صوبہ سندھ کے 11 سے زائد اضلاع میں ٹڈی دل کی زرعی فصلوں پر حملے

صوبہ سندھ کے 11 سے زائد اضلاع میں ٹڈی دل کی زرعی فصلوں پر حملے
صوبہ سندھ کے 11 سے زائد اضلاع میں ٹڈی دل کی زرعی فصلوں پر حملے

  



عمرکوٹ (سید ریحان شبیر ) صوبہ سندھ کے گیارہ سے زائد اضلاع میں ٹڈی دل کی زرعی فصلوں پرحملے زراعت کو شدید نقصانات کےبعد سندھ حکومت حرکت میں سندھ میں  ٹڈ ی دل کے خاتمے کے لیے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پاکستان کو سندھ حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں  پر 33 کڑور روپے جاری کر دئیے گئے ہیں ۔

سندھ کےصوبائی وزیرزراعت محمد اسماعیل راھو کاکہناتھاکہ سندھ میں سات سے آٹھ اضلاع ٹڈی دل حملے سے سخت متاثر ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ نقصان ضلع سانگھڑ میں اور ہنگامی بنیاد پر ان اضلاع کے تعلقوں میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کردئے گے ہیں اور آبادگاروں کو ہدایت کی گی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان کنٹرول روم سے فوری رابطہ کریں  ان خیالات کا اظہار محکمہ زراعت صوبائی وزیر محمد اسماعیل راھو نے  ڈپٹی کمشنر آفیس کے دربار ہال میں اظہار کیا انہوں نے بتایا چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاھ نے نوٹس لیا ہےاور سندھ میں   ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے فوری ہنگامی بنیاد پر متاثر ہونے والے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے اپنا بھرپور کردار اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد سے جلد اس آفت سے نمٹا جائے اور اس میں کوئی بھی غفلت لاپرواہی نہ  دیکھائی جائے ۔

صوبائی وزیرنےکہا کہ وہ خودصورتحال کاجاہزہ لینے کےلیے ہنگامی طورپرآئے ہیں  انہوں نے مزید بتایا اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ میں چالیس ٹی میں کام کر رہی ہیں اور پندرہ ٹی میں محکمہ پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمینٹ کے ساتھ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہیں اور حکومت سندھ نے ضرورت کے پیش نظر مزید نئی گاڑیاں خرید لی ہیں جن کو مختلف اضلاع میں ضرورت کے مطابق دے دی گئی ہیں ،اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کچھ گاڑیاں کرائے پر لے کرچھوٹی اسپرے مشینیں فٹ کرکے کام لیا جا رہا ہے اور یہ تمام آپریشن ٹڈی دل کے خاتمے تک ہر صورت جاری رہے گا اور مستقبل کے لیے ٹڈی دل کے خاتمے کےلیے اور ٹڈی دل کی افزائش کو فوری عملددآمد کروایا جا رہا ہے جس کے لیے ایک مربوط پالیسی بنائی جا رہی ہے  ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جن اضلاع میں ٹڈی دل کے حملے سے جو بھی نقصانات ہوئے ہیں اس ٹڈی دل کے آپریشن مکمل ہونے کے بعد ایک ان اضلاع میں کسانوں اور زمینداروں کو رلیف دینے کے لیے ایک مکمل محکمہ ریونیو اور محکمہ زراعت یہ دونوں اپنی سروی رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفیس میں ارسال کریں گے تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جائےانہوں نے یہ بھی بتایا کہ زیادہ تر جو تباہی نومبر سے دوسرے ہفتے سے شروع ہوئی اور یہ 70فیصد ٹڈی دل انڈیا سے آئے ہیں اور 30فیصد جو انہوں نے انڈے دئے ہیں ان کی افزائش ہے جس کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو سندھ حکومت اور زمینداروں اور آبادگاروں کو اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا  اس موقع پرڈپٹی کمشنر عمرکوٹ ندیم الرحمان میمن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع عمرکوٹ میں ٹڈی دل کے حملے سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے اپنا مشترکہ تعاون یقینی بنانا ہو گا ۔

انہوں نے بتایا کہ گندم کی فصل 13ہزار 510، سبزیاں 707 ایکٹر، سرسوں 3915 ایکٹر ، گھاس1575 ایکڑ، اسپنگر2317ایکٹر ٹوٹل 22077 ایکڑ پر نقصان ہوا جبکہ اس کے علاوہ فصلوں پر زمینی اسپرے 24 ستمبر 2019 سے شروع ہوا جس میں 32093 ایکڑ زمین پر کیا گیا اور ساڑھے چھ ہزار ایکٹر زمین جھاز کے زریعے اسپرے 28-11-2019 سے شروع ہوا جو اب تک یہ دونوں اسپرے جاری ہیں  اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زراعت سندھ نے بتایا کہ زمینداروں کو اپنی فصلوں میں موجود ٹڈی دل کی موجودگی کا فوری اطلاع کنٹرول روم میں دینا ہو گا جس کے فوری بعد ہماری ٹی میں فل فور آپریشن شروع کریں گی  انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام سندھ میں کل دو ہزار چھوٹی اسپرے مشینیں مختلف اضلاع کو فراہم کر دی گی ہے اور ضلع عمرکوٹ کے لیے 300میشنین بھجی گی ہیں اور باغات اسپرے کی مشینوں کا آڈر جاری کر دیا گیا ہے اور تمام جلد متاثر ہونے والے آبادگاروں کی زمینوں پر اسپرے کیا جائے گا جس کے لیے تعلقہ سطح پر کلسٹر پوانٹیں بنائی جائیں گی ۔

یہ امر قابل ذکر ہےکہ سندھ کے تقریباً گیارہ اضلاع عمرکوٹ ،سانگھڑ ،تھرپارکر ، میرپورخاص ،خیرپور،نواب شاہ،    سمیت سندھ کے متعدد اضلاع میں گوار،باجرہ ،جوار،گھاس سمیت دیگر فصلوں پر ٹڈی دل کے غول نے حملہ کرکے سینکڑوں ایکٹروں پر مشتمل زرعی  فصلوں پر حملہ کرکے فصلوں کو چٹ کرکےشدید تباہی مچا رکھی ہے سندھ کے چھوٹے زمینداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ ہمارا سب کچھ تباہ ہوگیا ہے حکومت ہمیں رلیف اور مدد فراہم کریں .

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ


loading...