" پی ٹی آئی کے اندر کوئی ایسا مائی کا لعل نہیں جو عمران خان کو چیلنج کر سکے۔ بلاول نے کہہ دیا کہ قانون سازی سے پہلے وزیر اعظم کو تبدیل کرنا پڑے گا لیکن کیا جنرل قمر جاوید باجوہ یہ گوارا کریں گے کہ ۔ ۔ ۔"

" پی ٹی آئی کے اندر کوئی ایسا مائی کا لعل نہیں جو عمران خان کو چیلنج کر سکے۔ ...

  



لاہور(کالم : نسیم شاہد) ابھی یہ راز تو کھل نہیں سکاکہ اپوزیشن کون سی اِن ہاؤس تبدیلی چاہتی ہے؟ کیا اپوزیشن اپنا وزیر اعظم لانا چاہتی ہے یا اس کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف عمران خان کو ہٹا کر کسی اور کو وزیر اعظم لے آئے؟ اگر تو وہ تحریک انصاف سے حکومت چھین کر اپنا وزیر اعظم لانے کی خواہشمند ہے تو پھر زیادہ تردد کی ضرورت نہیں، نہ ہی تحریک انصاف سے اجازت درکار ہے۔

پھر تو مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو جائیں، تحریک عدم اعتماد لے آئیں اور اپنا نیا قائد ایوان بنا لیں، مگر لگتا ہے یہ کام اس سے زیادہ مشکل ہے کہ تحریک انصاف کے اندر سے کوئی دوسرا وزیر اعظم لایا جائے، اسی لئے بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف یہ بیان تو دیتے رہتے ہیں کہ نیا وزیر اعظم آنا چاہئے، لیکن آپس میں اتحاد کر کے نیا وزیر اعظم لانے کی بات نہیں کرتے۔

سو معاملہ اب اِن ہاؤس تبدیلی کے مطالبے تک آ گیا ہے۔ پہلے تو ان اسمبلیوں کو ہی جعلی قرار دیا جاتا تھا، نئے انتخابات کے مطالبے داغے جاتے تھے، مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے کی حمایت بھی اسی نکتے پر کی گئی کہ نئے انتخابات کرائے جائیں، تاہم اب یہ بیانیہ قصہ پارینہ بن چکا ہے اور نیا بیانیہ آ گیا ہے۔

اِن ہاؤس تبدیلی کوئی گڈے گڈی کا کھیل تو ہے نہیں کہ ”چٹ منگنی پٹ بیاہ“ کی صورت میں اس پر عمل کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے اندر کوئی ایسا مائی کا لعل نہیں جو عمران خان کو چیلنج کر سکے۔ عوام کے اندر بھی اس بات کی کوئی حمایت موجود نہیں کہ عمران خان کی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم قبول کر لیں۔ بغیر کسی ”جرم“ کے عمران خان کو ہٹانا کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے اور کتنے وزیر اعظم ماضی میں ایسے بدلے ہیں، جن پر الزام نہ ہو اور ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے انہیں نکال باہر کیا گیا ہو؟

اگر نوازشریف کی جگہ ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے شاہد خاقان عباسی آئے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ نوازشریف سپریم کورٹ کے حکم سے نا اہل ہو گئے تھے۔ اسی طرح اگر سید یوسف رضا گیلانی کی جگہ ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے راجہ پرویز اشرف نے لی تھی تو اس کی وجہ بھی عدالت کا فیصلہ تھا۔

عمران خان تو ان باتوں سے محفوظ ہیں، پھر پی ٹی آئی کے بیانیہ کا اصل منبع بھی وہی ہیں۔ سب یہ بھی جانتے ہیں کہ عمران خان کو اپوزیشن کیوں نکالنا چاہتی ہے؟ اس کی وجہ کوئی خفیہ نہیں۔ وہ اپوزیشن کو کوئی رعایت دینے کے لئے آمادہ نہیں اور اپنے اپوزیشن مخالف بیانیہ کو تبدیل کرنے پر بھی تیار نہیں۔ کل ہی شہباز شریف نے لندن میں جو پریس کانفرنس کی ہے، اس میں عمران خان کے اس پہلو کا ذکر کیا ہے کہ وہ مفاہمت کی بات کرنا ہی نہیں چاہتے، اس لئے انہیں کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟

جبکہ وزیر اعظم عمران خان یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی لٹیرے کو این آر او نہیں دیں گے۔ جب سے چیف آف آرمی سٹاف کی توسیع کے معاملے پر چھ ماہ کی مدت ملی ہے، اب علی الاعلان کہا جا رہا ہے کہ یہ حمایت صرف اسی صورت میں ملے گی جب حکومت انتقامی کارروائیاں بند کرے گی۔ مراد احتساب کے عمل کو روک دیا جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے تو کھل کر کہہ دیا ہے کہ اس قانون سازی سے پہلے وزیر اعظم کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ کیا جنرل قمر جاوید باجوہ یہ گوارا کریں گے کہ ان کی توسیع کے معاملے کو بار گیننگ کے لئے استعمال کیا جائے؟ ظاہر ہے یہ ایک مضحکہ خیز مطالبہ ہے، جو اپوزیشن کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔

ایک جانب اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ عمران خان کو ہم ایک دن بھی مزید نہیں دے سکتے تو دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کی حکومت ایک دن نہیں چل سکتی، اس کی ساری عمارت عمران خان کے کاندھوں پر کھڑی ہے۔ حکومت کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے باوجود اگر عوام اب بھی اس حکومت سے آس لگائے بیٹھے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ عمران خان ہیں، جن کے بارے میں یہ عمومی تاثر موجود ہے کہ وہ کرپٹ نہیں اور پوری دیانتداری سے حالات میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

اپوزیشن اگر اِن ہاؤس تبدیلی کے لئے صرف انہی کو اپنا ہدف بنا لیتی ہے تو کامیابی کا دور دور تک امکان نہیں اور اگر چیف آف آرمی سٹاف کے مسئلے پر حکومت نرمی دکھاتی ہے، عمران خان اپنا بیانیہ تبدیل کر لیتے ہیں، تو یہ ایسی صورت ہو گی، جس کی وجہ سے شاید عمران خان کا مضبوط مؤقف کے ساتھ حکومت کرنا ممکن نہ رہے۔ اپوزیشن شاید سمجھتی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم نے حکومت کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں،

حالانکہ خود اٹارنی جنرل عدالتِ عظمیٰ میں تین ماہ کی بجائے چھ ماہ کی مدت دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ معاملہ چونکہ پارلیمینٹ کا ہے، اس لئے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ اگر چھ ماہ میں قانون سازی نہیں ہوتی تو حکومت عدالتِ عظمیٰ کو یہی جواب دے گی کہ مدت بڑھائی جائے، قانون میں تبدیلی کے لئے اتفاقِ رائے پیدا کیا جا رہا ہے، لیکن یہ بڑی افسوسناک صورت حال ہے کہ ایک حساس نوعیت کے معاملے پربھی سیاست کی جا رہی ہے، حالانکہ اس معاملے کو قومی نقطہئ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور جتنی جلد قانون بنا کر اسے نمٹا دیا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں حکومتوں کی تبدیلی تین وجوہات کی بنا پر ہی عمل میں آئی ہے…… اول: فوج مداخلت کرے۔ دوم: عدلیہ وزیر اعظم کو برخواست کر دے اور تیسرا:سڑکوں پر سول نافرمانی جیسی صورت حال پیدا ہو جائے۔ فی الوقت ان میں سے کوئی صورت بھی موجود نہیں، بس اپوزیشن کی خواہش ہے کہ کسی طرح اس حکومت کو چلتا کیا جائے، حکومت نہیں جاتی تو کم از کم عمران خان کو ضرور گھر بھیج دیا جائے اور ان کی جگہ خواہ کوئی بھی آ جائے، انہیں قابل قبول ہے۔ عدلیہ کے پاس عمران خان کا کوئی ایسا کیس پینڈنگ نہیں جس سے ان کی نا اہلی ہو سکے۔

فوج کے ساتھ تو ان کی گہری مفاہمت ہے اور پہلی بار فوج اور حکومت واضح طور پر ایک ہی پیج پر نظر آ رہی ہیں۔ رہی بات سڑکوں پر احتجاج کی تو اس کا حشر سب نے دیکھ لیا ہے۔ جب مولانا فضل الرحمن کراچی سے آزادی مارچ لے کر اسلام آباد پہنچ گئے، دھرنا بھی دیا، مگر حاصل وصول کچھ نہ کر سکے،کیونکہ عوام میں ان کی پذیرائی موجود نہیں تھی۔

اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ اپوزیشن متحد ہو کر تحریک عدم اعتماد لائے۔ اگر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جا سکتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کیوں جمع نہیں کرائی جا سکتی؟ سادہ اکثریت سے قائم حکومت خود بخود چاروں شانے چت ہو جائے گی۔ یہ آسان سا آئینی راستہ اختیار کرنے کی بجائے کان کو دوسری طرف سے پکڑنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔

سمجھ نہیں آتا جب شہباز شریف یا بلاول بھٹو زرداری ”اِن ہاؤس تبدیلی نا گزیر ہو چکی ہے“ کا بیانیہ جاری کر رہے ہوتے ہیں تو ان کا مخاطب کون ہوتا ہے؟ وہ کسے یہ پیغام دیتے ہیں کہ اِن ہاؤس تبدیلی لائی جائے۔ حال ہی میں جب وزراء، کی ایک کمیٹی بنا کر حکومت نے اپوزیشن سے رابطے کا ٹاسک دیا تو احسن اقبال نے مسلم لیگ (ن) کا موقف بیان کرتے ہوئے یہ مطالبہ رکھ دیا کہ مذاکرات صرف وزیر اعظم سے کئے جائیں گے، وزراء سے نہیں۔

گویا جسے جعلی اور سلیکٹڈ وزیر اعظم کہا جاتا ہے، اسی سے مذاکرات کی شرط بھی رکھی جا رہی ہے۔ اِن ہاؤس تبدیلی لانے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اپوزیشن خود اس پر متحد ہو،لیکن اس کی بجائے وہ کسی غیبی امداد کی منتظر ہے جو عمران خان کو نکال باہر کرے اور ان کی جگہ ایک ایسا وزیر اعظم بٹھا دے جو اپوزیشن کے ہر مطالبے کو مان لے…… لیکن اس قسم کی انہونی کے امکانات تو دور دور تک نظر نہیں آتے۔

۔

نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...