صاف گو سیاست دان شیر باز مزاری کا انتقال

صاف گو سیاست دان شیر باز مزاری کا انتقال

  

جدوجہد، صاف گوئی اور شرافت کی ایک اور علامت سردار شیر باز مزاری بھی دُنیا سے رخصت ہو گئے، ان کی عمر90سال تھی، وہ کافی عرصہ سے علیل اورگوشہ نشین تھے۔ ان کی رہائش کراچی میں تھی،وہاں سے ان کی میت آبائی گھر روجھان(ڈیرہ غازی خان) لائی گئی جہاں نمازِ جنازہ کے بعد آبائی قبرستان میں تدفین ہوئی۔وہ ایک باکردار اور باوقار سیاست دان تھے۔نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر بھٹو دورِ حکومت میں پابندی لگائی گئی تو نیپ کی باقیات کو ان کے زیر قیادت بننے والی نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی(این ڈی پی) نے تحفظ دیا، اور پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے دوران انہوں نے تاریخی کردار ادا کیا۔ بیگم نسیم ولی خان بھی ان کے ساتھ جدوجہد میں شریک رہیں۔

سردار شیر باز مزاری  ایک بڑے بلوچ قبیلے کے چشم و چراغ تھے، ان کے برادر اکبر میر بلخ شیر مزاری اس کے باقاعدہ سربراہ تھے، لیکن شیر باز مرحوم کا اثرو رسوخ بھی وسیع تھا۔انہوں نے روایتی سرداروں کی طرح روایتی سیاست نہیں کی، وہ ایک آزاد منش انسان تھے، آزادانہ اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے فیلڈ مارشل  ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو سردار شیر باز مزاری ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔70ء کے انتخابات میں آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور یحییٰ خان کی فوجی کارروائی کے خلاف آواز بلند کرنے کا شرف حاصل کیا۔ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے ذاتی دوستی کے باوجود ان کے طرزِ سیاست سے اتفاق نہ کر سکے،اور ان کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کیا۔مارشل لا کے نفاذ کے بعد خان عبدالولی خان اور ان کے رفقا رہا ہوئے تو انہوں نے اے این پی کے نام سے اپنی پارٹی کی تشکیل کی۔سردار شیر باز مزاری  کی پارٹی قائم رہی لیکن اے این پی کے لئے راستہ چھوڑتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ شیر باز مزاری عملی سیاست ہی سے الگ تھلگ ہو گئے۔ صحت کی خرابی نے بھی ان کی نقل و حرکت محدود کر دی۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔پاکستانی سیاست میں ان کا کردار یاد رکھ جائے گا اور ان کے لیے حرف ہائے تحسین کا باعث بنا رہے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -