مال خانوں کا اسلحہ پولیس ریکوری میں تبدیل!

مال خانوں کا اسلحہ پولیس ریکوری میں تبدیل!

  

بار بار دعوؤں، وعدوں اوردلاسوں کے باوجود پولیس کا قبلہ درست ہوسکا نہ افسران کی طرف سے عوام کو جرائم کے خاتمہ اور پائیدار قیام امن کی دلائی گئی امیدیں کبھی بارآور ثابت ہوئی ہیں خصوصاً اضلاع کی سطح پر ہر نیا تعینات ہونیوالے ڈی پی او اپنے پیش رو کی طرح عوام کو بھرپور یقین دلاتا ہے کہ وہ ضرور ایسا کچھ کردکھائے گا جس سے نہ صرف عوامی توقعات پوری ہوں گی بلکہ جرائم کے آگے ایسا بندھ باندھے گا جسے توڑ پانا جرائم پیشہ عناصر کیلئے ممکن نہیں ہوگا مگر عجب بات ہے کہ ان دعوؤں نے حقیقت کا لبادہ کبھی نہیں اوڑھا نہ جرائم کی وارداتیں کم ہوتی ہیں نہ اکثریتی مجر م گرفت میں آتے ہیں البتہ جن چند ملزمان کو پکڑا جاتا ہے انکی گرفتاری کی غیر معمولی تشہیر ضرور کی جاتی ہے تاکہ عوام آگاہ ہوسکے کہ پولیس کتنی مستعد اور باصلاحیت ہے مگر یہ گردانا نہیں جاتا کہ کتنے مجرم آزادپھر رہے ہیں اور کتنی وارداتوں کو اندھے جرائم قرار دیکر پولیس اپنا مذاق آپ اڑا چکی ہے اور چونکہ کوئی بھی جرم مجرم کے بغیر انجام نہیں پاسکتا لہذاٰ مجرم کی تلاش پولیس کی کلیدی ذمہ داری ہے جس میں ناکامی کا مطلب قطعی یہ نہیں کہ کسی واردات کو اندھا جرم قرار دیکر تاثر دیا جائے کہ اس جرم کے ذمہ داروں کی گرفتاری آسان یا یوں کہئے کہ ممکن نہیں، پولیس کی یہ ترجیحی ذمہ داری ہے کہ جرم چھوٹا یا بڑا مجرم با اثر یا نہایت چالاک وہ اسے ڈھونڈ نکالے، اسکے خلاف ٹھوس شواہد جمع کرے، چالان مکمل کرکے عدالت کو بھجوائے او ر عدالت میں پیشی پر مظلوم یعنی متاثرہ شہری کا ساتھ دے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں ہمارے ہاں کیونکہ گنگا الٹی بہتی ہے لہذاٰ مجرم بروقت پکڑا نہیں جاتااس تک رسائی ممکن ہوبھی جائے تو گرفتاری معمہ بنی رہتی ہے گرفتاری کا عمل بھی پروان پاجائے تو مجرم کو سزا دلوانا قطعی آسان ہوتا بلکہ تفتیش میں ایسے نقائص چھوڑ ے جاتے ہیں جو مجرم کی ضمانت کی راہ ہموار کرتے ہیں اور اکثریتی ایسے کیسز جن میں مجرم کو ضمانت میسر آجائے ان کے فیصلے لٹک جاتے ہیں یوں انصاف کی فراہمی پہلے معطل اور پھر مختلف حربوں سے ناممکن بنادی جاتی ہے ہمارے ہاں مختلف وارداتوں میں مدعی اور ملزم میں صلح کی شرح اس لئے کم نہیں کہ ہمارا معاشرہ فراغ دل اور غلطیاں معاف کردینے کا کلچررکھتا ہے اصل میں اکثریتی وارداتوں کی صلح ملزمان کے دباؤ یا مدعی کے لالچ کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں پہلا کردار پولیس کا ہے جس نے ناامیدی اسقدر بڑھا دی ہے کہ عام آدمی یقین کئے بیٹھا ہے کہ لاکھ شواہد ہوں مگر کیس کا نتیجہ میرے حق میں برآمد ہونیوالا نہیں دو سرا عمل دخل اس دباؤ کا ہے جو خوف برپا کرکے متاثرہ افراد پر ڈالا جاتا ہے اور شریف شہری غنیمت سمجھتا ہے کہ جتنا نقصان ہوچکا اسی پر صبر کرلیا جائے تاکہ مجرم کے ہاتھوں مزید نقصان کا اندیشہ نہ رہے، یہ حالات لاقانونیت کے فروغ کی آخری مثال ہیں کہ ہمارے ہاں انصاف حاصل کرنا ناممکن بنایا جارہا ہے، یہاں یہ کہنا بھی معنی خیز ہے کہ اگراکثریتی پولیس کاروائیاں غیر تسلی بخش اور جرائم کے خاتمہ کی جدوجہد کاحصہ نہیں تو بھلا ملک بھرکی جیلوں میں پڑے لوگ کونسی مخلوق ہیں جنہیں پولیس نے گرفتار کرکے کیسز پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں، تو جواب عرض ہے کہ یہ بھی بڑی بدبختی ہے کہ جن معاشرتی ناسوروں کو جیلوں میں ہونا چاہئے وہ آزاد ہیں اور جن افراد پر چلنے والے کیسز کی تفتیش بھی پوری طرح نمٹائی نہیں گئی وہ جیلوں کی خاک چھان رہے ہیں ہمارے ہاں جیلوں میں زیادہ تر قیدی ایسے ہیں جو فقط شک کی بناء پر گرفتار کئے گئے اور انکے خلاف عدالتوں میں عام طور پر پیش کردہ شواہد بھی جرم ثابت کرنے کیلئے کافی ثابت نہیں ہوتے مگر انہیں پولیس کی پھرتیوں کی سزا کئی کئی سال تک جیل کاٹنے کی صورت میں بھگتنا پڑتی ہے اگر قیدیوں کی تعداد اور سزاؤں کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اکثریتی ملزمان کو شواہد ناکافی ہونے کی بناء پر عدلیہ شک کا فائدہ دیکر رہا کرتی ہے حالانکہ یہ کھلی پولیس نااہلی ہے مگر اس عمل کی اصلاح کی خاطر خواہ فکر نہیں کی جارہی اور بدستور کیسز واردات کے اصل محرکات کی بجائے پولیس کی درج کردہ ذمنیوں پر نمٹتے ہیں جس میں مجرم کافائدہ کیسے دینا ہے یا کیس الجھانے کیلئے کسی بے گناہ کو قربانی کا بکرا کیسے بنانا ہے اسکی بعض پولیس ملازمین خوب مہارت رکھتے ہیں اور یہ مہارت استعمال کیوں اور کب کی جاتی ہے اس کھلے راز سے بھی سبھی آگاہ ہیں جبکہ ہر وہ واردات جس میں جرائم پیشہ عناصر کی طرف سے تھوڑی بہت موثر پلاننگ برتی جاتی ہے ان وارداتوں کا ٹریس ہونا ہمیشہ جوئے شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔ ان حالات میں عوام کو لاحق خوف کی کیفیت کیا ہوگی اسکا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں واردات کے بعد ہر متاثرہ فرد یہ کم سوچتا ہے کہ وہ واردات کا نشانہ کیسے بنابلکہ خود کو زیادہ کوستا ہے کہ وہ گھر سے نکلا ہی کیوں تھا کہ کسی مجرم کے ہتھے چڑھ گیا لہذاٰ یہ سوچ ختم ہورہی ہے کہ آخر وہ محافظ کہاں تھے جنہیں شہریوں کی نگہبانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کیونکر انہیں کھلے گھومتے جرائم پیشہ افراد کی بھنک نہیں پڑتی اور مجرم واردات آناً فاناًانجام دیکر غائب ہو جاتے ہیں جبکہ عوامی شکایت تو یہ بھی ہے کہ اطلاع کے باوجود متعلقہ تھا نہ کی پولیس جائے واردات پر کبھی وقت پر نہیں پہنچتی، دوسری طرف آج شہریوں میں شدید حد تک پائے جانیوالے عدم تحفظ کے احساس کی ایک بڑی وجہ ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے جن میں نہ صرف نہتے شہریوں کو مال و زر سے محروم ہونا پڑرہاہے بلکہ انہیں جانیں بھی گنوانی پڑ رہی ہیں ڈکیت گینگز کے سفاک ارکان کے حوصلوں کو اتنی تقویت حاصل ہے کہ یہ دوران واردات معمولی مزاحمت بھی بہیمانہ تشدد اور فائرنگ کرکے جان سے مار دینے تک سے گریز نہیں کرتے اب تو دوران واردات خواتین سے زیادتی کے کیسز بھی مسلسل سامنے آرہے ہیں جس سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کا ریاستی وعدہ بے جا ء دکھائی دے رہا ہے۔

 اسی طرح اگر اشتہاری مجرمان کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کی گرفتاریاں ہمیشہ معمہ رہی ہیں جو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے جرائم کی وارداتیں انجا م دیتے ہیں مگر اکثریتی وارداتوں میں پولیس یہ بھی تعین نہیں کرپاتی کہ یہ خطرناک مطلوب مجرمان آئے کیسے اور جرم انجام دیکر کہاں جاچھپے ہیں جبکہ حسب معمول سابق ڈی پی اوز کی طرح نوتعینات ڈی پی او شیخوپورہ غلام مبشر میکن نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس کاروائیوں کے ریکارڈ سے آگاہی کی خاطرایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کمر کس رکھی ہے اور بطور ڈی پی او شیخوپورہ چارج سنبھالتے ہی ضلع میں امن کی فضاء اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے کیلئے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاون کا آغا ز کیاجس میں جرائم پر قابو پانے میں پیش رفت سمیت بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ پکڑا، کھلے عام اورسوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش اور شادیوں پر فائرنگ کرنیوالے ملزمان گرفتار کئے جن سے ریکور کئے گئے ہتھیاروں کے اسلحہ لائسنسوں کی منسوخی کیلئے کاروائی انجام دی گئی تاہم لمحہ فکریہ ہے کہ اس اسلحہ ریکوری کی کاروائیوں میں کتنے ایسے ملزم گرفتار ہوئے جنہوں نے اس اسلحہ کو جرائم کی وارداتوں میں استعمال کیا اور آیا کہ اس پولیس اقدام سے جرائم کی شرح میں کتنی کمی واقع ہوئی، بلاشبہ جرائم کی وارداتیں بدستور جاری ہیں، شہری لٹ رہے ہیں، جبری زیادتی کے کیسز تھمنے کا نام نہیں لے رہے، عدم تحفظ کی فضاء اسی طرح قائم ہے، شہری مسلسل خوف کا شکار اور غیر محفوظ ہیں لہذاٰ ڈی پی او شیخوپورہ کی پریس کانفرنس پولیس افسران کی حوصلہ افزائی کی حدتک تو معنی خیز ہے مگر جرائم میں کمی کے حوالے سے حوصلہ افزاء قرار نہیں دی جارہی، واقفان حال کے مطابق گزشتہ دنوں انکشاف ہوا تھا کہ ضلع میں بڑی تعداد میں اسلحہ جعلی لائسنسوں پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کے تحت پولیس کی طرف سے تمام اسلحہ لائسنسوں کی پڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور تمام اسلحہ لائسنسوں کا ریکارڈ ڈسٹرکٹ آرمڈ اسلحہ برانچ سے مانگ بھی لیا گیا مگر تشویشناک امر یہ کہ یہ سلسلہ نیا نہیں اور نہ یہ انکشاف پہلی بار ہوا ہے بلکہ ہر ڈی پی او کے دور تعیناتی میں ایسی رپورٹ سامنے آتی رہی ہیں نہ تو اسلحہ لائسنسوں کی منسوخی کما حقہ ممکن ہوئی نہ غیر قانونی اسلحہ کے استعمال کی تفصیلات میسر آئیں بڑی تعداد میں ایسے اسلحہ لائسنس بھی استعمال ہو رہے ہیں جن کو حاصل کرنیوالے بعض افراد فوت ہوچکے ہیں اور اب ان کی اولادیں ان لائسنسوں کو اپنے نام پر ٹرانسفر کروائے بغیر استعمال کر رہی ہیں حالانکہ قانون کے مطابق مرنے والے شخص کی املاک کی طرح ہی اسلحہ لائسنس کی ٹرانسفر ضروری ہے لہذاٰ کرنا یہ تھا کہ ہر فوت شدہ فرد کی ڈیتھ رپورٹ ہونے پر اسکا اسلحہ ریکارڈ دیکھا جائے اگراسکے نام پر کوئی ہتھیار رجسٹرڈ ہوتو اسے پولیس فوری ریکور کرے اور جب تک یہ اسلحہ مرنیوالے کے کسی اہلخانہ کے نام پر قوائد وضوابط کے تحت منتقل نہ ہو تاکہ یہ اسلحہ کسی دیگر مجرم کے ہاتھ کا کھلونا نہ بن سکے جبکہ عام شہری ایک طرف معاشی بدحالی کی چکی میں پس رہا ہے تو دوسری طرف اسے عدم تحفظ کا احساس کھائے جارہا ہے جو نہ گھر کے باہر محفوظ ہے نہ گھر کے اندر اسے امان حاصل ہے لہذاٰجرائم کی بڑھتی وارداتوں کا سدباب اور انصاف کی فراہمی کی راہ ہموار کرنا پولیس کیلئے کھلا چیلنج بن چکاہے جس سے سرخرو ہوئے بغیر پائیدار قیام کی بات دیوانے کے خواب کے مترادف ہے۔ 

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -