کرکٹ میچ میں نو بال کا مسئلہ اب نہیں رہے گا کیونکہ ۔ ۔ ۔ فیصلے کا اختیار کس کے سپرد کردیا گیا؟ خبرآگئی

کرکٹ میچ میں نو بال کا مسئلہ اب نہیں رہے گا کیونکہ ۔ ۔ ۔ فیصلے کا اختیار کس کے ...
کرکٹ میچ میں نو بال کا مسئلہ اب نہیں رہے گا کیونکہ ۔ ۔ ۔ فیصلے کا اختیار کس کے سپرد کردیا گیا؟ خبرآگئی

  



لاہور  (ویب ڈیسک) کرکٹ میچز کے دوران نو بال کا عفریت سر اٹھا رہا ہے، اکثر اوقات ایک نو بال میچ کا پھانسہ پلٹ دیتی ہے، پاکستان کے دورہ آسٹریلیا کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ ایک میچ کے دوران امپائرز کی طرف سے 21 نوبالز نہیں دی گئیں۔ اب آئی سی سی کی طرف سے بڑا فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق اب نو بال کا فیصلہ تھرڈ امپائر کرینگے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کرکٹ کی دنیا میں یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ نو بال کا فیصلہ اب فیلڈ میں کھڑے امپائر کی بجائے تھرڈ امپائر یعنی ٹی وی کیمرہ کرے گا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے یہ اعلان بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جانے والے ٹی 20 کے دوران ہونے والی غلطیوں کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اے ایف پی کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس ٹرائل کا آغاز حیدرآباد میں شروع ہونے والے انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹی 20 میچ سے ہو گا۔

دنیا نیوز کے مطابق آئی سی سی کا کہنا تھا کہ اس ٹرائل کے دوران تھرڈ امپائر کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ باؤلر کی ہر گیند پر نظر رکھے اور اگر باؤلر نو بال کرواتا ہے تو تھرڈ امپائر فیلڈ امپائر کو اس بارے میں بتائے گا جو اسے نوبال قرار دے گا۔یاد رہے کہ اگر گیند کرواتے ہوئے باؤلر کا پاؤں کریز سے آگے نکل جاتا ہے تو فیلڈ امپائر اسے نو بال قرار دیتا ہے اور ایسی گیند کو غیر قانونی کہا جاتا ہے اور بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو ایک سکور دیا جاتا ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے ٹیسٹ میچ کے دوران ری پلے میں دکھایا گیا کہ امپائر 21 گیندوں کو نوبال دینے سے قاصر رہے جس کے بعد آئی سی سی پر نو بال دینے کا نیا طریقہ اختیار کرنے کے لیے دباؤ بڑھا۔اس سے قبل آسٹریلین بولر پیٹ کیومنز کی بال پر محمد رضوان کو آؤٹ قرار دے دیا گیا جبکہ ری پلے میں دکھایا گیا کہ بولر کا پاؤں کریز سے باہر تھا۔ آئی سی سی نے کہا ہے کہ اس ٹرائل کے بعد یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ تھرڈ امپائر کے ذریعے نو بال کا فیصلہ دینا کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے اور کیا اس پر عمل درآمد کیا جا سکتا یا نہیں۔

آئی سی سی نے اس سے قبل ’ڈیسیژن ریویو سسٹم‘ کا آغاز کیا تھا جس کے تحت کھلاڑی ری پلے، بال ٹریکنگ، آڈیو اور ہیٹ سینسنگ کے ذریعے امپائر کے فیصلے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

مزید : کھیل


loading...