بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹی 20 میچ میں امپائرنگ کے حوالے سے نئی تاریخ رقم ہو گئی

بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹی 20 میچ میں امپائرنگ کے حوالے سے نئی ...
بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹی 20 میچ میں امپائرنگ کے حوالے سے نئی تاریخ رقم ہو گئی

  



حیدر آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے نو بال کے بڑھتے ہوئے تنازع کو دیکھتے ہوئے تھرڈ امپائر کی مدد لینے کی تجویز پیش کی گئی جس پر بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان گزشتہ روز کھیلے گئے ٹی 20 میچ میں عمل کیا گیا اور یوں اس میچ میں نئی تاریخ رقم ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق کرکٹ میں ہر گزرتے دن کیساتھ نو بال کا تنازع بڑھتا جا رہا تھا اور یہ تنازع اس وقت بڑھ گیا جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران امپائر نے 21نوبال نہیں دی تھیں۔فیلڈ امپائرز کی مسلسل غلطیوں اور متاثرہ ٹیموں کے احتجاج کے پیش نظر نوبال کیلئے تھرڈ امپائر کا آزمائشی بنیادوں پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان حیدرآباد دکن میں کھیلے گئے میچ میں پہلی مرتبہ نوبال کیلئے تھرڈ امپائر کی آزمائشی بنیادوں پر خدمات حاصل کی گئیں۔بھارت نے پہلے باؤلنگ کرتے ہوئے 20اوورز میں ایک بھی نوبال نہیں کی جس کی وجہ سے تھرڈ امپائر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

البتہ ویسٹ انڈین باؤلنگ کے دوران 13ویں اوور میں کیسرک ولیمز اس وقت تاریخ کا حصہ بن گئے جب تھرڈ امپائر نے ان کی جانب سے کرائی گئی گیند کو نوبال قرار دیا۔یہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ باقاعدہ طور پر تھرڈ امپائر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نوبال قرار دی۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ اس آزمائشی عمل کے دوران تھرڈ امپائر ہر گیند کی نگرانی کا ذمہ دار ہو گا اور نوبال کیلئے وکٹ پر پڑنے والے اگلے پیر کا جائزہ لے گا۔بیان میں مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ اگر باؤلر کا اگلا پیر مقررہ حدود سے تجاوز کرتا ہے تو تھرڈ امپائر اسی وقت فیلڈ امپائر سے رابطہ کرے گا جو فوراً نوبال قرار دیں گے۔

مزید : کھیل


loading...