" مصباح کو کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں جبکہ اس شخص کو تین مرتبہ پہلے ذمہ داری سے الگ کیا جاچکا " سابق ہیڈ کوچ و سابق چیف سلیکٹر محسن حسن خان بھی قومی ٹیم کی کارکردگی پر پھٹ پڑے

" مصباح کو کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں جبکہ اس شخص کو تین مرتبہ پہلے ذمہ داری سے ...

  



کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ و سابق چیف سلیکٹر محسن حسن خان نے کہا ہے کہ پی سی بی کے سرپرست اعلی کی حیثیت سےوزیراعظم عمران خان کرکٹ میں احتساب کریں۔کراچی پریس کلب کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرکٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین محسن حسن خان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو درست سمت میں چلایا جائے،ون ڈے اور ٹیسٹ ہی اصل کرکٹ ہے جب کہ ٹی ٹونٹی کرکٹ کو بطور تفریح لیا جانا چاہیے۔محسن خان نے کہا کہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹرمصباح الحق کو ایک ساتھ کئی ذمہ داریاں دینا درست نہیں،مصباح کو کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں،وقار یونس کو ایک مرتبہ پھر بولنگ کوچ لگا دیا گیا جبکہ ان کو تین مرتبہ پہلے ذمہ داری سے الگ کیا جاچکا،تین سالہ معاہدے کا کوئی جواز نہیں بنتا،آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹونٹی اور پھر ٹیسٹ سیریز میں عبرتناک شکست کی وجہ گیم پلان نہ ہونا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں محسن حسن خان نے کہا کہ سرفراز احمد کو ٹیسٹ کپتان بنانا ہی غلط تھا،اب سرفراز کو تینوں فارمیٹس سے الگ کرکے زیادتی کی گئی،وہ ایک ٹیلنٹڈ کھلاڑی ہے،سری لنکا کی ٹیم کا دورہ پاکستان اہمیت کا حامل ہے ،بہتر نتائج کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔محسن خان کا کہنا تھا کہ بطور وزیراعظم پاکستان عمران خان کیلئے نیک خواہشات ہیں لیکن عمران خان بطور سرپرست اعلی کرکٹ میں احتساب نہیں کرسکے،میں نے ہمیشہ پاکستان کی عزت کو اوپر رکھا،پاکستان بہت مشکل وقت سے گزر رہا تھا،اب بہتری کی طرف ہے،عمران خان اور میں نے ساتھ کرکٹ کھیلی، عمران خان نے ہمیشہ میرٹ اور حق کی بات کی،لیکن جب سے عمران وزیراعظم بنے ہیں، میں نےاب تک کرکٹ میں میرٹ نہیں دیکھی۔

مزید : کھیل