یہ موسم نہیں ہے، حالانکہ ایسی تحریکوں کا کوئی موسم نہیں ہوتا، یہ سدا بہار ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار ناسازگار موسموں میں بھی پھول پھل لے آتی ہیں، کیا چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک اعتماد کا کوئی موسم تھا؟ اگرچہ یہ تحریک ناکام ہوگئی، لیکن اس کے بطن سے ڈپٹی سپیکرکے خلاف تحریک عدم اعتماد نے جنم لیا جنہوں نے دھڑا دھڑ صدارتی آرڈی ننسوں کی منظوری دیدی تھی بعد میں اس شرط پر یہ تحریک واپس ہوئی کہ آرڈی ننس واپس لئے جائیں اس لئے اگر چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک لائی جاسکتی ہے تو وزیراعظم کے خلاف ”بے موسمی“ تحریک کیوں پیش نہیں کی جاسکتی۔ البتہ اس سب کچھ کا انحصار اس بات پر ہے کہ موسمی پرندے پر جھاڑ کر دوبارہ اسی چھتری پر بیٹھ جاتے ہیں یا کسی نئی چھتری کو ٹھکانہ بناتے ہیں۔

موسمی پرندے

مزید :

تجزیہ -