کورونا ویکسین اور غریب ممالک

کورونا ویکسین اور غریب ممالک

  

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کووِڈ19 سے بچاؤ کی ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غریب روندے جا سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے اقوام متحدہ کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب امیر ممالک ویکسین متعارف کرانے جا رہے ہیں تو غریب ممالک کو نظر انداز کئے جانے کا خطرہ موجود ہے، ایسی دُنیا ناقابل ِ قبول ہے جہاں امیر اور طاقت ور طبقہ ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غریبوں کو نظر انداز کر دے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک کنسورشیم تشکیل دیا گیا ہے،جس کا مقصد ویکسین کی دُنیا بھر میں مساوی تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔

آج(7دسمبر) سے برطانیہ میں ویکسین کے انجکشن لگانے کا عمل شروع ہو رہا ہے، ابتدا میں آٹھ لاکھ انجکشن دستیاب ہیں جو نیشنل ہیلتھ سروس(این ایچ ایس) کے عملے کو لگائے جائیں گے،اس کے بعد80 سال سے زیادہ عمر کے بزرگوں کی باری آئے گی، امریکہ کی تین کمپنیوں نے بھی اگرچہ ویکسین تیار کر لی ہے تاہم ابھی تک ویکسی نیشن پروگرام شروع کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا، امکان ہے کہ اِس ماہ کے آخر تک یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا، تین سابق صدور، بش، کلنٹن اور اوباما نے اعلان کیا ہے کہ وہ ویکسین لگوانے کے لئے تیار ہیں تاکہ عام لوگوں میں ہچکچاہٹ دور ہو اور وہ اعتماد کے ساتھ ویکسین لگوانے کے تیار ہو جائیں۔ ترک صدر بھی ایسا ہی اعلان کر چکے ہیں، ترکی اپنی ویکسین بنا رہا ہے، روس میں بھی محدود پیمانے پر بعض گروپوں کو ویکسین لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے،پاکستان کی حکومت نے کورونا ویکسین کی فنڈنگ کے لئے ورلڈ بینک سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان عالمی بینک سے15کروڑ30 لاکھ ڈالر کا طلب گار ہے،جس کے لئے باضابطہ درخواست دی جائے گی، امداد کی منظوری کے بعد ویکسین کی بکنگ کرائی جائے گی، فنڈنگ کے لئے عالمی بینک سے بذریعہ ویڈیو لنک ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے۔ پاکستان کورونا ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے براہِ راست رابطے بھی کر رہا ہے۔ حکومت اعلان کر چکی ہے کہ پاکستان میں ویکسین اگلے سال کی پہلی سہ ماہی(جنوری تا مارچ) میں دستیاب ہوسکے گی۔

ویکسین کی تیاری کے مراحل طے کرنے میں کم و بیش ایک برس لگ گیا ہے، تجربات سے لے کر تیاری تک بڑے وسائل صرف ہوئے ہیں،جن کمپنیوں نے یہ ویکسین تیار کی ہے اُنہیں اپنی حکومتوں کا مکمل تعاون بھی حاصل تھا، ہزاروں رضا کار بھی اپنی خوشی سے اپنے آپ کو تجربات کے لئے پیش کر رہے تھے، تب کہیں جا کر اگر ویکسین تیار ہوئی ہے،مختلف کمپنیوں کی طرف سے توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی تیار کردہ95فیصد کامیاب رہے گی تو لامحالہ ویکسین تک رسائی پہلے اُنہی ممالک کے خوش نصیب شہریوں کو حاصل ہو گی جن کی حکومتوں اور کمپنیوں نے تحقیق و جستجو کے عمل کا سب سے پہلے آغاز کیا، اپنا سرمایہ اور محنت صرف کی،اِس لئے سرمائے اور محنت کی یکجائی کے بعد جو کامیابی حاصل ہوئی ہے اس تک رسائی میں پہل بھی اُنہی ممالک کا حق ہو گا۔اگرچہ عالمی ادارہئ صحت کے سربراہ نے غریب ممالک کی بات بہت بروقت کی ہے اور بجا طور پر یہ کہا ہے کہ ایسی دُنیا قابل ِ قبول نہیں جہاں امیروں کو تو مہلک بیماری سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہو اور غریب اس تک رسائی نہ پا سکیں، لیکن عملی طور پر ویکسین کے حصول میں وہی ملک کامیاب ہوں گے جو اس کی خریداری کے لئے رقوم خرچ کریں گے، ان ممالک میں وہ ملک بھی شامل ہیں جن کا ویکسین کی تیاری میں تو کوئی حصہ نہیں، لیکن وہ اس کی خریداری کے لئے رقم خرچ کر سکتے ہیں۔ظاہر ہے جن کمپنیوں نے دن رات محنت کر کے کامیابی حاصل کی ہے وہ اس سے نفع بھی کمانا چاہیں گی یہ کمپنیاں کوئی خیراتی ادارے نہیں ہیں وہ ادویات کی تیاری پر جو رقوم خرچ کرتی ہیں ان کی تجارت سے منافع کمانا اپنا حق سمجھتی ہیں،اِس لئے امیر ممالک بھی جلد سے جلد ویکسین کی بکنگ کرا گذریں، ہمارے جیسے ممالک جنہوں نے عالمی اداروں سے قرض یا امداد لے کر یہ ویکسین خریدنی ہے اُسی صورت میں ویکسین کی برکات سے مستفید ہو سکتے ہیں اگر اُنہیں فوری طور پر قرض یا امداد میسر  آ جائے۔ عالمی ادارہئ صحت نے ایسے ہی ممالک کے حق میں بات کی ہے اور توقع کی جانی چاہئے کہ اُن کی آواز کو سنا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے کورونا کی وبا کے آغاز کے ساتھ عالمی ادارہئ صحت کی کارکردگی پر نکتہ چینی شروع کر دی تھی اور کہا تھا کہ اس نے وائرس کے پھیلاؤ کے ضمن میں چین کی پالیسی کو آگے بڑھایا، مسلسل نکتہ چینی کے بعد انہوں نے ڈبلیو ایچ او کی امداد بھی بند کر دی تھی۔اگرچہ امریکہ میں مخالفانہ آوازیں بھی اٹھیں اور لوگوں نے صدر ٹرمپ کے اقدام کو پسند نہیں کیا، لیکن صدر جو کرنا چاہتے تھے کر گذرے اور انہوں نے اِس ضمن میں عوام کی رائے کو چنداں اہمیت نہ دی۔ نو منتخب صدر اقتدار سنبھال کر اس فیصلے کو تبدیل کرنے کا عندیہ  دے رہے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان عالمی بینک سے جس رقم کا طلب گار ہے وہ کب  میسر ہو گی اور کیا اتنی ہی رقم ملے گی جتنی طلب کی گئی ہے یا کم و بیش، حکومت کے اعلان کے مطابق پاکستان میں اگر ویکسین اگلے برس کی پہلی سہ ماہی میں دستیاب ہو گئی تو پھر بھی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا، کیونکہ یہ مہنگی ویکسین غریب طبقات تک تو آسانی سے نہیں پہنچ سکے گی یہ غریب تو پہلے سے موجود ہسپتالوں میں ادویات آسانی سے حاصل نہیں کر سکتے،اُنہیں یہ مہنگی ویکسین کوں لگائے گا، آج تک تو کورونا کا ٹیسٹ ہی ہر کسی کے لئے فری نہیں ہو سکا اور پرائیویٹ لیبارٹریوں نے مہنگے ٹیسٹ کر کے اربوں روپے کما لئے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے ایسے میں کون توقع کر سکتا ہے کہ مہنگی ویکسین اُن لوگوں کو آسانی سے دستیاب ہو سکے گی، جو اس کے لئے رقوم خرچ نہیں کر سکتے، تاہم حکومت کو ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا، ابتدائی طور پر تو وہ ڈاکٹر اور طبی عملہ ہی ویکسین کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا جو کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال میں صف ِ اول میں کھڑا ہے۔ بڑی تعداد میں ڈاکٹر اور دوسرا طبی عملہ دوسروں کا علاج کرتے کرتے خود مرض سے متاثر ہو گیا اور یوں بہت سے ڈاکٹر زندگی کی بازی ہار گئے اِس لئے اُنہیں سب سے پہلے ویکسین لگانی چاہئے، پھر ایسے طبقات اس کے مستحق ہوں گے جو ”رسک ایج گروپ“ میں آتے ہیں، اس کے بعد درجہ بدرجہ مختلف طبقات پر توجہ دینا ہو گی، ہمارے ہاں عموماً ایسی دوائیاں نایاب ہو جاتی ہیں جن کی طلب بڑھ جاتی ہے، پھر ان کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں جیسے آ ج کل نمونیا کی ویکسین کی قلت ہے،کیونکہ عام خیال یہ ہے کہ جو لوگ کورونا سے متاثر ہوتے ہیں اُن پر نمونیہ کے حملے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اب اگر ویکسین کی دستیابی کے بعد ہم ایسے ہی تلخ تجربات سے گذریں گے، تو محرومین کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ بہرحال امید کرنی چاہئے کہ اگر جاں گسل تجربات اور جدوجہد کے بعد ویکسین میسر آئی ہے تو یہ کسی نہ کسی طرح غریبوں تک بھی پہنچ ہی جائے گی چاہے اُن کی باری بہت بعد میں آئے۔ ڈبلیو ایچ او جیسے ادارے اگر غریب ممالک کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں، تو اُن کی آواز پر کان دھرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -