ناجائز اسلحہ کی بھرمار اور بڑھتے ہوئے جرائم

ناجائز اسلحہ کی بھرمار اور بڑھتے ہوئے جرائم

  

معاشرے کی عمارت اخلاقیات، برداشت، رواداری اور محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ خصوصیات سماج سے رخصت ہوجائیں تو وہ تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہوجاتا ہے۔ یہی گھمبیر صورتحال ہمارے معاشرے کو بھی درپیش ہے جہاں عدم برداشت کا رجحان اس سْرعت سے فروغ پارہا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ اس کے باعث تشدد پسند سرگرمیاں بھی سامنے آرہی ہیں۔ لوگوں میں ذرا بھی برداشت نہیں، محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہاتھ اور زبان سے بات کرنے کی بجائے اسلحے کی زبان میں بات کی جاتی ہے اصل میں اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی زبان کو فروغ دینے میں ہمارے ملک کی پولیس کا کام ہے جن کی غفلت و لاپرواہی کے باعث غیر قانونی اسلحے کی بھرمار نے پاکستان میں کئی شدت پسند گروہوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ جب چاہیں عام لوگوں کی زندگیوں کو یرغمال بنالیں۔

ہمارے ملک میں جرائم پیشہ گروہوں اور دہشت گردوں کے پاس اس قدر جدید ہتھیار موجود ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہتھیار ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، چنانچہ پولیس اور دیگر اداروں کے آپریشن اکثر ناکام رہتے ہیں۔

پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں آئین و قانون کے تحت ہتھیار رکھنے کی دیگر ممالک کی طرح عام اجازت نہیں ہے، لیکن یہاں اسلحہ خریدنے کے لیے عموماً لوگوں کی اکثریت کو نہ تو قانونی دستاویز کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی لوگوں کی بڑی تعداد لائسنس بنوانے کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔اب تو پاکستان میں صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ امن کی مالا جپنے والے بعض مذہبی و سیاسی رہنماؤں کے اجتماعات میں کھلے عام غیر قانونی ہتھیاروں کی نمائش کی جاتی ہے۔ عوامی سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن و امان کی بدترین صورتحال کا ذمہ دار ناجائز اسلحے کی بھرمار کو قرار دے رہی ہیں، لیکن اس حوالے سے زبانی کلامی دعوے یا کاغذی کارروائی سے آگے بات نہیں بڑھ سکی ہے۔بچوں کی بڑی تعداد کھلونا ہتھیاروں سے کھیلنا پسند کرتی ہے، یہ کھلونا ہتھیار ہو بہو اصلی ہتھیاروں کی مانند ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان میں پلاسٹک کے چھرّوں کو لوڈ کرنے کا طریقہ بھی اصلی ہتھیار کی طرح ہوتا ہے۔ عام طور پر اس رجحان کا ذمہ دار غیر ملکی فلموں اور وڈیو گیمز کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن روزانہ رونما ہونے والے پرتشدد واقعات اور قتل وغارت گری کی خبریں جو ٹی وی چینلز سے مسلسل نشر ہوتی رہتی ہیں، وہ بھی کافی حد تک اس طرز کی رجحان سازی کا کام کررہی ہیں۔

اب تو بہت سے عام شہری بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ وہ بھی گھر سے باہر مسلح ہو کر نکلیں تاکہ وہ اپنی جان اور مال کی حفاظت کرسکیں۔ یہ سوچ ظاہر کرتی ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے صریحاً غفلت برت رہی ہے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے ناکام ہوچکی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جرائم پیشہ گروہ اور دہشت گردی میں ملوث افراد آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں کرتے پھرتے ہیں اور انہیں کسی کا خوف نہیں ہوتا۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں اکثر پولیس کے تعاون سے بھرپور فائرنگ کی جاتی ہے جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ اخبارات میں ایسی خبریں ہر روز پڑھنے اور سننے کو ملتی رہتی ہیں کہ دولہا کے بھائی نے فائرنگ کی جس سے تین افراد مارے گئے جس میں سینکڑوں لوگ اس فائرنگ کی وجہ سے زخمی ہوئے بعض دفعہ تو گھروں کی چھتوں کے اوپر کھیلنے والے بچے اور خواتین ان ظالموں کی فائرنگ کا شکار ہو کر اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں یہاں انتہائی افسوس کے ساتھ کہ پولیس والوں کا رول اس لئے ان کے خلاف نہیں ہوتا کیونکہ ایسی تقریبات میں فائرنگ کرنے والے لوگ پولیس کے ساتھ پہلے سے ملی بھگت کر کے رکھتے ہیں جب واقع ہوجاتا ہے تو پولیس والے صرف13/20/65 یعنی ناجائز اسلحہ رکھنے اور فائرنگ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرتے ہیں جن کی اگلے روز ضمانت ہو جاتی ہے بڑے شہروں میں رات کو دس گیارہ بجے کے قریب ہونے والی فائرنگ سے نہ صرف لوگوں کی نیندیں خراب ہو جاتی ہیں بلکہ بہت سارے لوگ خوف و ہراس کے باعث ساری ساری رات آنکھوں میں بسر کر دیتے ہیں یاد رہے کہ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشتی پولیس فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی ان علاقوں میں صرف ان لوگوں پر ہاتھ ڈالتی ہے جنہوں نے فائرنگ کرنے کے لئے ان کے ساتھ کوئی ملی بھگت نہیں کر رکھی ہوتی اس طرح یہ کشتی پولیس بی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے 

اس کے علاوہ قتل کی ہونے والی لاتعداد وارداتوں میں ایسے ملزم ناجائز اسلحہ کا استعمال کرتے ہیں. انتہائی افسوس کے ساتھ آج کل محکمہ پولیس والوں نے فیس بک پر اسلحہ پکڑ کر تصویر بنوانے اور واٹس ایپ گروپ پر اپلوڈ کرنے والوں کو تو پکڑ لیتی ہے اور جو سرے بازار سریعام دفعہ 144 کے باوجود اسلحہ لے کر گھوم پھر رہے ہیں۔ حقیقت میں اس لئے کی نمائش کرنے والوں پر پولیس ہاتھ نہیں ڈالتی اور تصویروں کے اوپر حالانکہ وہ اگر مصنوعی پلاسٹک کے پستول سے بنائی گئی تصویر والوں کو پکڑ کر مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ناجائز اسلحے کا خاتمہ اور بڑھتے ہوئے فائرنگ کے واقعات کو روکنے کے لئے سب سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیس محکمہ میں چھپی ہوئی ایسی کالی بھیڑوں کو نکال پھینکے اور جو پولیس اہلکار اسلحہ کلچر کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے تو اسے محکمہ پولیس سے خارج کیا جائے یقین جانے پھر دیکھنا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اس ملک سے ناجائز اسلحہ کا خاتمہ ہوجائے گا بس ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمہ کے ان غیر ذمہ دار افسران کے خلاف حقیقی طور پر عملاًکارروائی کو یقینی بنانا ہو گا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -