عدالتوں میں قتل کے واقعات معمول بن گئے!

عدالتوں میں قتل کے واقعات معمول بن گئے!

  

صوبائی دارالحکومت میں شہر کی سب سے حساس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں سیشن کورٹ میں جیل سے پیشی پر آئے بخشی خانے میں قتل کے الزام میں زیر حراست ملزمان حقیقی بھائیوں 40 سالہ ریاست اور 34 سالہ بلال کو اسی بخشی خانے میں قید قتل کے ایک اور ملزم کفیل نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا، فائرنگ سے افراتفری مچ گئی او رپو لیس اہلکا روں سمیت دیگر لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے بھاگ کھڑے ہوئے، پولیس نے فائرنگ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر کے اسلحہ تو برآمد کر لیا، مگر مقتولین کے ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔پو لیس کے مطابق مقتولین بھائی ریاست اور بلال شاہدرہ کے دو مختلف قتل کے مقدمات میں گزشتہ 9سال سے جیل میں بندتھے جبکہ ملزم کفیل بھی گزشتہ دوسال سے نشترکالونی کے قتل کے ایک مقدمہ میں جیل میں بند تھا قتل ہونے والے ریاست اور بلال کے بھائی طارق نے تھانہ اسلام پورہ میں درج ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ سائل عثمان پارک شاہدرہ موڑ کا رہائشی ہے 16 نومبر کو بوقت 11 بجے دن میرے بھائیوں کو جیل کے دیگر ملزمان کے ساتھ سیشن کورٹ میں ایک ایڈیشنل سیشن جج کے پاس تاریخ پیشی پر لایا گیا،جہاں میرے بھائیوں نے دوران پیشی جج صاحب سے اپیل کی کہ وہ آٹھ نو سال سے جیل میں قید ہیں ان کے کیس کا فیصلہ سنایا جائے جو کہ پچھلی تاریخ پیشی پر بھی انہوں نے یہ ہی استدعا کی تھی جس پر مدعی مقدمہ نے ہمراہ چھ سات ملزمان انہیں دھمکی دی تھی کے تمہارا جلد فیصلہ ہم خود کریں گے جج صاحب کا حکم تھا کہ ملزمان کو دو بجے دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے جو کہ ہم بھی عدالت میں پہنچ گئے اور تقریبا ایک بجے تک عدالت میں مصروف رہے اسی دوران ملزم کفیل بحراست پولیس سامنے آیا جس کو اس کے بھائی اور عارف ولد جمال دین ہمراہ چار پانچ افراد نے اشارہ کرکے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم سے بات ہو چکی ہے،جس پر میرے بھائی ریاست نے کہا ان کی کسی بات کا جواب نہیں دینا تھوڑی دیر بعد سیکیورٹی انچارج نے ملازمین کو حکم دیا کہ ملزمان کو بخشی خانے لے جاؤ جب دوبارہ پکار ہوگی تو انہیں لے آئیں گے،تقریبا ًایک بج کر دس منٹ پر ملازمین نے میرے بھائیوں کو بخشی خانے کی طرف لے جانا شروع کیا جو کہ دیگر زیرحراست ملزمان کے ساتھ ساتھ چل پڑے اور کھانے پینے کی اشیاء جو کہ ہمارے پاس موجود تھیں جمع کروانے کی غرض سے بخشی خانہ کے احاطہ میں داخل ہوگئے،جس پر سکیورٹی انچارج نے ملازمین کو کہا ان کو کیمپ جیل کے بخشی خانے کی بجائے کوٹ لکھپت کے بخشی خانے میں بند کر دو جو کہ ہمارے سامنے ملازمین نے میرے دونوں بھائیوں کو بخشی خانہ کوٹ لکھپت بند کر دیا اچانک بخشی خانہ کوٹ لکھپت کے اندر سے فائر کی آواز آئی جس پر میں اور میرے ہمراہی گواہان وملازمین بخشی خانے کی طرف دوڑے جو ہم نے دیکھا کہ میرا بھائی ریاست سر پر فائر لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا جبکہ میرا دوسرا بھائی بلال بچاؤ بچاؤ کی آواز لگاتا ہوا بخشی خانے کے گیٹ کی طرف بھاگا جس پر ملزم کفیل نے مزید تین فائر کیے ایک فائر بلال کی چہرے پر لگا اور وہ زمین پر گر گیا فائرنگ کی آواز سے پورے بخشی خانے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بخشی خانے کے اندر سے ملزمان کی چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں جس سے بخشی خانے کے اندر اور باہر بد ترین دہشت پھیل گئی، بخشی خانے کے ملزمان کے لواحقین بھی خوف و ہراس میں بخشی خانے کی طرف دوڑے، جنہیں پولیس ملازمین نے روکا اور بعد ازاں پولیس نے بخشی خانے کے اندر گھس کر ملزم کفیل کو بھی گرفتار کر لیا۔آصف بٹ اور اس کے بہنوئی رضوان ولد امان اللہ بٹ و عارف جو کہ مختلف اوقات میں قتل کروانے کی دھمکیاں دے چکے تھے جنہوں نے کفیل ملزم کے بھائی اورپانچ چھ دوستوں سے ہم مشورہ ہو کر ملزم کفیل کو بخشی خانے میں اسلحہ فراہم کر کے میرے دونوں بھائیوں کو قتل کروایا ہے، جو کہ ملزم کفیل اور اس کے بھائی نے آصف بٹ اور رضوان سے میرے بھائیوں کی سپاری لے کر انہیں ناحق قتل کرکے ہمارے ساتھ سخت زیادتی کی ہے۔ آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی نے فائرنگ سے زیر حراست 2 افراد کے جاں بحق ہونے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی نہ صرف رپورٹ طلب کی بلکہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کابھی حکم دیا۔ اطلاع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق احمد خان بھی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیامقتولین کے بھائی محمد طارق کا کہنا تھا کہ میرے بھائیوں کو قتل کروانے کا کیس کے مدعی، بخشی خانہ کا عملہ اور پولیس ملوث ہے،حوالات میں بند ملزم کے پاس بخشی خانہ میں اسلحہ کیسے آ گیا؟پولیس کی ملی بھگت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے، گرفتار ملزم کفیل قدیر کرایہ کا قاتل ہے مدعیوں نے آج صبح جان لیوا دھمکی دی تھی،مقتولین 40 سالہ ریاست اور 34 سالہ بلال دونوں شادی شدہ تھے ریاست کے پانچ بچے اور بلال دو بچوں کا باپ تھا۔پولیس نے دہشت گردی،قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کررکھی ہے۔اس دوہرے قتل کے حوالے سے تفتیشی انسپکٹرالفت کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والے دونوں بھائی تھانہ شاہدرہ کے دو مختلف قتل کے مقدمات میں گزشتہ نوسال سے جیل میں بندتھے جبکہ ملزم کفیل بھی تھانہ نشتر کالونی کے قتل کے ایک مقدمہ میں بند ہو کر اپنے بھائی اور ایک کمسن ملازم سمیت تقریباً دوسال قبل جیل آیا تھا دونوں فریقین کی جیل میں دوستی ہوئی تھی ملزم کفیل نے جیل آنے سے قبل نشتر کالونی کے علاقہ میں ایک باڈی بلڈنگ کلب بنا رکھا تھا قتل ہونے کی وجہ سے وہ خود تو جیل آگیا اور اس دوران اس کی والدہ شدید بیمار ہو گئیں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے جان لیوا بیماری کینسر کا مرض لاحق ہو گیا ہے کفیل کا والد تو پہلے ہی وفات پاچکا تھاجس پر کفیل نے ماں کے علاج معالجے کی غرض سے باڈی بلڈنگ کلب کا سامان فروخت کر کے ماں کا ہر صورت علاج کروانا چاہا اور اس نے کلب کو علاقے کے ایک مقامی شخص کو ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت بھی کر دیا۔ خریدار نے اس کلب کی رقم جب کفیل کو بھجوائی تو اس بات کا جب علم سیشن کورٹ میں قتل ہونے والے ریاست کو ہوا تو اس نے کفیل کو یہ رقم واپس کرنے اورکلب کا خود سے سودا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے چیک کروایا ہے کہ آپ کا ساما ن ساڑھے چار لاکھ روپے سے زائد کا ہے تاہم کفیل نے کہا کہ چار لاکھ مجھے دے دیں اور باقی منافع آپ خود رکھ لیں،کفیل اور ریاست کے درمیان یہ سوداطے پانے پر ریاست نے وہاں اپنے بندے (افراد) بھجواکر سامان اٹھوا لیا طے کی گئی رقم کا جب کفیل نے مطالبہ کیا تو ریاست اور اس کا بھائی بلال ٹال مٹول سے کام لینے لگے،کفیل نے کہا کہ اس کی والدہ سخت بیمار ہیں اور وہ اس کا ہر صورت علاج کروانا چاہتا ہے اسے ہر صورت جلد سے جلد پیسے دیے جائیں مگر ریاست اور بلال پیسے دینے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اسی دوران کچھ عرصے بعد کفیل کی ماں فوت ہو گئی جس کا اسے شدید رنج تھا اور اس نے دونوں بھائیوں سے ماں کی موت کا بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا، وقوعہ کے روز ملزم کفیل نے اپنے بھائی کی مدد سے وہاں پسٹل منگوایا اور دونوں بھائیوں کو قتل کر ڈالا۔

انویسٹی گیشن آفیسر سے جب یہ بات کی گئی کی مدعی کا جو کہنا ہے کہ ملزم کفیل نے اس کے بھائیوں کے مدعیوں سے سپاری لے کر اس دوہرے قتل کی واردات کی ہے اس بارے میں آپ کیا کہیں گے انسپکٹر الفت نے بتایا یہ بات ان کی تفتیش کے مطابق درست نہیں ہے۔ تاہم عدالتواں کی حدود میں یہ پہلا قتل نہیں ہے۔ ابھی چند روز قبل کی با ت ہے کہ گوجرانوالہ کے نواحی علاقے نوشہرہ ورکاں میں 18نومبر کو کچہری میں ہتھکڑی لگے باپ بیٹا کوقتل کردیا گیا،دونوں 4 افراد کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار تھے ملزم فیصل اس کے والد اقبال کو سنٹرل جیل گوجرانوالہ سے نوشہرہ ورکاں میں سول جج مسعود فرمان کی عدالت میں پیشی کیلئے لایا گیا تھا ملزم ابرار عرف ارسلان نے فائرنگ کرکے مار ڈالا اور گرفتاری دیدی، فائرنگ کے بعد کچہر ی میں بھگڈر مچ گئی،فیصل اور اقبال کیخلاف چار افراد توقیر اعظم، محمد اعظم، طا ہر اور سفیان کو قتل کرنے کا مقدمہ گزشتہ سال 30 نومبر کو درج ہوا تھا۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ 22فروری2020کوہی گوجرانوالہ میں سیشن کورٹ کے احاطے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زیرِ حراست ملزم کو قتل کر دیا گیا، ملزم نبیل کو تھانہ لدھیوالہ وڑائچ پولیس عدالت میں پیشی کیلئے لائی تھی۔ سیشن کورٹ لاہور میں ہی تین ماہ قبل 10اگست کو عبوری ضمانت کے لیے آنے والے نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے ایڈیشنل سیشن جج کے کمرے کے باہر فائرنگ کی اور فرار ہوگیا۔ نولکھا برانڈرتھ روڈ کے رہائشی ملزم امجد لطیف نے 2013ء میں گھریلو ناچاقی پر اپنے چچا افضل کو قتل کر دیا تھا اور دو سال سے گرفتار ہو کر جیل میں بند تھا کہ اسے 31جنوری 2018ء کو سیشن کورٹ تاریخ پیشی پر لایا گیا تو اسے پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں اس کے مخالفین مقتول افضل کے بیٹے توقیر نے اپنے ساتھی ملزموں کی مدد سے فائرنگ کرکے احاطہ عدالت میں اسے نہ صرف قتل کر دیا بلکہ ہیڈ کانسٹیبل آصف جو کہ سمن آباد کا رہائشی تھا اور جوڈیشل ونگ میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا اسے بھی اس وقوعہ میں فائرنگ کرکے شہید کر دیا گیا۔ اس وقوعہ کے ذمہ دار ملزمان موقع واردات سے نہ صرف فرار ہو گئے بلکہ ان کے بھاگ جانے پر سیشن کورٹ میں تعینات اہلکاروں اور افسران بالا کی جانب سے سیکیورٹی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ابھی اس وقوعہ کے آثار ختم نہیں ہو پائے تھے کہ 20 فروری کو سیشن کورٹ میں دوسری منزل پر ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے باہر 35 سالہ رانا ندیم اور 26 سالہ اویس اعوان جو کہ دونوں قانون دان تھے انہیں ان کے مخالفین قانون دان ملزم کاشف راجپوت نے اندھا دھند فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا، اندھا دھند فائرنگ کے باعث سیشن کورٹ میں نہ صرف بھگدڑ مچ گئی بلکہ وہاں پر آئے سائلین اور دیگر وکلاء نے زمین پر لیٹ کر، بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں۔ پہلے وقوعہ میں ہتھکڑیوں میں جکڑا ملزم جبکہ اس کی رکھوالی پر تعینات اہلکار دونوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دوسرے واقعہ میں قانون دان جو کہ عدالتوں کی زینت سمجھے جاتے ہیں وہ اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اس سے قبل 7 فروری 2017ء کو سیشن کورٹ کے قریب عبوری ضمانت پر آیا ایک نوجوان مخالفین کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا جبکہ کچھ عرصہ قبل دو حقیقی بھائیوں شانی اور مانی جو کہ شفیق آباد کے رہائشی تھے انہیں دوران سماعت عدالت کے اندر ان کے مخالفین نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ لاہور میں درجنوں ایسے واقعات ہیں جن میں کئی ایک احاطہ عدالت میں اور کئی ایک قریب ترین پیش آئے ہیں اور ان میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ بھی متعدد ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں وکلاء،پولیس اہلکاراورملزمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جوکہ پولیس حکام کی ناقص سیکیورٹی کا منہ بولتاثبوت ہے۔ایسے واقعات پیش آنے کے فوری بعد پنجاب بار کونسل کی کال پر اگلے ہی روز صوبہ بھر کی ماتحت عدالتوں میں ہڑتال کی جاتی ہے۔ صدر لاہور بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلا تنظیمیں کہتی ہیں کہ عدالتوں کی سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے،ناقص سیکیورٹی ہونے کی وجہ سے آئے روز ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جس کی وہ پرزور مذمت کرتے ہیں،یہ بھی کہا جا تا ہے کہ اگر عدالتوں کی سیکیورٹی فول پروف نہ کی گئی تووکلاء راست اقدام پر مجبو ہوجائیں گے۔

آئی جی پولیس انعام غنی نے ان واقعات کے با رے میں بتایا ہے کہ یہ واقعات اپنی جگہ انتہائی افسوس ناک ہیں تاہم انھوں نے تمام واقعات کے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ چند ایک ملزمان جو فرار ہیں ان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں اور انہیں بھی جلد خود کو قانون کے حوالے کرنا پڑے گا۔ ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کا کہنا ہے کہ عدالتوں کی حدود میں قتل و غارت کے واقعات انتہا ئی افسوس نا ک ہیں ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ وکالت مقدس پیشہ ہے اور اس سے وابستہ لوگ دلائل کے ذریعے اپنی بات منوانے میں ملکہ رکھتے ہیں لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے حوالے سے اس قسم کے جھگڑوں کی اطلاعات آتی ہیں۔وکلاء کے جھگڑے ہوں یا دیگر دشمنیاں تو اس کو بجائے جھگڑنے کے گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تو اس نوعیت کے افسوس ناک واقعات کبھی بھی رونما نہ ہوں لیکن فریقین آج تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں جو بالآخرانسانی جانوں کے ضیاع پر منتج ہوتی ہے۔امید ہے بہتر حکمت عملی سے آئندہ ان واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی۔ فائرنگ کے نتیجے میں زیر حراست دو بھائیوں سمیت دیگر جاں بحق ہو نے پر وزیراعلیٰ نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کی۔ ہر سانحہ کے بعد انتظامیہ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے حادثہ پر اظہار افسوس اور مستقبل میں فول پروف سیکیورٹی کی بات کی جاتی ہے مگر کچھ ہی عرصہ بعد اس طرح کا کوئی واقعہ حکومتی سنجیدگی کا پول کھول دیتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت نے متعدد ججز کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے عدالتوں کے باہر سیکیورٹی کے لئے پولیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں جو عام طور پر احاطہ عدالت میں داخل ہونے والوں کی تلاشی لیتے ہیں مگر ان اقدامات کے باوجود آئے روز عدالتوں کے باہر فائرنگ اور قتل کی وارداتیں انتظامیہ کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ عدالتوں کے باہر سیکیورٹی پر مامور اہلکار احاطہ عدالت میں داخل ہونے والے عام شہریوں کی تلاشی تو لیتے ہیں مگر پولیس کے اپنے اہلکاروں اور وکلاء کو چیک نہیں کیا جاتا۔ یہ اسی کوتاہی کا نتیجہ ہے کہ سیشن کورٹ میں عام شہری اسلحہ لے کر جانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے مخالف پر فائرنگ کر دی اب جبکہ ہائی کورٹ نے بھی عدالتوں میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس طلب کیا ہے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ عدالت کے احاطے میں داخل ہونے والے تمام افراد کو بلا تفریق چیک کرنے کے علاوہ عدالتوں میں سیکیورٹی اقدامات کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ملکی تاریخ جہاں وکلا گردی کے کئی افسوس ناک واقعات سے بھری پڑی ہے وہیں وکلا کی عظیم عدلیہ بحالی تحریک سے عدالتوں کو وقار بھی عطا ہوا تھا۔ اس کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وکلا کے جھگڑوں اور تصادم کے کئی قصے ماضی کا حصہ ہیں جن میں بھاری جانی و مالی نقصانات سامنے آتے رہے ہیں، اب بھی کبھی کبھار اس نوعیت کے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں کسی طور مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو سیشن کورٹ اور ضلع کچہر ی حساس مقام ہیں اور وہاں سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے جاتے ہیں کیونکہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث ملزمان کی پیشی روز کا معمول ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہاں دن دیہاڑے اسلحے کے زور پر آئے دن کسی نہ کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جا تا ہے اور سکیورٹی اہلکار ایسے ملزموں کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں۔ آخر وہ اسلحے سمیت کس طرح سیشن کورٹ یا ضلع کچہر ی میں داخل ہوتے ہیں ان کی چیکنگ کیوں نہیں کی جا تی؟ یہ سوالات جواب کے متقاضی ہیں۔ دوسری طرف ضروری ہے کہ سیشن کورٹ اور ضلع کچہر ی جیسے حساس مقام پر سکیورٹی کے مناسب اور سخت اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ عدالت میں داخل ہونے والے ہر فرد کی تلاشی کا بندوبست کیا جائے تو اس قسم کے واقعات کا راستہ روکنے میں خاصی مدد ملے گی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -